امام سجاد کا اپنے بابا پر چالیس سال گریہ کرنا
عَنِ الإمام جعفر بن محمد الصَّادِقِ ( عليه السَّلام ) : ” أَنَّ زَيْنَ الْعَابِدِينَ بَكَى عَلَى أَبِيهِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، صَائِماً نَهَارُهُ ، قَائِماً لَيْلُهُ ، فَإِذَا حَضَرَ الْإِفْطَارُ جَاءَ غُلَامُهُ بِطَعَامِهِ وَ شَرَابِهِ فَيَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيَقُولُ : كُلْ يَا مَوْلَايَ .
فَيَقُولُ : قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه و آله ) جَائِعاً ، قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ عَطْشَاناً ، فَلَا يَزَالُ يُكَرِّرُ ذَلِكَ وَ يَبْكِي حَتَّى يُبَلَّ طَعَامُهُ بِدُمُوعِهِ ، وَ يُمْزَجَ شَرَابُهُ بِدُمُوعِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ
امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سے روایت ہے:
"حضرت زین العابدین علیہ السلام نے اپنے والد (امام حسین علیہ السلام) پر چالیس سال تک گریہ کیا۔ دن کو روزے سے اور رات کو عبادت میں مشغول رہتے۔ جب افطار کا وقت آتا، تو ان کا غلام ان کے سامنے کھانے اور پینے کی چیزیں رکھتا، اور کہتا: ‘مولائے محترم! کھائیے۔’
تو آپ فرماتے: ‘رسول اللہ کا بیٹا بھوکا شہید کر دیا گیا، رسول اللہ کا بیٹا پیاسا شہید کر دیا گیا۔’
پھر آپ بار بار یہی جملے دہراتے اور روتے رہتے، یہاں تک کہ آپ کا کھانا آپ کے آنسوؤں سے تر ہو جاتا، اور آپ کا مشروب آپ کے آنسوؤں سے مل جاتا۔ آپ اسی حال میں رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔”
مقتل الحسين عليه السلام المسمى باللهوف في قتلى الطفوف، ص 121


