مسلک اہلسنت میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور اہلبیتؑ سے متعلق آثار کا مطالعہ ممنوع ہے
ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے اہلِ بیتؑ، خصوصاً امیرالمؤمنین حضرت علیؑ پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ حضرت علیؑ نے عائشہ کے خلاف جنگ کی تھی۔ اسی بنا پر ابن تیمیہ نے امیرالمؤمنینؑ سے منسوب تمام روایات کو من گھڑت قرار دیا، اور اہلِ سنت کے چاروں فقہاء نے بھی اہلِ بیتؑ سے کنارہ کشی اختیار کی۔
کیونکہ حضرت علیؑ کی روایات، خطبات اور خطوط عائشہ اور معاویہ کے خلاف دلائل فراہم کرتے ہیں اور ان لوگوں کی سیرت کو بے نقاب کرتے ہیں جنہوں نے رسولِ اسلامؐ کے بعد دین کو اس کے اصل راستے سے ہٹا دیا۔ اسی وجہ سے یہ لوگ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے نفرت کرتے ہیں، ان سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور یہاں تک فتویٰ دیتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی روایات، خطوط، خطبات اور فیصلوں کو پڑھنا حرام ہے، اسی طرح امام سجادؑ کی توحیدی روایات کو بھی پڑھنا حرام قرار دیتے ہیں۔
وہابی عالم حسن آل سلمان نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "کتب حذر منها العلماء” (وہ کتابیں جن سے علماء نے خبردار کیا ہے)۔ اس میں ان کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں اہلِ سنت کو نہیں پڑھنا چاہیے، اور بعض کتابوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں پڑھنا شراب پینے کی طرح حرام ہے۔ ان میں "نہج البلاغہ” (جو امیرالمؤمنینؑ کے اقوال پر مشتمل ہے) اور "صحیفہ سجادیہ” (جو امام سجادؑ کی دعاؤں پر مشتمل ہے) سمیت اہلِ بیتؑ سے متعلق دیگر آثار بھی شامل ہیں، جن کے مطالعہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
⁉️ یہ کیسی پیروی ہے کہ آپ نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے متعلق آثار کے مطالعہ کو ہی ممنوع قرار دے دیا ہے؟





Post Comment