علماء اہلسنت اور عمر بن سعد
◀️ تمام اہل سنت کے علمائے رجال، جیسے ابن حجر، ذہبی، رازی اور دیگر تمام علمائے رجال، عمر بن سعد کو "ثقہ” (قابلِ اعتماد راوی) قرار دیتے ہیں۔
ذہبی اپنی مشہور کتاب "میزان الاعتدال فی نقد الرجال” میں عمر بن سعد کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
🔸 "عمر بن سعد ثقة” – یعنی "عمر بن سعد ثقہ ہے”۔
پھر وہ یحییٰ بن معین کا کلام نقل کرتے ہیں جو حیرت سے کہتے ہیں:
عمر بن سعد ثقة فقال كيف يكون من قتل الحسين ثقة
یعنی: "یہ کیسے ممکن ہے کہ جو حسین کو قتل کرے وہ ثقہ ہو؟!”
🔹 یہ سوال بہت اہم ہے: جو شخص امام حسین علیہ السلام کو قتل کرے، وہ کیسے ثقہ ہو سکتا ہے؟!
📚 ماخذ: الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: علي محمد البجاوي [ت ١٣٩٩ هـ]
الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت – لبنان
الطبعة: الأولى، ١٣٨٢ هـ – ١٩٦٣ م، ج ٣ ص ١٩٩
https://shamela.ws/book/1692/1550

‼️ ذرا غور کریں! یحییٰ بن معین سے پہلے جتنے بھی علمائے رجال گزرے، انہوں نے عمر بن سعد کو بغیر کسی اعتراض کے ثقہ قرار دیا۔ یعنی رسولِ خدا ﷺ کی وفات کے صرف 50 سال بعد (وفات: 11 ہجری، واقعۂ کربلا: 60 ہجری)، اہل بیت کے قاتل کو "ثقہ راوی” مانا جا رہا تھا!
جبکہ دوسری طرف امام جعفر صادق علیہ السلام جیسے عظیم فرزندِ رسولؐ کو تضعیف (ناقابلِ اعتبار) کیا جا رہا ہے! کیوں؟
یہ بالکل واضح ہے:
مخالفینِ تشیع کا بنیادی نظریہ ہی اہل بیتؑ دشمنی پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک فاسق و فاجر حکمران، جو دخترِ رسولؐ اور ان کے نواسوں کے قاتل بھی ہوں، قابلِ اعتراض نہیں — بلکہ وہ ثقہ راوی ہوتے ہیں!
لیکن اہل بیتؑ کے پیروکار، چاہے وہ امام معصوم ہی کیوں نہ ہوں، ان پر اعتراض کرنا ان کے ہاں عام بات ہے!
عمر بن سعد کو علماء اہلسنت ثقہ کہتے ہیں:
⚠️ امام حسین علیہ السلام کے قاتل کو اہل سنت "ثقہ” اور "سچا” مانتے ہیں!!!
👹 عمر بن سعد لعنت اللہ علیہ کے عاشورا کے دن انجام دیے گئے اقدامات:
🔥 ۱- وہ یزید (لعنت اللہ علیہ) کی چند ہزار نفری فوج کے کمانڈروں میں سے تھا۔
🔥 ۲- اسی ملعون نے عاشورا کے دن اپنے سواروں کو حکم دیا کہ امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا جائے۔
🔥 ۳- عمر بن سعد کے حکم پر کئی مرتبہ سید الشہداء (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر سنگ باری کی گئی۔
🔥 ۴- اسی کے حکم پر اس کے دس فوجی (لعنت اللہ علیہم) امام حسین (علیہ السلام) کے مبارک جسمِ اطہر پر گھوڑے دوڑاتے ہیں۔
🔥 اور بھی بہت کچھ…
‼️ لیکن دیکھیں کہ اہل سنت ناصبی کے علمائے رجال عمر بن سعد کے بارے میں کیا کہتے ہیں!
💥 عجلی، جو اہل سنت عمری کے بڑے علما میں سے ہے، لکھتا ہے:
١٣٤٣ – عمر بن سعد بن أبي وَقاص مدنِي ثِقَة كَانَ يروي عَن أَبِيه أَحَادِيث وروى النَّاس عَنهُ وَهُوَ الَّذِي قتل الْحُسَيْن قلت كَانَ أَمِير الْجَيْش وَلم يُبَاشر قَتله
"عمر بن سعد نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں اور دوسرے لوگوں نے بھی اس سے روایت لی ہے۔ وہ تابعی (صحابہ کے بعد کے طبقے سے) ہے اور قابلِ اعتماد ہے۔ وہی ہے جس نے حسین (علیہ السلام) کو قتل کیا!!!”
📕الكتاب: معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم
المؤلف: أبو الحسن أحمد بن عبد الله بن صالح العجلى الكوفى (ت ٢٦١هـ)
المحقق: عبد العليم عبد العظيم البستوي
الناشر: مكتبة الدار – المدينة المنورة – السعودية
الطبعة: الأولى، ١٤٠٥ – ١٩٨٥، ج ٢ ص ١٦٦
https://shamela.ws/book/5825/468

📌 اس تضاد پر غور کریں: جسے کربلا کے ظلم و ستم کا اصل ذمہ دار مانا جائے، اسے اہل سنت کے نزدیک "ثقہ و صادق” کہا جائے!
عمر بن سعد سے لی گئ حدیث:
(1) مسند امام احمد بن حنبل(تحقیق احمد شاکر):
١٤٩٢ – حدثنا عبد الرزاق أنبأنا مَعْمَر عن أبي إسحق عن العَيْزَار بن حُريث عن عُمر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: "عجبت للمؤمن، إذا أصابه خير حمد الله وشكَر، وإن أصابته مصيبة حمد الله وصبر، فالمؤمن يُؤجَر في كل أمره، حتى يؤجَر في اللقمة يرفعها إلى في امرأته”.
(١٤٩٢) إسناده صحيح، وهو مكرر ١٤٨٧.
الكتاب: مسند الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: أحمد بن محمد بن حنبل (١٦٤ – ٢٤١ هـ)
المحقق: أحمد محمد شاكر
الناشر: دار الحديث – القاهرة
الطبعة: الأولى، ١٤١٦ هـ – ١٩٩٥ م،ج 2 ص 233
https://shamela.ws/book/98139/792
(2) مسند امام احمد بن حنبل(تحقیق :شعیب الارنووط):
١٤٨٧ – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ الْمَعْنَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلمُؤْمِنِ، إِنِ أصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ، وَإِنِ أصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ ” (٢)
(٢) إسناده حسن. سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وقد اضطرب عليه فيه، انظر "العلل” للدارقطني ٤/٣٥١-٣٥٣.
الكتاب: مسند الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: الإمام أحمد بن حنبل (١٦٤ – ٢٤١ هـ)
المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت ١٤٣٨ هـ]- عادل مرشد – وآخرون
إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي
الناشر: مؤسسة الرسالة
عدد الأجزاء: ٥٠ (آخر ٥ فهارس)
الطبعة: الأولى، ١٤٢١ هـ – ٢٠٠١ م،ج 3 ص 82
https://shamela.ws/book/25794/1087
(3) سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (البانی)
البانی نے اپنی کتاب السلسلۃ الصحیحۃ میں حدیث نمبر 3396 کے ذیل میں کہا کہ اس کی اور سند ہے جو بہت اچھی ہے جس میں عمر بن سعد موجود ہے:
٣٣٩٦- (لو أنّ ما يُقِلُّ ظفرٌ ممّا في الجنّةِ بدَا؛ لتزخرفَت له خَوافقُ السماواتِ والأرضِ، ولو أنَّ رجُلاً من أهلِ الجنّةِ اطّلع فبدَا أساورُه؛ لطمسَ ضَوءَ الشّمسِ كما تطمسُ الشّمسُ ضَوءَ النُّجومِ)
ج 7 ص 1173
………
والطريق الأخرى: قال البخاري أيضاً: قال محمد بن المثنى: حدثنا وهب ابن جرير: حدثنا أبي: سمعت يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب عن عمر عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه عن النبي- صلى الله عليه وسلم – … فذكره.
قلت: وهذا إسناد جيد أيضاً، رجاله ثقات رجال الشيخين! غير عمر- وهو ابن سعد بن أبي وقاص-، قال الذهبي في "الميزان ":
"هو في نفسه غير متهم؛ لكنه باشر قتال الحسين، وفعل الأفاعيل "
اور دوسری سند یہ ہے: امام بخاری نے بھی کہا: محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن ایوب سے سنا، وہ یزید بن ابی حبیب سے روایت کرتے ہیں، وہ عمر سے، اور وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے بارے میں روایت کرتے ہیں … پھر اس کا ذکر کیا۔
میں کہتا ہوں: یہ بھی ایک اچھا سلسلۂ روایت ہے، اس کے تمام راوی شیخین (بخاری و مسلم) کے ثقہ راوی ہیں، سوائے عمر کے، اور وہ عمر بن سعد بن ابی وقاص ہے۔ امام ذہبی نے "الميزان” میں کہا:
"وہ اپنی ذات میں متہم نہیں ہے، لیکن اس نے حسین (علیہ السلام) کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور بڑے بڑے گناہ کئے۔”
الكتاب: سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها
المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني [ت ١٤٢٠ هـ]
الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض
الطبعة: الأولى لمكتبة المعارف،ج 7 ص 1175

