حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے گھر جلانے کی دھمکی والی روایت پر اہلسنت علماء کی تصحیح و اقرار

الإقرار على تهديد حرق الدار

(حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے گھر کو جلانے کی دھمکی والی روایت پر اہلسنت علماء کی تصحیح و اقرار)

تالیف: مولانا سید تحسین حیدر نجفی صاحب ، مولانا سید فیضان حسنی نجفی صاحب

ترتیب : علی ناصر

نظر ثانی: مولانا سید فیضان حسنی نجفی صاحب

Publisher: SHIAFAITH.ORG

اشاعت اول : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمادی الاول سنہ ۱۴۴۷ ، نومبر ۲۰۲۵

پبلیشر:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔www.shiafaith.org

فہرست

 

(1) سعد بن ناصر بن عبد العزيز أبو حبيب الشثري:

_____________________

ترجمہ:

ہم سے محمد بن بشر نے روایت کی، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے روایت کی

کہ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ابوبکر کے لئے بیعت کی گئی، تو علیؑ اور زبیر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا بنتِ رسولِ خداؐ کے پاس آتے تھے، ان سے مشورہ کرتے اور اپنے معاملات میں ان کی رائے لیتے تھے۔

جب عمر بن خطاب کو اس بات کی خبر ملی تو وہ نکل کر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گھر داخل ہوا اور کہا:

“اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی!

خدا کی قسم! مخلوق میں ہمیں آپ کے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں،

اور آپ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔

لیکن خدا کی قسم! یہ بات مجھے اس سے نہیں روکتی کہ اگر یہ لوگ تمہارے پاس جمع ہوں تو میں انہیں حکم دوں کہ تمہارے گھر کو آگ لگا دی جائے!”

پھر جب عمر باہر چلا گیا تو وہ (علیؑ و زبیر وغیرہ) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے پاس آئے۔

حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:

“تم جانتے ہو کہ عمر میرے پاس آیا تھا؟

اور اس نے خدا کی قسم کھائی ہے کہ اگر تم دوبارہ آئے تو وہ ضرور تمہارے گھر کو آگ لگا دے گا،

اور خدا کی قسم! وہ یقیناً وہی کرے گا جس پر قسم کھا چکا ہے۔

لہٰذا تم لوگ واپس جاؤ، اپنی رائے خود طے کرو، اور اب میرے پاس واپس نہ آنا۔”

چنانچہ وہ لوگ ان کے پاس سے واپس چلے گئے،اور پھر دوبارہ ان کے پاس نہ آئے یہاں تک کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی۔

https://shamela.ws/book/333/45432#p1

A close-up of a paper

(2) شاه ولي الله المحدث الدهلوي:

اردو ترجمہ:

ابو بکر ابن ابی شیبہ نے اسلم سے (صحیح سند کے ساتھ، جو شیخین یعنی بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے) روایت کی ہے کہ جب رسولِ خدا ﷺ کے بعد ابوبکر کے لئے بیعت کی گئی، تو علیؑ اور زبیر حضرت فاطمہ بنتِ رسولِ خدا ﷺ کے پاس آتے تھے، ان سے مشورہ کرتے تھے اور اپنے معاملات میں اُن کی طرف رجوع کرتے تھے

جب، عمر بن خطاب کو اس بات کی خبر ملی تو وہ نکل کر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گھر داخل ہوا اور کہا:

“اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی!

خدا کی قسم! مخلوق میں ہمیں آپ کے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں،

اور آپ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔

لیکن خدا کی قسم! یہ بات مجھے اس سے نہیں روکتی کہ اگر یہ لوگ تمہارے پاس جمع ہوں تو میں انہیں حکم دوں کہ تمہارے گھر کو آگ لگا دی جائے!”

پھر جب عمر باہر چلا گیا تو وہ (علیؑ و زبیر وغیرہ) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے پاس آئے۔

حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:

“تم جانتے ہو کہ عمر میرے پاس آیا تھا؟

اور اس نے خدا کی قسم کھائی ہے کہ اگر تم دوبارہ آئے تو وہ ضرور تمہارے گھر کو آگ لگا دے گا،

اور خدا کی قسم! وہ یقیناً وہی کرے گا جس پر قسم کھا چکا ہے۔

لہٰذا تم لوگ واپس جاؤ، اپنی رائے خود طے کرو، اور اب میرے پاس واپس نہ آنا۔”

(3) السيد حسن الحسيني:

رہا عمر کا موقف رسولِ خداؐ کی بیٹی، حسن و حسین کی والدہ (رضی اللہ عنهم اجمعین) کے بارے میں، تو وہ تعظیم و احترام کا موقف تھا۔

چنانچہ اس نے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی سے کہا:

“اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی! خدا کی قسم! ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں، اور تمہارے والد کے بعد ہمیں تم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔” [حدیث مصنف ابن ابي سيئة ج ١٤ ص ٥٦٧ میں صحیح سند کے ساتھ وارد ہوئی ہے]،یہ واقعہ اور حدیث ثابت اور صحیح ہے.

نوٹ: مصنف نے مکمل حدیث کو نقل نہیں لیکن روایت کی تصحیح کر دی ہے۔

(4) عَلي محمد محمد الصَّلاَّبي:

اسلم عدوی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرمؐ کے بعد ابوبکر کے لیے بیعت لی گئی تو علیؑ اور زبیر بن عوام فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس آیا کرتے تھے اور ان سے مشورہ لیتے تھے۔ جب یہ بات عمر کو پہنچی تو وہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے پاس گئے اور کہا:

"اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی! خدا کی قسم! تمہارے والد سے زیادہ ہمیں کوئی شخص محبوب نہیں، اور تمہارے والد کے بعد تم سے زیادہ ہمیں کوئی محبوب نہیں۔”

پھر انہوں نے ان سے بات کی۔ اس کے بعد علیؑ اور زبیر فاطمہ سلام اللہ علیھا کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:

"تم دونوں واپس جاؤ۔”

پس وہ دونوں واپس چلے گئے اور دوبارہ ان کے پاس نہ آئے یہاں تک کہ انہوں نے بیعت کرلی۔

اور یہی ثابت اور صحیح ہے، اور اپنی صحت کے ساتھ اس زمانے کے روحانی مزاج اور اللہ کی طرف سے اس جماعت کی تزکیۂ نفس کے مطابق ہے۔

لیکن روافض نے اس روایت میں اضافہ کیا، اور جھوٹ، بہتان اور افترا سے اسے بگاڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر نے کہا:

"جب یہ چند لوگ تمہارے پاس جمع ہوں تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان پر یہ گھر جلا دوں گا۔”

کیونکہ وہ بیعت میں تاخیر کرکے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے۔ پھر وہ وہاں سے چلے گئے۔ لیکن کچھ دیر بعد وہ دوبارہ واپس آئے تو فاطمہ نے ان سے کہا:

"تم جانتے ہو کہ عمر میرے پاس آیا تھا اور اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر تم لوگ پھر اس گھر میں جمع ہوئے تو وہ یقیناً اسے تم پر جلا دے گا، اور خدا کی قسم! اس نے جو کہا ہے ضرور کر گزرے گا۔ لہٰذا تم سب یہاں سے چلے جاؤ اور میرے پاس دوبارہ مت آنا۔”

چنانچہ وہ چلے گئے اور دوبارہ ان کے پاس نہیں آئے، یہاں تک کہ بیعت کرلی۔

لیکن یہ واقعہ عمر سے ثابت نہیں، اور یہ دعویٰ کہ عمر نے فاطمہ کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا تھا، روافض کا جھوٹ ہے — وہ رسولِ خدا کے صحابہ کے دشمن ہیں۔

ان کے گھڑے ہوئے جھوٹ میں سے اس واقعے کو طبری طبرسی نے اپنی کتاب دلائل الإمامة میں نقل کیا ہے [2]، جو کہ جابر جعفی سے روایت کرتا ہے۔ جابر جعفی ایک روافضی اور جھوٹا راوی ہے، جس پر ائمۂ حدیث کا اتفاق ہے — جیسا کہ ذہبی کی الميزان میں اور تهذيب التهذيب میں(ابن حجر نے) ذکر کیا ہے۔

_____

نوٹ :مصنف نے دھمکی والی عبارت کو حذف کر دیا اور اسکی جگہ "وكلّمها” کا پردہ ڈال دیا ۔ اور کہا کہ یہ روایت صحیح ہے ۔

پھر کہا دھمکی والے الفاظ عمر سے ثابت نہیں یہ روافض کی افتراء ہے جبکہ یہ اصل مصدر مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے اور یہ اسی روایت کا حصہ ہے جسکو مصنف نے مکمل ذکر نہیں کیا اور دھمکی والے الفاظ کو "وكلّمها” سے بدل دیا اور اسکی پردہ پوشی کر دی۔

أسمى المطالب في سيرة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه (شخصيته وعصره – دراسة شاملة) ,المؤلف: عَلي محمد محمد الصَّلاَّبي
الناشر: مكتبة الصحابة، الشارقة – الإمارات
عام النشر: 1425 هـ – 2004 م, ج 1 ص 202

https://lib.efatwa.ir/47221/1/202/%D8%A7%D8%B0%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%B9_%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%83_%D9%87%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%A1

(5) د بشار عواد معروف:

ہمیں احمد بن محمد بن احمد العتیقی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو الفرج احمد بن محمد بن بشار الصیرفی نے سنہ 387 ہجری میں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن محمد بن اسماعیل الادمی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں فضل بن سہل الاعرج نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمر نے زید بن اسلم سے، اور انہوں نے اپنے والد (اسلم) سے روایت کی —

انہوں نے کہا: عمر بن خطاب نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے کہا:

"اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی! تمہارے والد سے بڑھ کر کوئی شخص ہمیں محبوب نہ تھا، اور تمہارے والد کے بعد تم سے زیادہ ہمیں کوئی محبوب نہیں ہے۔”

محقق کہتے ہیں روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے جو کہ صحیح ہے ۔

https://shamela.ws/book/736/2984

(6) ياسر خالد بن قاسم الردادي:

ترجمہ:

ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن بشر نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے روایت کی، انہوں نے زید بن اسلم سے، اور انہوں نے اپنے والد اسلم سے روایت کی۔

انہوں نے کہا:

جب عمر بن خطاب تک یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ حضرت فاطمہؓ کے گھر میں جمع ہوتے ہیں۔

چنانچہ وہ ان کے پاس آئے اور کہا:

“اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی! لوگوں میں تمہارے والد سے زیادہ محبوب ہمارے نزدیک کوئی نہ تھا، اور تمہارے والد کے بعد تم سے زیادہ محبوب کوئی نہیں۔

لیکن مجھے یہ خبر ملی ہے کہ یہ چند افراد تمہارے گھر میں جمع ہوتے ہیں،

اور اللہ کی قسم! اگر مجھے (دوبارہ) یہ بات پہنچی تو میں ان پر گھر کو ضرور جلا دوں گا۔”

پھر جب وہ لوگ (یعنی وہ اصحاب) حضرت فاطمہؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:

“ابنِ خطاب نے یہ کہا ہے اور قسم کھائی ہے کہ اگر یہ بات اسے معلوم ہوئی تو وہ یقیناً ایسا کرے گا۔”

پس وہ سب لوگ متفرق ہو گئے یہاں تک کہ ابو بکرؓ کے حق میں بیعت ہو گئی۔

https://shamela.ws/book/13062/19

مزید آگے لکھتا ہے:

اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر امام (حاکمِ وقت) کو یہ اطلاع ملے کہ کچھ لوگ کسی ایسے معاملے پر جمع ہو رہے ہیں جس کے بارے میں اندیشہ ہے کہ ان کے اس اجتماع سے کوئی فتنہ یا فساد پیدا ہوسکتا ہے، تو اسے چاہیے کہ ان لوگوں کے پاس جا کر انہیں اس بات سے روکے اور انہیں ایسا ڈر سنائے جس سے وہ باز آ جائیں۔

اور اگرچہ عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق کو خوب جانتے تھے، اور یہ بھی اقرار کرتے تھے کہ نبی ﷺ کے بعد وہ ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہستی ہیں، پھر بھی اس محبت نے انہیں اس بات سے نہیں روکا کہ وہ ان کے پاس جا کر اپنی بات کھل کر بیان کریں۔

اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق اور ان کے عہد کو پورا کرنے کی صفت کو بخوبی جانتی تھیں۔

https://shamela.ws/book/13062/22

(7)أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري:

زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم نے عمر سے روایت کی کہ وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گھر داخل ہوا اور کہا:

“اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی!

خدا کی قسم! مخلوق میں ہمیں آپ کے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں،

اور آپ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔

یہ حدیث شیخین(بخاری و مسلم)کی شرط پر صحیح ہے جسکو انہوں نے ذکر نہیں کیا۔

https://shamela.ws/book/2266/5029

A close-up of a piece of paper

AI-generated content may be incorrect.

(8)عبد الله بن فهد الخليفي:

مصنف نے کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ جو روایات صحیح ثابت ہوئی ہیں، اُنہیں بعض احباب کے نظرِ ثانی کے بعد شائع کیا ہے ،یعنی صحیح روایات کو جمع کیا ہے، لھذا کتاب کے مقدمہ میں لکھتا ہے:

مقدمہ:

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ، اُن کے اہلِ بیت، صحابہ کرام اور اُن کے ماننے والوں پر درود و سلام کے بعد:

میں اللہ عزّوجلّ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی کہ میں خلفائے راشدینِ مہدیین کے زہد، رِقّتِ قلب اور ادب و اخلاق سے متعلق جو کچھ جمع کرسکا، اُسے یکجا کر سکوں۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے تمام آثار کو مکمل طور پر جمع کرلیا ہے، لیکن اپنی بھرپور کوشش ضرور کی ہے۔

اور اب ارادہ ہے کہ جو روایات صحیح ثابت ہوئی ہیں، اُنہیں بعض احباب کے نظرِ ثانی کے بعد شائع کیا جائے۔

https://shamela.ws/book/37620/2

کتاب کی جلد ۱ صفحہ ۹۱ پر مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کو ذکر کرتا ہے جسکو مصنف نے کتاب الآحاد والمثانی سے نقل کیا ہے البتہ روایت کو مکمل ذکر نہیں کیا ہے اور دھمکی کے الفاظ کو مذف کر دیا ہے:

ابن ابی عاصم نے الآحاد والمثانی (حدیث نمبر 2952) میں روایت کیا ہے:

ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، انہوں نے محمد بن بشر سے، انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی:

بے شک عمرؓ نے فاطمہؓ سے کہا:
“اللہ کی قسم! تمہارے والد (رسول اللہ ﷺ) سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا، اور تمہارے والد کے بعد تم سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں۔”

https://shamela.ws/book/37620/91

(9)حسن بن علي بن هاشم بن أحمد بن علوي ( مفتي الشافعية ، وشيخ السادة: بمكة المحمية المتوفى سنة 1335 ه‍ مصنف ترشيح المستفيدين):

(10)موسى بن راشد العازمي:

(٢) أخرجه الإِمام أحمد في فضائل الصحابة – رقم الحديث (٥٣٢) – بإسناد رجاله ثقات غير محمَّد بن إبراهيم، فقد سكت عنه أبو نعيم، والخطيب.

https://shamela.ws/book/38114/2566

(11) عماد الدين أبو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي الدمشقي المعروف بـ (ابن كثير) (ت ٧٧٤ هـ) :

میں کہتا: اور جہاں تک صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ بات آئی ہے کہ حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، اور یہ اس وقت ہوا جب حضرت فاطمہؓ بنت رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا — تو حافظ ابنِ کثیرؒ نے اس (ظاہری اختلاف) میں تطبیق دیتے ہوئے فرمایا ہے:

بے شک حضرت علیؓ نے ابتدا میں ہی لوگوں کے ساتھ عام بیعت کی تھی جو منبر پر ہوئی تھی۔ لیکن جب حضرت فاطمہؓ کو حضرت صدیقؓ (ابوبکر) سے کچھ رنج ہوا — اس وجہ سے کہ وہ یہ گمان کرتی تھیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ترکے (وراثت) کی مستحق ہیں — اور انہیں یہ علم نہ تھا جو حضرت صدیقؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"ہم (انبیاء) کی میراث نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔”

چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے اسی صریح فرمان کی بنا پر نہ صرف حضرت فاطمہؓ بلکہ دیگر ازواجِ مطہراتؓ اور نبی ﷺ کے چچا کو بھی میراث سے روک دیا۔ وہ (ابوبکرؓ) سچے، نیک، راہِ حق کے متبع تھے۔

پس حضرت فاطمہؓ کو — جو آخرکار ایک انسان تھیں، معصوم نہیں — کچھ رنج اور ناراضی ہوئی، اور انہوں نے وفات تک حضرت ابوبکرؓ سے گفتگو نہیں کی۔ حضرت علیؓ نے ان کے دل کا خیال رکھنے کے لیے کچھ عرصہ خاموشی اختیار کی۔

جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال اپنے والد ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا، تو حضرت علیؓ نے مناسب سمجھا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ صدیق کے ہاتھ پر بیعت کی تجدید کریں۔

نوٹ:ابن کثیر نے روایت کو جمع کیا ہے یعنی کہ دونوں روایت اسکے نزدیک درست ہیں اسی وجہ سے جمع کر رہا ہے۔

https://shamela.ws/book/38114/2566

(12)تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد الله بن أبي القاسم بن محمد ابن تيمية الحراني الحنبلي الدمشقي (ت ٧٢٨هـ):

رافضی نے کہا:

آٹھواں اعتراض یہ ہے کہ (ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے اپنی وفات کے مرض میں کہا:
’کاش! میں نے فاطمہ کے گھر پر حملہ نہ کیا ہوتا، اور کاش! جب بنو ساعدہ میں لوگوں نے بیعت کی تھی، تو میں ان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا، وہ امیر ہوتا اور میں وزیر ہوتا۔‘

یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ وہ فاطمہ کے گھر پر گئے تھے جب علی، زبیر اور دیگر لوگ وہاں جمع تھے۔”

جواب:
عیب (قدح) اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب وہ صحیح سند سے ثابت ہو اور اس کے الفاظ ظاہر طور پر طعن پر دلالت کریں۔ پس جب ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو قدح مردود ہے، پھر جب دونوں ہی نہ پائے جائیں تو قدح کیسے درست ہو سکتا ہے؟

ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے علی، زبیر، یا کسی دوسرے پر کوئی ایذا نہیں پہنچائی، بلکہ انہوں نے سعد بن عبادہ (جو ابتدا اور انتہا میں بیعت سے رکے رہے) پر بھی کوئی اذیت نہیں دی۔

زیادہ سے زیادہ جو کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے فاطمہ کے گھر کا معائنہ کیا تاکہ دیکھیں کہ کہیں اس میں مالِ فَیء (یعنی بیت المال کا مال) تو نہیں رکھا گیا جسے وہ لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، تاکہ وہ مال مستحقین کو پہنچا سکیں۔ پھر بعد میں انہوں نے دیکھا کہ اگر وہ مال ان کے پاس رہنے دیا جائے تو بھی جائز ہے، کیونکہ فَیء کے مال میں سے انہیں دینا جائز تھا۔

جہاں تک یہ کہنا کہ انہوں نے ان حضرات (اہلِ بیت) کو شخصی طور پر کوئی تکلیف پہنچائی —
تو ایسا کبھی نہیں ہوا، اس پر اہلِ علم و دین کا اجماع ہے۔


ایسی باتیں صرف جاہل جھوٹے لوگ نقل کرتے ہیں، اور نادان دنیا دار ان پر یقین کر لیتے ہیں — جو کہتے ہیں کہ:
“صحابہ نے فاطمہ کے گھر کو ڈھا دیا اور ان کے پیٹ پر مارا یہاں تک کہ ان کا حمل ساقط ہو گیا۔”

یہ سب من گھڑت دعوے اور صریح جھوٹ ہیں، اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، اور ایسی باتیں صرف جانوروں جیسے بےعقل لوگ ہی مانتے ہیں۔

https://shamela.ws/book/927/4123