زائرِ قبرِ سیدالشہداء علیہ السلام اور مقامِ شفاعت


💠 زائرِ قبرِ سیدالشہداء علیہ السلام اور مقامِ شفاعت

🔹 کتاب کامل الزیارات میں ایک صحیح السند روایت نقل ہوئی ہے، جس میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

حَدَّثَنِي أَبِي (رحمه الله) وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَ عَلِيُ بْنُ الْحُسَيْنِ جَمِيعاً عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَيْفٍ التَّمَّارِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ زَائِرُ الْحُسَيْنِ (ع) مُشَفَّعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمِائَةِ رَجُلٍ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمُ النَّارُ مِمَّنْ كَانَ فِي الدُّنْيَا مِنَ الْمُسْرِفِينَ

❝زائرِ امام حسین علیہ السلام روزِ قیامت ایسے سو (100) افراد کی شفاعت کرے گا، جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی، اور وہ سب دنیا میں اسراف کرنے والوں میں سے ہوں گے۔❞

📗 منبع:
کتاب: کامل الزیارات
مصنف: ابن قولویہ قمی
جلد: 1
صفحہ: 332


📝 روایت کی سند:

✍ روایت:
میرے والد (رحمۃ اللہ علیہ)، محمد بن حسن، اور علی بن حسین – تینوں نے – سعد بن عبد اللہ سے روایت کی،
انہوں نے محمد بن عیسیٰ بن عبید سے،
انہوں نے صفوان بن یحیی سے،
انہوں نے ایک مرد (نام نامعلوم) سے،
اس نے سیف التمار سے،
اور سیف التمار نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ:

❝میں نے حضرت کو فرماتے ہوئے سنا:
زائرِ امام حسین علیہ السلام روزِ قیامت سو آدمیوں کی شفاعت کرے گا، جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی، اور یہ سب دنیا میں اسراف کرنے والے تھے۔❞


🔍 سند کی تحقیق:

روایت کی سند میں تمام راوی یا تو ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں یا ایسے مشایخِ ثقات سے نقل ہوا ہے جن سے روایت قطعی اعتبار رکھتی ہے:

1⃣محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد أبو جعفر شيخ القميين و فقيههم و متقدمهم و وجههم و يقال: إنه نزيل قم و ما كان أصله منها. ثقة ثقة عين مسكون إليه.» رجال النجاشي  ج 1  ص383▫️

2⃣ علی بن الحسین بن بابویة «684 – علي بن الحسين بن موسى بن بابويه القمي أبو الحسن شيخ القميين في عصره و متقدمهم و فقيههم و ثقتهم… .» رجال النجاشي ج 1  ص261▫️

3⃣ پدر ابن قولویة: محمد بن قولویة«318 جعفر بن محمد بن جعفر بن موسى بن قولويه … و كان أبوه يلقب مسلمة من خيار أصحاب سعد … .» رجال النجاشي ج1  ص 123▫️

4⃣سعد بن عبد الله«467 سعد بن عبد الله بن أبي خلف الأشعري القمي أبو القاسمشيخ هذه الطائفة و فقيهها و وجهها. كان سمع من حديث العامة شيئا كثيرا، و سافر في طلب الحديث، لقي من وجوههم الحسن بن عرفة و محمد بن عبد الملك الدقيقي و أبا حاتم الرازي و … .»

 رجال النجاشي  ج1  ص 177▫️

5⃣محمد عيسى بن عبيد«896 – محمد بن عيسى بن عبيد بن يقطين بن موسى مولى أسد بن خزيمة أبو جعفر جليل في (من) أصحابنا ثقة عين كثير الرواية حسن التصانيف روى عن أبي جعفر الثاني عليه السلام مكاتبة و مشافهة.»

 رجال النجاشي ج1 ص333▫️

6⃣ صفوان بن یحیی البجلی؛ از اصحاب اجماع ومشایخ ثقات «524 – صفوان بن يحيى أبو محمد البجلي بياع السابريكوفي ثقة ثقة عين. روى أبوه عن أبي عبد الله عليه السلام و روى هو عن الرضا عليه السلام و كانت له عنده منزلة شريفة.»

 رجال النجاشي ج1 ص197▫️


⚠️ نامعلوم راوی (رَجُلٌ) کے بارے میں وضاحت:

اگرچہ سند میں ایک راوی مجہول (نامعلوم) ہے، لیکن چونکہ صفوان بن یحیی جیسے ثقہ راوی نے اس سے روایت کی ہے، جو صرف ثقہ راویوں سے روایت کرتے تھے،
لہٰذا علمائے شیعہ کے اصول کے مطابق ایسی روایت قابلِ قبول ہے۔

📌 شیخ طوسی فرماتے ہیں:

طائفہ نے صفوان بن یحیی، محمد بن ابی عمیر اور احمد بن محمد بن ابی نصر جیسے ثقہ راویوں کی مرسل و مسند روایات کو قبول کیا ہے، کیونکہ وہ صرف ثقات سے روایت کرتے تھے۔

📘 العدة فی اصول الفقه، جلد 1، ص154

https://lib.eshia.ir/13087/1/154

8⃣سيف بن سليمان التمار أبو الحسن كوفي روى عن أبي عبد الله عليه السلام ثقة.»  

رجال النجاشي ج1  ص189▫️


✅ نتیجہ:

یہ روایت:

  • سنداً صحیح و معتبر ہے۔
  • شیعہ عقائد سے بالکل ہم آہنگ ہے۔
  • عقلاً و شرعاً شفاعت کے اصول پر دلالت کرتی ہے۔
  • اہل سنت کے عام شفاعت کے تصور سے بھی ٹکراؤ نہیں رکھتی۔

📿 السلام علی الحسین، و علی علی بن الحسین، و علی اولاد الحسین، و علی اصحاب الحسین
🕊 زیارت امام حسین علیہ السلام فقط عبادت نہیں، نجات کا دروازہ ہے…