ثواب زیارت قبر امام حسین علیہ السلام (امام جعفر صادق علیہ السلام)
أَبِي ره قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع وَ هُوَ فِي مُصَلَّاهُ فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُهُ وَ هُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَيَقُولُ يَا مَنْ خَصَّنَا بِالْكَرَامَةِ وَ وَعَدَنَا الشَّفَاعَةَ وَ حَمَّلَنَا الرِّسَالَةَ وَ جَعَلَنَا وَرَثَةَ الْأَنْبِيَاءِ وَ خَتَمَ بِنَا الْأُمَمَ السَّالِفَةَ وَ خَصَّنَا بِالْوَصِيَّةِ وَ أَعْطَانَا عِلْمَ مَا مَضَى وَ عِلْمَ مَا بَقِيَ وَ جَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْنَا اغْفِرْ لِي وَ لِإِخْوَانِي وَ زُوَّارِ قَبْرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع الَّذِينَ أَنْفَقُوا أَمْوَالَهُمْ وَ أَشْخَصُوا أَبْدَانَهُمْ رَغْبَةً فِي بِرِّنَا وَ رَجَاءً لِمَا عِنْدَكَ فِي صِلَتِنَا وَ سُرُوراً أَدْخَلُوهُ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ص وَ إِجَابَةً مِنْهُمْ لِأَمْرِنَا وَ غَيْظاً أَدْخَلُوهُ عَلَى عَدُوِّنَا أَرَادُوا بِذَلِكَ رِضْوَانَكَ فَكَافِهِمْ عَنَّا بِالرِّضْوَانِ وَ اكْلَأْهُمْ بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ اخْلُفْ عَلَى أَهَالِيهِمْ وَ أَوْلَادِهِمُ الَّذِينَ خُلِّفُوا بِأَحْسَنِ الْخَلَفِ وَ اصْحَبْهُمْ وَ اكْفِهِمْ شَرَّ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَ كُلِّ ضَعِيفٍ مِنْ خَلْقِكَ وَ شَدِيدٍ وَ شَرَّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَ الْجِنِّ وَ أَعْطِهِمْ أَفْضَلَ مَا أَمَّلُوا مِنْكَ فِي غُرْبَتِهِمْ عَنْ أَوْطَانِهِمْ وَ مَا آثَرُوا عَلَى أَبْنَائِهِمْ وَ أَبْدَانِهِمْ وَ أَهَالِيهِمْ وَ قَرَابَاتِهِمْ اللَّهُمَّ إِنَّ أَعْدَاءَنَا أَعَابُوا عَلَيْهِمْ خُرُوجَهُمْ فَلَمْ يَنْهَهُمْ ذَلِكَ عَنِ النُّهُوضِ وَ الشُّخُوصِ إِلَيْنَا خِلَافاً عَلَيْهِمْ- فَارْحَمْ تِلْكَ الْوُجُوهَ الَّتِي غَيَّرَتْهَا الشَّمْسُ وَ ارْحَمْ تِلْكَ الْخُدُودَ الَّتِي تَقَلَّبَتْ عَلَى قَبْرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ ع وَ ارْحَمْ تِلْكَ الْعُيُونَ الَّتِي جَرَتْ دُمُوعُهَا رَحْمَةً لَنَا وَ ارْحَمْ تِلْكَ الْقُلُوبَ الَّتِي جَزِعَتْ وَ احْتَرَقَتْ لَنَا وَ ارْحَمْ تِلْكَ الصَّرْخَةَ الَّتِي كَانَتْ لَنَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَوْدِعُكَ تِلْكَ الْأَنْفُسَ وَ تِلْكَ الْأَبْدَانَ حَتَّى تُرَوِّيَهُمْ مِنَ الْحَوْضِ يَوْمَ الْعَطَشِ- فَمَا زَالَ ص يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ وَ هُوَ سَاجِدٌ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لَوْ أَنَّ هَذَا الَّذِي سَمِعْتُهُ مِنْكَ كَانَ لِمَنْ لَا يَعْرِفُ اللَّهَ لَظَنَنْتُ أَنَّ النَّارَ لَا تَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئاً أَبَداً وَ اللَّهِ لَقَدْ تَمَنَّيْتُ أَنْ كُنْتُ زُرْتُهُ وَ لَمْ أَحُجَّ فَقَالَ لِي مَا أَقْرَبَكَ مِنْهُ فَمَا الَّذِي يَمْنَعُكَ عَنْ زِيَارَتِهِ يَا مُعَاوِيَةُ وَ لِمَ تَدَعُ الحج ذَلِكَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَلَمْ أَدْرِ أَنَّ الْأَمْرَ يَبْلُغُ هَذَا فَقَالَ يَا مُعَاوِيَةُ وَ مَنْ يَدْعُو لِزُوَّارِهِ فِي السَّمَاءِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْعُو لَهُمْ فِي الْأَرْضِ لَا تَدَعْهُ لِخَوْفٍ مِنْ أَحَدٍ فَمَنْ تَرَكَهُ لِخَوْفٍ رَأَى مِنَ الْحَسْرَةِ مَا يَتَمَنَّى أَنَّ قَبْرَهُ كَانَ بِيَدِهِ أَ مَا تُحِبُّ أَنْ يَرَى اللَّهُ شَخْصَكَ وَ سَوَادَكَ مِمَّنْ يَدْعُو لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ص أَ مَا تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ غَداً مِمَّنْ تُصَافِحُهُ الْمَلَائِكَةُ أَ مَا تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ غَداً فِيمَنْ رَأَى وَ لَيْسَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ فَتُتْبَعَ أَ مَا تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ غَداً فِيمَنْ يُصَافِحُ رَسُولَ اللَّهِ ص.
معاویہ بن وہب کہتے ہیں:
میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا، آپ (ع) اپنے مصلّیٰ (جائے نماز) میں تھے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ (ع) نماز سے فارغ ہوئے۔ میں نے سنا کہ آپ (ع) اپنے رب سے راز و نیاز کر رہے تھے، اور فرما رہے تھے:
"اے وہ ذات جس نے ہمیں عزت کے ساتھ خاص فرمایا،
اور ہمیں شفاعت کا وعدہ دیا،
ہم پر رسالت کا بوجھ رکھا،
اور ہمیں انبیاء کا وارث بنایا،
اور ہماری امت کے ذریعے گزشتہ امتوں کا سلسلہ ختم کیا،
اور ہمیں وصایت کے لیے مخصوص کیا،
اور ہمیں گزشتہ اور باقی ماندہ علوم عطا کیے،
اور لوگوں کے دلوں کو ہماری طرف مائل کیا۔
(اے معبود!) مجھے، میرے بھائیوں کو، اور
میرے جد حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام کے زائرین کو بخش دے،
جنہوں نے اپنے مال خرچ کیے،
اپنے جسموں کو سفر کی زحمت دی،
ہماری محبت میں،
اور تیری طرف سے ہمارے ساتھ صلہ (جوڑ) کی امید میں،
اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو خوش کرنے کی غرض سے،
اور ہمارے حکم کی اطاعت میں،
اور ہمارے دشمن کو غیظ و غضب میں ڈالنے کے لیے،
انہوں نے صرف تیری رضامندی چاہی۔
پس انہیں اپنی طرف سے رضامندی کی جزا دے،
رات اور دن میں ان کی حفاظت فرما،
اور ان کے گھر والوں، بچوں کا بہترین نگہبان اور نگران بن جا،
اور انہیں ہر سرکش و عنید دشمن،
اور ہر کمزور و طاقتور مخلوق کے شر سے بچا،
اور انس و جن کے شیاطین کے شر سے بھی بچا،
اور انہیں ان کی امیدوں سے بھی بہتر عطا فرما،
جو انہوں نے اپنے وطنوں سے دور ہو کر،
اپنے بچوں، جسموں، اہل و عیال اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر،
تجھ سے امید رکھی۔
(اے معبود!) ہمارے دشمنوں نے ان کے اس سفر پر طعنہ زنی کی،
مگر انہوں نے اس کے باوجود اپنے ارادے سے پیچھے قدم نہ ہٹایا،
اور ہماری طرف سفر کیا۔
اے اللہ! ان چہروں پر رحم فرما جنہیں سورج نے سیاہ کر دیا،
ان رخساروں پر رحم فرما جو حسینؑ کے قبر پر پلٹتے رہے،
ان آنکھوں پر رحم فرما جن سے ہمارے لیے آنسو بہے،
ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے لیے تڑپے اور جلے،
ان چیخوں پر رحم فرما جو ہمارے لیے بلند ہوئیں۔
(اے معبود!) میں ان جانوں اور ان جسموں کو تیرے سپرد کرتا ہوں،
یہاں تک کہ تو انہیں حوضِ کوثر سے سیراب کرے،
پیاس کے دن۔”
امام (ع) مسلسل سجدے میں یہ دعا مانگتے رہے۔
جب آپ (ع) فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی:
"آپ پر قربان جاؤں! اگر یہ دعا کسی ایسے شخص کے لیے ہوتی جو اللہ کو نہیں پہچانتا،
تو میں گمان کرتا کہ وہ کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھے گا۔
اللہ کی قسم!
میں تو تمنا کرنے لگا کہ کاش میں نے حج نہ کیا ہوتا اور صرف زیارت حسینؑ کے لیے آیا ہوتا۔”
تو امام (ع) نے فرمایا:
"اے معاویہ! تم کتنے قریب ہو اس سے!
پھر تمہیں زیارت سے کیا چیز روک رہی ہے؟
تم حج کو کیوں چھوڑتے ہو اس کے بدلے؟”
میں نے عرض کی:
"میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا مرتبہ اتنا عظیم ہے۔”
تو امام (ع) نے فرمایا:
"اے معاویہ!
آسمان میں ان کے لیے دعائیں کرنے والے،
زمین والوں سے زیادہ ہیں۔
کسی کے خوف سے زیارت ترک نہ کرو۔
جو خوف کی وجہ سے اسے چھوڑے گا،
وہ ایسی حسرت دیکھے گا
کہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کی قبر اسی کے ہاتھ میں ہوتی۔
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں ان لوگوں میں شمار کرے
جن کے لیے رسول اللہ (ص) دعا کرتے ہیں؟
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ کل تم ان لوگوں میں سے ہو
جن سے فرشتے مصافحہ کریں گے؟
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ کل تم ان لوگوں میں سے ہو
جو بغیر کسی گناہ کے اللہ سے ملاقات کریں گے؟
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ کل تم ان لوگوں میں شامل ہو
جو رسول اللہ (ص) سے مصافحہ کریں گے؟”
ثواب الأعمال و عقاب الأعمال
تأليف: ابن بابويه، محمد بن على
تاريخ وفات مؤلف: 381 ق
محقق / مصحح: ندارد
ناشر: دار الشريف الرضي للنشر
مكان چاپ: قم ،سال چاپ: 1406 ق،ج 1 ص 95


