شمر بن ذی الجوشن مخالفین کے نزدیک امت کے بہترین افراد میں شامل ہے

❌ کیا آپ جانتے ہیں کہ شمر بن ذی الجوشن، جو امام حسین علیہ السلام کا قاتل ہے، مخالفین (اہل سنت) کے نزدیک بہترین لوگوں میں سے اور ایک "ثقہ” (قابلِ اعتماد) راوی شمار ہوتا ہے؟!

 اہل سنت کے علماء جیسے بخاری، مسلم، احمد اور دیگر حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے:

 حدیث:
خَيْرُكُم قَرْنِي، ثمَّ الَّذين يَلُونَهم، ثمَّ الَّذين يَلُونَهم
 "تم میں سب سے بہترین میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں۔”
(یعنی صحابہ، تابعین اور تبع تابعین)

 الكتاب: تاج العروس من جواهر القاموس
المؤلف: محمّد مرتضى الحسيني الزَّبيدي
تحقيق: جماعة من المختصين
من إصدارات: وزارة الإرشاد والأنباء في الكويت – المجلس الوطني للثقافة والفنون والآداب بدولة الكويت
عدد الأجزاء: ٤٠
أعوام النشر: (١٣٨٥ – ١٤٢٢ هـ) = (١٩٦٥ – ٢٠٠١ م)
وصَوّرتْ أجزاءً منه: دار الهداية، ودار إحياء التراث
جلد: 35، صفحہ: 532
https://shamela.ws/book/7030/18730

اہل سنت کے علماء اس حدیث کی بنیاد پر یہ مانتے ہیں کہ صحابہ تمام مسلمانوں میں سب سے افضل ہیں، اور ان کے بعد تابعین، اور پھر تبع تابعین۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ شمر بن ذی الجوشن، جو امام حسین علیہ السلام — جنتی جوانوں کے سردار — کا قاتل ہے، مخالفین (اہل سنت) کے نزدیک کس مقام پر ہے؟

 ابن عساکر اپنی کتاب تاریخ دمشق میں اُن لوگوں کا تعارف پیش کرتے ہیں جو دمشق میں آئے اور حدیث روایت کی۔
وہ شمر کو بھی راویوں میں شامل کرتے ہیں اور اسے تابعی کہتے ہیں۔ اور اکثر صحابہ سوانح نویسوں کی طرح وہ شمر کے والد ذی الجوشن کو صحابی شمار کرتے ہیں۔

 نقل: شمر بن ذی الجوشن واسم ذی الجوشن شرحبیل ویقال عثمان بن نوفل ویقال أوس بن الأعور أبو السابغة العامری ثم الضبابی حی من بنی کلاب کانت لأبیه صحبة وهو تابعی أحد من قاتل الحسین بن علی وحدث عن أبیه روى عنه أبو إسحاق السبیعی ووفد على یزید بن معاویة مع أهل بیت الحسین

> شمر بن ذی الجوشن، جن کا نام شرحبیل، عثمان بن نوفل، یا اوس بن الأعور کہا جاتا ہے، قبیلہ بنی کلاب سے تھے۔
 اس کا والد صحابی تھا اور شمر تابعی تھا
 یہ وہی شمر ہے جو امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا!
اس نے اپنے والد سے روایت کی اور ابو اسحاق السبیعی نے اس سے روایت کی۔
وہ یزید بن معاویہ کے دربار میں اہل بیت کے ساتھ پیش ہوا، اور اسی نے امام حسین علیہ السلام کا سر قلم کیا۔

الكتاب: تاريخ مدينة دمشق، وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل أو اجتاز بنواحيها من وارديها وأهلها
المؤلف: أبو القاسم علي بن الحسن ابن هبة الله بن عبد الله الشافعي المعروف بابن عساكر (٤٩٩ هـ – ٥٧١ هـ)
دراسة وتحقيق: محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي
الناشر: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع
عام النشر: ١٤١٥ هـ – ١٩٩٥ م
جلد: 23، صفحہ: 186

https://shamela.ws/book/71/10350—

☑️ ابن عساکر کو ذھبی نے "ثقة الدین”، "الحافظ”، اور "الامام” جیسے القابات دیے ہیں:
"الامام العلامة الحافظ الکبیر المجود،محدث الشام، ثقة الدین
ابْنُ عَسَاكِرَ ثِقَةُ الدِّيْنِ أَبُو القَاسِمِ الدِّمَشْقِيُّ *

الإِمَامُ، العَلاَّمَةُ، الحَافِظُ الكَبِيْرُ، المُجَوِّدُ، مُحَدِّثُ الشَّامِ، ثِقَةُ الدِّيْنِ

 الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين، محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م
جلد 20، صفحہ 554
https://shamela.ws/book/10906/12882

 صفدی نے بھی ابن عساکر جیسا ہی بیان دیا ہے:
شمر بن ذی الجوشن أبو السابغة العامری ثم الضبابی حی من بنی کلاب کانت لأبیه صحبة وهو تابعی أحد من قاتل الحسین رضی الله عنه وحدث عن أبیه روى عنه أبو إسحاق السبیعی وفد على یزید مع أهل البیت وهو الذی احتز رأس الحسین

> شمر بن ذی الجوشن، قبیلہ بنی کلاب سے تھا۔
 اس کا والد صحابی تھا، اور وہ تابعی تھا۔
 وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔
اس نے اپنے والد سے روایت کی، اور ابو اسحاق السبیعی نے اس سے روایت کی۔
وہ اہل بیت کے ساتھ یزید کے دربار میں آیا۔
اور وہی تھا جس نے امام حسین کا سر قلم کیا۔

 الكتاب: الوافي بالوفيات
المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (ت ٧٦٤هـ)
المحقق: أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى
الناشر: دار إحياء التراث – بيروت
جلد 16، صفحہ 105
https://shamela.ws/book/6677/4164

✅ اب اگر ہم آغاز میں بیان کی گئی حدیث اور اہل سنت کی اس سے لی گئی تشریح کو سامنے رکھیں — کہ تابعین تمام مسلمانوں میں بعد از صحابہ افضل ہیں — تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

> اہل سنت کے نظریہ کے مطابق، شمر بن ذی الجوشن تابعی ہونے کی وجہ سے تمام امت اسلامیہ میں صحابہ کے بعد بہترین لوگوں میں سے شمار ہوتا ہے!
اور اس کے اقوال، روایات، اور کردار کو موثق، عادل اور سچا راوی سمجھا جاتا ہے — باوجود اس کے کہ وہ امام حسین علیہ السلام، فرزند رسول، کے قاتلین میں شامل تھا!
#شمر