جنت کے درخت کے پتوں پر ابوبکر صدیق،عمر فاروق اور عثمان ذوالنورین لکھا ہے – حدیث موضوع "ابن جوزی”
بَاب فِي فَضَائِل الثَّلَاثَة أبي بكر وَعمر وَعُثْمَان فِيهِ أَحَادِيث: الحَدِيث الأول: أَنبأَنَا عبد الرحمن بن مُحَمَّد الْقَزاز قَالَ أَنبأَنَا أَحْمد بن عَليّ بن ثَابت قَالَ أَنْبَأَنَا الْقَاضِي أَبُو الْفَرَجِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الشَّافِعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَالِكٍ القطيعى قَالَ حَدثنَا أَحْمد ابْن مُحَمَّدٍ الْقَاضِي قَالَ حَدَّثَنَا الاحْتِيَاطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ عَن جرير بن عبد الحميد عَنْ لَيْثِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلا مَكْتُوبٌ عَلَى وَرَقَةٍ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عُمَرُ الْفَارُوقُ عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ ".
اسْم الاحتياطى الْحسن بن عبد الرحمن بن
عباد أَبُو عَليّ.
قَالَ أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ: هَذَا بَاطِل مَوْضُوع وَعلي بن جميل كَانَ يضع الحَدِيث لَا تحل الرِّوَايَة عَنْهُ بِحَال.
ہمیں عبد الرحمن بن محمد القزاز نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں احمد بن علی بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں قاضی ابو الفرج محمد بن احمد بن الحسن الشافعی نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں ابو بکر احمد بن جعفر بن مالک القطیعی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں احمد بن محمد القاضی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں الاحتیاطی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں علی بن جمیل نے جریر بن عبد الحمید سے، وہ لیث سے، وہ مجاہد سے، وہ ابن عباسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے ہر پتے پر لکھا ہوا ہے:
محمد رسول اللہ، ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان ذو النورین۔”
الاحتیاطی کا نام:
الاحتیاطی کا نام حسن بن عبد الرحمن بن عباد ابو علی ہے۔
ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال:
ابو حاتم بن حبان نے کہا:
یہ حدیث باطل اور من گھڑت ہے، اور علی بن جمیل حدیثیں گھڑا کرتا تھا، اس سے کسی حال میں بھی روایت کرنا جائز نہیں۔
الكتاب: الموضوعات
المؤلف: جمال الدين عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي (ت ٥٩٧هـ)
ضبط وتقديم وتحقيق: عبد الرحمن محمد عثمان
الناشر: محمد عبد المحسن صاحب المكتبة السلفية بالمدينة المنورة
الطبعة: الأولى
جـ ١، ٢: ١٣٨٦ هـ – ١٩٦٦ م
جـ ٣: ١٣٨٨ هـ – ١٩٦٨ م،ج 1 ص 337
https://shamela.ws/book/882/334
