حضرت عائشہ کا نوحہ کرنا ایک کفریہ عمل صحیح مسلم کے مطابق
"ایک روایت جو 👈🏾صحیح سند کے ساتھ👉🏾 ہے، اس میں بیان ہوا ہے کہ جب رسول خدا ﷺ کا وصال ہوا، تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ‘میں نے اور دیگر ازواجِ نبیؐ نے عزاداری کی، اور میں عورتوں کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنا چہرہ پیٹنے لگی اور سینہ کوبی کی۔’
عبارت:
وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ , وَأَضْرِبُ وَجْهِي”
(یعنی: میں عورتوں کے ساتھ کھڑی ہو کر سینہ کوبی کرنے لگی اور اپنا چہرہ پیٹا)
مکمل روایت:
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , قَالَ:: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: ” مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي , لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا , فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي , ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ , وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ , وَأَضْرِبُ وَجْهِي” .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔
📚مسند الامام احمد بن حنبل،ت :حمزة احمد الزين،ط : دار الحديث،ج 12 ص 199 ح 26227

صحیح مسلم میں بھی رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے:
🔸 ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو چیزیں ایسی ہیں جو لوگوں میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کے اندر کفر ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ خوانی کرنا۔”
67 . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ – اللَّفْظُ لَهُ – حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ».
67. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں میں دو باتیں ہیں، وہ دونوں ان میں کفر (کی بقیہ عادتیں) ہیں: (کسی کے) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔‘‘
📚 (صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ))
https://mohaddis.com/View/Muslim/T2/67
🔹ابو ہریرہؓ کہتے ہیں: "دو باتیں لوگوں میں ایسی رائج ہیں جو ان میں کفر کے زمرے میں آتی ہیں: ایک کسی کے نسب پر طعن کرنا، اور دوسری میت پر نوحہ کرنا۔”

✅ تو اس حدیث کی روشنی میں:
حضرت عائشہ نے جب رسول خدا ﷺ کے وصال کے وقت نوحہ کیا، نہ صرف خود عزاداری کی بلکہ دیگر ازواجِ نبیؐ کو بھی غمزدہ کیا۔
ناصبیوں کے قول کے مطابق، دوسروں کو غمزدہ کرنا "شیطانی عمل” ہے، لہٰذا حضرت عائشہؓ نے ایسا عمل انجام دیا جو ان کے عقیدے کے مطابق "عملِ شیطان” ہے۔
اور جب صحیح مسلم میں آیا ہے کہ نوحہ کرنا "کفر” کے زمرے میں ہے تو ان کے اصول کے مطابق حضرت عائشہؓ کا عمل "کفر” شمار ہوگا۔
💥 لہٰذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: اگر نوحہ اور عزاداری کفر ہے تو حضرت عائشہؓ کا حکم کیا ہے؟
وہ خود نوحہ کرنے والی بھی تھیں،
دوسروں کو غم میں مبتلا کرنے والی بھی،
اور اعمالِ جاہلیت (جو کفر کہلائے) کی مرتکب بھی۔
📛 اب ناصبی حضرات اپنے اصولوں کے مطابق عائشہؓ کے "کافر اور جہنمی” ہونے کا دفاع فرمائیں،
کیونکہ خود انہی کی روایتوں سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عائشہؓ نے وہ تمام کام کیے جنہیں وہ خود کفر، عملِ شیطانی، اور جاہلیت قرار دیتے ہیں۔

