قتل امام حسین علیہ السلام کے پیچھے ثقیفہ کی سازش

شمر بن ذی الجوشن کا امام حسین علیہ السلام کے قتل کی تاویل پر عمر بن الخطاب کے فتویٰ کو سہارا بنایا!!
اہل سنت کے ہاں روایات موجود ہیں کہ حاکم کا حکم قابل احترام ہے، چاہے وہ ظالم و جابر ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اگر لوگوں کا مال لے لے، انہیں کوڑے مارے، ان کی عزتوں میں مداخلت کرے، فحشا و منکرات کا مرتکب ہو… تب بھی امت پر لازم ہے کہ اس کے حکم کو تسلیم کرے، اس کے خلاف قیام نہ کرے اور سب اس کے مطیع رہیں۔ یہ روایات اہل سنت کے ہاں متواتر ہیں۔
مثال کے طور پر، روایت ہے "سوید بن غفلہ” سے کہ وہ کہتا ہے: عمر بن خطاب نے مجھ سے کہا:


٥٤- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: ” يَا أَبَا أُمَيَّةَ، إِنِّي لَا أَدْرِي، لَعَلِّي لَا أَلْقَاكَ بَعْدَ عَامِي هَذَا، فَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكَ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعْ لَهُ وَأَطِعْ، وَإِنْ ضَرَبَكَ فَاصْبِرْ، وَإِنْ حَرَمَكَ فَاصْبِرْ، وَإِنْ أَرَادَ أَمْرًا يُنْقِصُ دِينَكَ، فَقُلْ: سَمْعًا وَطَاعَةً، دَمِي دُونَ دِينِي، وَلَا تُفَارِقِ الْجَمَاعَةَ "

اے ابا امیہ! ہو سکتا ہے تم میرے بعد زندہ رہو، پس ہر اُس امام کی اطاعت کرنا جو حاکم بنے، چاہے وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو! اگر وہ تمہیں مارے، تو صبر کرو؛ جو حکم دے، اس پر صبر کرو؛ اگر وہ تمہیں محروم کرے، تب بھی صبر کرو؛ اگر وہ تمہیں ایسا حکم دے جو تمہارے دین میں نقصان کا سبب بنے، تو کہو: "سمعاً و طاعۃً! میں سنوں گا اور اطاعت کروں گا، میری جان جائے مگر دین سلامت رہے!”


الكتاب: الكتاب: السنة
المؤلف: أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (ت ٣١١هـ)
المحقق: د. عطية الزهراني
الناشر: دار الراية – الرياض
الطبعة: الأولى، ١٤١٠هـ – ١٩٨٩م، ج 1، ص 111، ح 54
https://shamela.ws/book/1077/59

یہی وہ فتوی ہے جو سانحہ کربلا کی بنیاد بنی۔
جب شمر نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا، تو اس نے یہی عذر پیش کیا کہ:
"یہ حاکم کا حکم تھا، ہمیں اُن کا مطیع ہونا تھا۔ اگر ہم حکم والی کی مخالفت کرتے، تو ہم ان گدھوں سے بھی بدتر ہوتے جو پہاڑوں میں بھٹک رہے ہیں!”
ابو اسحٰق روایت کرتے ہیں:


كانَ شِمْرُ بْنُ ذِی الْجَوْشَنِ يُصَلّی مَعَنا ثُمّ يَقولُ: اللَهُمّ إنّكَ شَريفٌ تُحِبّ الشّرَفَ ، وَ إنّكَ تَعْلَمُ أنّی شَريفٌ فَاغْفِرْلی ! قُلْتُ : كَيْفَ يَغْفِرُ اللَهُ لَكَ وَ قَدْ أعَنْتَ عَلَی قَتْلِ ابْنِ رَسولِ اللَهِ صَلّی اللَهُ عَلَيْهِ [وَ ءَالِهِ‏] وَ سَلّمَ ؟! قَالَ : وَيْحَكَ ! كَيْفَ نَصْنَعَ ؟ إنّ اُمَرآءَنا هَؤُلآء أمَرونا بِأمْرٍ فَلَمْ نُخالِفْهُمْ ؛ وَ لَوْ خالَفْناهُمْ كُنّا شَرّا مِنْ هَذِهِ الْحُمُرِ الشّقاةِ

شمر بن ذی الجوشن ہمارے ساتھ نماز پڑھتا تھا، پھر کہتا:
"اے اللہ! تو عزت والا ہے اور عزت والوں کو پسند کرتا ہے، تو جانتا ہے کہ میں عزت والا ہوں، پس مجھے بخش دے!”
میں (راوی) نے کہا:

"تو کیسے بخشا جائے گا جب کہ تُو نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے کے قتل میں مدد کی؟!
شمر نے کہا:
"افسوس ہے تجھ پر! ہم کیا کرتے؟ ہمارے حکام نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے ان کی نافرمانی نہیں کی؛ اگر ہم ان کی بات نہ مانتے تو ہم ان گدھوں سے بدتر ہوتے جو پہاڑوں میں بھاگتے پھرتے ہیں۔”

(ميزان الاعتدال في نقد الرجال، المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748ه)ـ، تحقيق :الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود ،الناشر:دار الكتب العلمية،١٩٩٥م، بيروت،لبنان، ج 3، ص 385، رقم 3747)

شمر کہتا تھا:


اللَهُمّ اغْفِرْلی فَإنّی كَريمٌ ، لَمْ تَلِدْنی اللِئَامُ ! فَقُلْتُ لَهُ : إنّكَ لَسَيّی‏ءُ الرّأْیِ وَالْفِكْرِ ! تُسارِعُ إلَی قَتْلِ ابْنِ بِنْتِ رَسولِ اللَهِ صَلّی اللَهُ عَلَيْهِ [وَءَالِهِ‏] وَ سَلّمَ وَ تَدْعُو بِهَذا الدّعآء ؟! فَقالَ: إلَيْكَ عَنّی ! فَلَوْ كُنّا كَما تَقولُ أنْتَ وَأصْحابُكَ لَكُنّا شَرّا مِنَ الْحُمُرِ فی الشّعاب.

"اے اللہ! مجھے بخش دے، کیونکہ میں کریم ہوں، کسی کمینے کی اولاد نہیں!”
میں نے کہا:

"تو بدفکر اور بدعقل ہے! تُو رسول ﷺ کے نواسے کو قتل کرتا ہے اور پھر اللہ سے مغفرت مانگتا ہے.

تو شمر نے کہا:
"چلا جا! اگر ہم تیرے اور تیرے ساتھیوں کی طرح سوچتے تو ہم اُن جنگلی گدھوں سے بھی بدتر ہوتے جو وادیوں میں بھٹکتے ہیں۔ ہم نے صرف والی کے حکم کی اطاعت کی؛ اور جو والی کے حکم کی مخالفت کرے وہ اُن گدھوں سے بھی بدتر ہے۔

(الكتاب: تاريخ مدينة دمشق، وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل أو اجتاز بنواحيها من وارديها وأهلها
المؤلف: أبو القاسم علي بن الحسن ابن هبة الله بن عبد الله الشافعي المعروف بابن عساكر (٤٩٩ هـ – ٥٧١ هـ)
دراسة وتحقيق: محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي
الناشر: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، ج 23، ص 189- 190 / الغدیر، علامہ امینی، ج 1، ص 80)

https://shamela.ws/book/71/10353



جیسا کہ آپ نے دیکھا، مخالفین نے جعلی روایات کے ذریعے شمر کو ایک "شریف انسان” بنا کر پیش کیا۔
جب شمر سے کہا گیا کہ تُو قاتلِ امام حسینؑ ہے تو اس نے کہا:
"میں نے اسلامی حاکم کے حکم کی پیروی کی، اگر نہ کرتا تو تباہ و برباد ہو جاتا”.
یعنی وہ اپنے عمل کو فتوٰیٔ عمر بن خطاب سے جائز ٹھہراتا ہے۔
پس یہ وہی فتوے ہیں جنہوں نے نہ صرف کربلا کے قتل عام کی راہ ہموار کی، بلکہ تمام شیعہ ائمہ کی شہادتوں کی بنیاد بھی یہی سوچ بنی۔