وکیع بن الجراح — جو کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر صحاحِ ستہ کے راوی ہے — شراب پیتا تھا

‼️ وکیع بن الجراح — جو کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر صحاحِ ستہ کے راوی ہے — شراب پیتا تھا:
اوپر دیے گئے اسکین میں اسکی سوانح دیکھی جا سکتی ہے۔
امام ذہبی اپنی مشہور کتاب سیر أعلام النبلاء (ترجمہ نمبر 6558) میں لکھتے ہیں:

> "وَمَعَ هَذَا فَكَانَ مُلَازِمًا لِشُرْبِ نَبِيذِ الْكُوفَةِ الَّذِي يُسْكِرُ الإِكْثَارُ مِنْهُ، فَكَانَ مُتَأَوِّلًا فِي شُرْبِهِ، وَلَوْ تَرَكَهُ تَوَرُّعًا لَكَانَ أَوْلَى بِهِ، فَإِنَّ مَنْ تَوَقَّى الشُّبُهَاتِ، فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَقَدْ صَحَّ النَّهْيُ وَالتَّحْرِيمُ لِلنَّبِيذِ الْمَذْكُورِ.”

ترجمہ:
اور اس کے باوجود وہ کوفہ کے نبیذ (شراب) کے پینے پر ہمیشہ قائم رہتا تھا — وہ نبیذ جس کا زیادہ پینا نشہ آور تھا۔
وہ اس کے پینے میں خودساختہ تاویل کرتا تھا، لیکن اگر وہ اسے پرہیز اور تقویٰ کی خاطر چھوڑ دیتا تو یہ اس کے لیے بہتر تھا، کیونکہ جو شخص شبہات سے بچتا ہے، وہ اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرتا ہے، اور اس نبیذ (شراب) کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے ممانعت اور حرمت ثابت ہے۔

لہٰذا رجالی علما کے تصریح کے مطابق وکیع بن الجراح — جو صحاحِ ستہ کے راویوں میں سے ہیں — شراب پیتے تھے۔


یہ وہی راوی ہے جو کہتا تھا:

> “مجھے شراب دو، میں تمہیں حدیث سناؤں!”

یہ وہی شخص تھا جو رسولِ خدا ﷺ کی توہین کے سبب قتل کے حکم میں آ گیا تھا،
مگر ہر بار سفیان بن عیینہ نے اسے فرار دلایا۔

یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر اہلِ سنت و عمریہ کا مذہب قائم ہوا —
جہاں احمد بن حنبل جیسے لوگ اسی سے روایت لیتے ہیں،
اور ابن تیمیہ نے اسی جیسے شخص سے دین و عقیدہ حاصل کیا!

اور آج انہی راویوں (جیسے وکیع بن الجراح) کے ذریعے سے
صحیح بخاری و مسلم ان کے پاس پہنچی ہیں —
یعنی ان کی کتابیں شراب نوش، بدکردار راویوں کے ذریعہ منقول ہیں۔

◀️ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا:
”عبدالرحمن بن مهدی افضل ہے یا وکیع؟“

تو احمد بن حنبل نے جواب دیا:
”عبدالرحمن بن مهدی، وکیع سے افضل ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن مهدی مسکرات (نشہ آور چیزیں) سے پرہیز کرتا تھا!“

 اصل عبارت:

> وَقَدْ سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِذَا اخْتَلَفَ وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ بِقَوْلِ مَنْ تَأْخُذُ؟
فَقَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ يُوَافِقُ أَكْثَرَ وَخَاصَّةً سُفْيَانَ، كَانَ مَعْنِيًّا بِحَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ السَّلَفُ وَيَجْتَنِبُ شُرْبَ الْمُسْكِرِ

 ترجمہ:
احمد بن حنبل سے پوچھا گیا: اگر وکیع اور عبدالرحمن بن مهدی کی روایت میں اختلاف ہو جائے تو کس کی بات مانی جائے؟
انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن مهدی کی بات زیادہ درست ہوتی ہے، خصوصاً سفيان سے روایت میں، کیونکہ عبدالرحمن بن مهدی سفيان کے احادیث پر خاص توجہ دیتا تھا، سلف اس سے خوش رہتے تھے اور وہ شرابِ مسکر  سے پرہیز کرتا تھا۔

حوالہ: المعرفة والتاريخ، جلد 1، صفحہ 728