علی(ع) جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والے

 امیر المؤمنین علیہ السلام کے جنت و جہنم کے تقسیم کرنے والے ہونے کا سبب اور "الکنجی الشافعی” کا اس کے منکروں پر رد

 شیخ صدوق نے اپنی کتاب علل الشرائع میں نقل کیا ہے:

وقد نُقل عن المفضل بن عمر أنه قال: سألت الإمام الصادق عليه السلام: لِمَ سُمِّي أمير المؤمنين علي بن أبي طالب بقسيم الجنة والنار؟ فقال عليه السلام: لأن محبته إيمان، وبغضه كفر، وقد خُلقت الجنة لأهل الإيمان، وخُلقت النار لأهل الكفر، ولهذا السبب فإن علياً عليه السلام قسيم الجنة والنار، فلا يدخل الجنة إلا من كان محباً له، ولا يدخل النار إلا من كان مبغضاً له.

 مفضل بن عمر سے منقول ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا:
"امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کو جنت و جہنم کا تقسیم کرنے والا کیوں کہا جاتا ہے؟”

تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
"اس لیے کہ علی علیہ السلام کی محبت ایمان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے۔ اور جنت اہل ایمان کے لیے پیدا کی گئی ہے، اور جہنم اہل کفر کے لیے۔ اسی سبب سے علی علیہ السلام جنت اور جہنم کے قسیم (تقسیم کرنے والے) ہیں۔ پس جنت میں وہی داخل ہوگا جو ان سے محبت رکھتا ہو، اور جہنم میں وہی جائے گا جو ان سے بغض رکھتا ہو۔”

 علل الشرائع، شیخ صدوق، جلد 1، صفحہ 162

https://lib.eshia.ir/10107/1/162/%D9%88%D8%A8%D8%BA%D8%B6%D8%A9_%D9%83%D9%81%D8%B1

 اور الکنجی الشافعی نے اس بات کا انکار کرنے والوں کے جواب میں لکھا:

فإن قال أحد: إن سند هذه الرواية ضعيف، أقول في الجواب: محمد بن منصور الطوسي يقول: كنا عند أحمد بن حنبل، فسأله أحدهم: ما رأيك في هذا الحديث المنسوب إلى الإمام علي بأنه قال: "أنا قسيم النار”؟ فأجاب أحمد بن حنبل: وما الذي تُنكرونه من هذا الحديث؟ ألسنا قد روينا أن النبي صلى الله عليه وآله قال لعلي: "لا يحبك إلا مؤمن، ولا يبغضك إلا منافق”؟ قلنا: نعم. قال: فأين يكون المنافق؟ قلنا: في النار. قال: إذن فعلي هو قسيم النار.

 "اگر کوئی کہے کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے، تو میں جواب میں کہوں گا:

محمد بن منصور الطوسی کہتے ہیں:
ہم احمد بن حنبل کے پاس بیٹھے تھے، تو کسی نے ان سے پوچھا:
‘آپ کا اس حدیث کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں امام علیؑ کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "أنا قسيم النار” (میں جہنم تقسیم کرنے والا ہوں)؟’
تو احمد بن حنبل نے جواب دیا:
‘تم اس حدیث سے کیا انکار کرتے ہو؟ کیا ہم نے یہ روایت نہیں کی کہ نبی اکرم ﷺ نے علیؑ سے فرمایا: "تم سے صرف مومن محبت کرے گا، اور تم سے صرف منافق بغض رکھے گا”؟’
ہم نے کہا: ہاں۔
انہوں نے کہا: تو پھر منافق کہاں جائے گا؟
ہم نے کہا: جہنم میں۔
انہوں نے کہا: تو پھر علیؑ ہی جہنم کے قسیم (تقسیم کرنے والے) ہیں۔’

 کفایة الطالب، الکنجی الشافعی، صفحہ 72

https://lib.eshia.ir/86841/1/72/%D9%84%D8%A7_%D9%8A%D8%AD%D8%A8%D9%83_%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%A4%D9%85%D9%86