فاطمہ معراج کا تحفہ

حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ زِيادِ بْنِ جَعْفَرٍ الهَمَدانيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قالَ: حَدَّثَنا عَلِيُّ بْنُ إِبْراهيمَ بْنِ هاشِمٍ، عَنْ أَبِيهِ إِبْراهيمَ بْنِ هاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلامِ بْنِ صالِحٍ الهَرَويِّ قالَ: قُلتُ لِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضا عَلَيْهِما السَّلامُ: …

وَقالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَمّا عُرِجَ بي إِلَى السَّماءِ، أَخَذَ بِيَدِي جِبْرائيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَأَدْخَلَنِي الجَنَّةَ، فَناوَلَنِي مِن رُطَبِها، فَأَكَلْتُهُ، فَتَحَوَّلَ ذلِكَ نُطْفَةً في صُلْبِي، فَلَمّا هَبَطْتُ إِلَى الأَرْضِ واقَعْتُ خَدِيجَةَ، فَحَمَلَتْ بِفاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلامُ، فَإِنَّ فاطِمَةَ حَوْراءُ إِنسِيَّةٌ، فَكُلَّما اشْتَقْتُ إِلَى رائِحَةِ الجَنَّةِ شَمَمْتُ رائِحَةَ ابْنَتِي فاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلامُ.

امام رضا علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:

"جب مجھے آسمانوں کی طرف معراج کرائی گئی تو جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت میں داخل کیا۔ وہاں سے انہوں نے مجھے جنت کے کھجور کا ایک خوشہ دیا، میں نے اسے کھایا۔ وہ لقمہ میرے صُلب میں نطفہ میں تبدیل ہوگیا۔ پھر جب میں زمین پر واپس آیا اور میں نے خدیجہؑ سے قربت کی تو نور فاطمہ میرے صلب سے خدیجہ کے رحم میں منتقل ہوا۔

بیشک فاطمہ حوراء انسیّہ ہیں(انسانی شکل میں حور)، اور جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کی خواہش ہوتی ہے تو میں اپنی بیٹی فاطمہؑ کی خوشبو سونگھتا ہوں۔”

عيون أخبار الرضا(ع)‌، تألیف:الشيخ الصدوق،الموضوع : أهل البيت،الناشر : منشورات جهان‌،ج 1 ص 116