اہلبیت کے دشمنوں سے تبرا ضروری ہے – امام محمد باقر علیہ السلام
ایک روایت شیخ صدوق نے الفقیہ میں اور شیخ طوسی نے التهذیب میں سندِ صحیح کے ساتھ اسماعیل جعفی سے نقل کیا ہے:
وَمَا رَوَاهُ فِي ٱلْفَقِيهِ وَٱلتَّهْذِيبِ فِي ٱلصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ٱلْجُعْفِيِّ، قَالَ:
قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ): رَجُلٌ يُحِبُّ أَمِيرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ (عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ) وَلَا يَتَبَرَّأُ مِنْ عَدُوِّهِ، وَيَقُولُ: هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّنْ خَالَفَهُ؟
فَقَالَ: هَذَا مُخَلِّطٌ، وَهُوَ عَدُوٌّ، فَلَا تُصَلِّ خَلْفَهُ، وَلَا كَرَامَةَ، إِلَّا أَنْ تَتَّقِيَهُ.
اردو ترجمہ
اور اس روایت کو شیخ صدوق نے الفقیہ میں اور شیخ طوسی نے التهذیب میں سندِ صحیح کے ساتھ اسماعیل جعفی سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا:
ایک شخص ہے جو امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے، لیکن ان کے دشمن سے براءت (بیزاری) اختیار نہیں کرتا، اور یہ کہتا ہے کہ وہ (امیرالمؤمنین) مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں جو ان کی مخالفت کرتے ہیں؟
تو حضرت نے فرمایا:
یہ شخص فکری طور پر گمراہ ہے، اور وہ دشمن ہے؛ لہٰذا اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اس کے لیے کوئی عزت و کرامت نہیں، مگر یہ کہ تم اس سے تقیہ کرو (یعنی خوف یا مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے)۔


