امام حسینؑ پر گریہ

امام حسینؑ پر گریہ کی جزا جنت ہے:

فضائل الصحابة ،المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ):

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ يَدِهِ: نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَقُولُ: مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً، أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ.

منذر بیان کرتے ہیں ،امام حسین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:جسکی آنکھ سے ایک قطرہ آنسو ہمارے غم میں ٹپک پڑا اللہ اسے جنت میں جگہ دے گا۔

[الكتاب: فضائل الصحابة ،المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ)
المحقق: د. وصي الله محمد عباس ،الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣،ج 2 ص 575,حدیث 1154]

https://shamela.ws/book/13136/1132

اردو اسکین

فضائل الصحابہ، ادارة اسلامية لاهور کراچیِ ،تحقیق: شیخ وصی اللہ محمد عباس،ترجمہ و توضیح :حافظ فیض اللہ ناصر، ص 407

امام حسین علیہ السلام پر گریہ اتنی عظیم عبادت ہے کہ پروردگار عالم نے اسکی جزا جنت رکھی ہے۔

حدیث کے اردو مترجم کا اشکال اور اسکا جواب:

مترجم نے باقی سند کے راویوں کی توثیق کی ہے سوائے احمد بن اسرائیل کے، کہتا ہے ہم نے اسکو نہیں پایا(یعنی مجہول ہے)مگر یہ درست نہیں ہے ۔

(۱) ذھبی نے اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں اس کا ترجمہ لکھا ہے اور اسکو حافظ،فقیہ اور بغداد کا شیخ العلماء کہا ہے ۔

(۲)خطیب بغدادی نے کہا:عارف و صدوق تھا ،سنن پر اسنے بڑی تصنیف کی ہے۔

838- 67/11- النجاد الإمام الحافظ الفقيه شيخ العلماء ببغداد أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل البغدادي الحنبلي: ولد سنة ثلاث وخمسين ومائتين، سمع يحيى بن جعفر بن الزبرقان وأحمد بن ملاعب والحسن بن مكرم وأبا داود السجستاني وأبا بكر بن أبي الدنيا وأحمد بن محمد البرتي وإسماعيل بن إسحاق وهلال بن العلاء وطبقتهم؛ قال الخطيب: كان صدوقًا عارفًا، صنف كتابًا كبيرًا في السنن،

الكتاب: تذكرة الحفاظ
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
وضع حواشيه: زكريا عميرات
الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت-لبنان
الطبعة: الأولى، ١٤١٩ هـ- ١٩٩٨ م،ج 3 ص 57

https://al-maktaba.org/book/1583/593

(۳)شعیب الارنووط نے بھی ذھبی کے ترجمہ کو مسند احمد کے حاشیہ میں نقل کیا ہے۔

شعیب الارنووط نے حاشیہ میں اسکا ترجمہ سیر اعلام النبلا سےنقل کیا ہے۔

"هوالإِمَامُ المحدِّث الحَافِظ الفَقِيْه المُفْتِي شَيْخُ العِرَاق”

[الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (٦٧٣ – ٧٤٨ هـ)
المحقق: محمد أيمن الشبراوي
الناشر: دار الحديث، القاهرة – مصر
عام النشر: ١٤٢٧ هـ – ٢٠٠٦ م, ج 10 ص 386]

https://al-maktaba.org/book/22669/5901

تعدیل کے بہترین الفاظ، ثقہ، متقن، ثبت، حجہ، عدل، حافظ و ضابط ہیں:

ﻓﻲ ﺃﻟﻔﺎﻅ ﺍﻟﺠﺮﺡ ﻭﺍﻟﺘﻌﺪﻳﻞ . ﻭﻗﺪ ﺭﺗﺒﻬﺎ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ ﻓﺄﺣﺴﻦ . ﻓﺄﻟﻔﺎﻅ ﺍﻟﺘﻌﺪﻳﻞ ﻣﺮﺍﺗﺐ : ﺃﻋﻼﻫﺎ : ﺛﻘﺔ ﺃﻭ ﻣﺘﻘﻦ ﺃﻭ ﺛﺒﺖ ﺃﻭ ﺣﺠﺔ ، ﺃﻭ ﻋﺪﻝ ﺣﺎﻓﻆ ، ﺃﻭ ﺿﺎﺑﻂ

سیوطی نے ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے کہ :تعدیل کے بہترین الفاظ، ثقہ، متقن، ثبت، حجہ، عدل، حافظ و ضابط ہیں۔

الكتاب: تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي
المؤلف: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (ت ٩١١هـ)
حققه: أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي
الناشر: دار طيبة,ج 1 ص 404

https://shamela.ws/book/9329/382

ذھبی کا اپنی کتاب میں اسکے نام کے ساتھ "حافظ” لگانا ہی اسکی سب سے بڑی تعدیل ہے،جسکو شعیب الارنووط نے بھی مسند امام احمد کے حاشئے میں ذکر کیا ہے۔

ذھبی نے مستدرک علیٰ الصحیحین کی تلخیص میں اس کی روایت کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے:

2291 – أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا: ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، قَالُوا ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَقَالَ مُسْلِمًا، أَقَالَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 2291 – على شرط البخاري ومسلم

مترجم کو احمد بن اسرائیل کا ترجمہ نا ملنا تعجب خیز ہے۔

[الكتاب: المستدرك على الصحيحين
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري
مع تضمينات: الذهبي في التلخيص والميزان والعراقي في أماليه والمناوي في فيض القدير وغيرهم
دراسة وتحقيق: مصطفى عبد القادر عطا
الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤١١ – ١٩٩٠,ج 2 ص 52]

https://shamela.ws/book/2266/2381

اردو اسکین:

مستدرک علی الصحیحین، ترجمہ:شیخ حافظ ابوالفضل محمد شفیق الرحمان قادری

ط: شبیر برادرز لاھور ،ج 2 ص 468

امام حسینؑ کی خبرِ شہادت ملنے پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا:

حضرت ام سلمہؓ سے روایت:

(1) الكتاب: إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة
المؤلف: أحمد بن أبي بكر بن إسماعيل البوصيري

6755 – وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَائِمًا فِي بَيْتِي فَجَاءَ الْحُسَيْنُ يَدْرُجُ قَالَتْ: فَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ فَأَمْسَكْتُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَدْخُلَ فَيُوقِظَهُ. قَالَتْ: ثُمَّ غَفَلْتُ فِي شَيْءٍ فَدَّبَ فَدَخَلَ فَقَعَدَ عَلَى بَطْنِهِ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ نَحِيبَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَجِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ما علمت به. فقال: إِنَّمَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ- عَلَيْهِ السَّلَامُ- وَهُوَ عَلَى بَطْنِي قَاعِدٌ فَقَالَ لِي: أَتُحِبُّهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ أَلَا أُرِيكَ الْتُرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فضرب بجناحه فأتاني هذه التربة. قالت:

فإذا فِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ وَهُوَ يَبْكِي وَيَقُولُ: لَيْتَ شِعْرِي مَنْ يَقْتُلُكَ بَعْدِي ". رَوَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ مُخْتَصَرًا عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ عَلَى الشَّكِّ.

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے ،وہ فرماتی ہیں:پیغمبر اکرم اپنے گھر میں سو رہے تھے،اتنے میں امام حسین علیہ السلام گھر میں داخل ہوئےاور دورازے پے بیٹھ گئے،امام حسین علیہ السلام کی عمر اس وقت پانچ برس سے زیادہ نہیں تھی،جناب ام سلمہ کہتی ہیں :میں بھی دروازے پر بیٹھ گئی اور یہ سوچ کر انکو روک لیا کہ انکے اندر جانے سے کہیں رسول اکرمؐ بیدار نہ ہو جائیں ،میرا دھیان کسی اور طرف گیا ہی تھا کہ امام حسینؑ گھٹنیوں کے بل چلتے ہوئے آپؐ کے حجرہ مبارک کے اندر داخل ہو گئے اور آپ کے شکم مبارک پر بیٹھ گئے،ام سلمہ فرماتی ہیں :میں نے رسول اکرم کے بلند گریہ(نحیب:سسکیوں کے ساتھ سخت گریہ،بلند آواز سے سسکیوں کے ساتھ رونا) کی آواز سنی ،اندر داخل ہو کر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ کیا ہو گیا؟رسول اکرمؐ نے فرمایا:ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور حسینؑ میرے شکم پر بیٹھے ہوئے تھے،اس نے سوال کیا:کیا آپؐ اس سے محبت کرتے ہیں؟تو میں نے کہا:ہاں،جبرائیل نے کہا:آپؐ کی امت انہیں قتل کرے گی،کیا آپؐ کو وہ خاک دکھاوں جس پر حسینؑ شہید ہونگے؟میں نے کہاں:ہاں!پس جبرائیل نے پر مارا اور میرے لئے وہ تربت لے آئے،جناب ام سلمہ فرماتی ہیں:اس وقت رسول اکرمؐ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی ،آپؐ رو رہے تھے اور کہ رہے تھے:کاش مجھے معلوم ہوتا کون تمہیں قتل کرےگا میرے بعد۔

[الكتاب: إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة
المؤلف: أحمد بن أبي بكر بن إسماعيل البوصيري
تقديم: د أحمد معبد عبد الكريم
(عضو هيئة التدريس بجامعة الإمام محمد بن سعود سابقا)
المحقق: دار المشكاة للبحث العلمي بإشراف أبو تميم ياسر بن إبراهيم
الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض – السعودية
الطبعة: الأولى، ١٤٢٠ هـ – ١٩٩٩ م,ج 7 ص 238]

https://shamela.ws/book/21765/3238#p1

(2) الكتاب: فضائل الصحابة ,المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ):

1357 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا: ” لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا، فَقَالَ: لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ فَإِنْ شِئْتَ آتِيكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ: فَأَخْرَجَ إِلَيَّ تُرْبَةً حَمْرَاءَ ".

حضرت ام سلمہ یا عائشہ سے روایت ہےرسولؐ اکرم نے ارشاد فرمایا:میرے گھر میں ایک فرشتہ آیا،جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا ،اس نے مجھ سے کہا :آپؐ کے اس صاحبزادے کو شہید کر دیا جائے گا ،اگر آپؐ چاہیں تو آپ کے لئے اس جگہ کی مٹی بھی لا سکتا ہوں جس جگہ ان کی شہادت ہوگی۔پھر اس نے مجھے سرخ مٹی نکال کر دی۔

[الكتاب: فضائل الصحابة
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ)
المحقق: د. وصي الله محمد عباس
الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣,ج 2 ص 770]

https://al-maktaba.org/book/13136/1336

اردو اسکین

فضائل الصحابہ، ادارة اسلامية لاهور کراچیِ ،تحقیق: شیخ وصی اللہ محمد عباس،ترجمہ و توضیح :حافظ فیض اللہ ناصر، ص 488 , ح 1357

1391 – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحُسَيْنُ مَعِي فَبَكَى، فَتَرَكْتُهُ فَدَنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتُ أُرِيتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَإِذَا الْأَرْضُ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ.

حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں:جبرائیلؑ نبیؐ کے پاس موجود تھےاور حسینؑ میرے ساتھ تھے،وہ رونے لگ گئے تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ،وہ نبیؐ کے پاس چلے گئے،تو جبرائیلؑ نے کہا:ائے محمد!کیا آپؐ اس سے محبت کرتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا:ہاں!جبرائیل نے کہا:یقینا آپ کی امت عنقریب اسے شہید کر دے گی اور اگر آپؐ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی بھی دکھا دیتا ہوں جس میں انکی شہادت ہوگی ،پھر انہوں نے آپ کو وہ مٹی دکھائی تو وہ اس زمین کی تھی جس کو کربلا کہا جاتا ہے۔

[الكتاب: فضائل الصحابة
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ)
المحقق: د. وصي الله محمد عباس
الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣,ج 2 ص 782]

https://shamela.ws/book/13136/1370

اردو اسکین

فضائل الصحابہ، ادارة اسلامية لاهور کراچیِ ،تحقیق: شیخ وصی اللہ محمد عباس،ترجمہ و توضیح :حافظ فیض اللہ ناصر، ح 1391

حضرت انس بن مالک سے روایت:

(1) كتاب: المسند (تحقيق: أحمد شاكر – حمزة الزين) ,المؤلف: الإمام ابن حنبل؛ أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد الله، الشيباني الوائلي:

13794 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: ” احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ "، فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ، فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” نَعَمْ "، قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا، قَالَ: ” فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ "

حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالی سے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی ،اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی،نبیؐ نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ سے فرمایا:دروازے پر اس چیز کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے ،تھوڑی دیر میں حضرت امام حسینؑ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا،حضرت ام سلمہ نے انکو روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہو گئے اور جاکر نبیؐ کی پشت پر پیٹھنے لگے،اس فرشتے نے نبیؐ سے پوچھا کہ کیا آپؐ کو اس سے محبت ہے؟نبی کریمؐ نے فرمایا:ہاں!تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھیئے!آپ کی امت اسے قتل کر دے گی ،اگر آپ چاہیں تو میں آپؐ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہونگے ،یہ کہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا اور اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آ گئی،حضرت ام سلمہ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔

[كتاب: المسند (تحقيق: أحمد شاكر – حمزة الزين)

المؤلف: الإمام ابن حنبل؛ أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد الله، الشيباني الوائلي

المحقق: أحمد شاكر – حمزة الزين

حالة الفهرسة: غير مفهرس

الناشر: دار الحديث

سنة النشر: 1416 – 1995, ج 11 ص 274]

https://ar.pdf.lib.efatwa.ir/90859/11/274

اردو اسکین:

مسند امام احمد بن حنبل، ترجمہ:مولانا محمد ظفر اقبال،ط:مکتب رحمانیہ، ج 5 ص 810

(2) صحيح ابن حبان: المسند الصحيح على التقاسيم والأنواع من غير وجود قطع في سندها ولا ثبوت جرح في ناقليها:

٤٨٥٥ – أَخبَرنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَ: حَدثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، قَالَ: حَدثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلى الله عَلَيه وسَلم، فَأَذِنَ لَهُ، فَكَانَ فِي يَوْمِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيه وسَلم: "احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ”، فَبَيْنَا هِيَ عَلَى الْبَابِ إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَطَفَرَ، فَاقْتَحَمَ فَفَتَحَ الْبَابَ فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يَتَوَثَّبُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيه وسَلم، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَتَلَثَّمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ”، قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ”، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَهُ بِسَهْلَةٍ أَوْ تُرَابٍ أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَعَلَتْهُ فِي ثَوْبِهَا.

قَالَ ثَابِتٌ: كُنَّا نَقُولُ: إِنَّهَا كَرْبَلَاءُ. [٦٧٤٢]

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ بارش کے فرشتے نے پروردگار سے اجارت مانگی کہ وہ نبیؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہو ،پروردگار نے اسکو اجازت دے دی،نبیؐ اکرم اس دن ام المومنین جناب ام سلمہ کے یہاں تھے،نبیؐ اکرم نے ان سے کہا کہ دروازے پر خیال رکھنا کہ کوئی اندر داخل ہونے پائے ،اس لئے ام المومنین جناب ام سلمہ دروازے پر ہی موجود تھیں کہ اسی وقت حضرت امام حسین علیہ السلام داخل ہوئے ،انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے اور نبیؐ کی پشت پر چڑھنے لگے ،نبیؐ اکرم انہیں لپٹانے لگے اور ان کا بوسہ لینے لگے،فرشتے نے نبیؐ اکرم سے دریافت کیا:کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ؟ نبیؐ اکرم نے جواب دیا:ہاں!فرشتے نے جواب دیا لیکن آپؐ کی امت انہیں شہید کر دے گی اور اگر آپؐ چاہیں تو میں آپکو وہ جگہ دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا،نبیؐ اکرم نے کہا :دکھاو وہ مقام،تو اس فرشتے نے اس جگہ کی مٹی لی جہاں امام حسینؑ کو شہید کیا جانا تھا اور نبیؐ اکرم کو دکھائی وہ نرم اور باریک مٹی تھی (راوی کو شک ہوا شائد یہ الفاظ تھے)سرخ مٹی لایا تھا۔جناب ام سلمہ نے وہ مٹی اپنے کپڑے میں رکھ لی۔

ثابت کہتے ہیں :ہم کہا کرتے تھے وہ زمین کربلا ہے۔

[الكتاب: صحيح ابن حبان: المسند الصحيح على التقاسيم والأنواع من غير وجود قطع في سندها ولا ثبوت جرح في ناقليها
المؤلف: أبو حاتم محمد بن حبان بن أحمد التميمي البُستي (ت ٣٥٤ هـ)
المحقق: محمد علي سونمز، خالص آي دمير
الناشر: دار ابن حزم – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٣٣ هـ – ٢٠١٢ م, ج 6 ص 51]

https://shamela.ws/book/537/5270

اردو اسكين:

الاحسان في تقريب صحيح ابن حبان,

ط:شبير برادرز اردو بازار لاهور,ج 7 ص 376

حضرت ابو امامہ کی روایت:

المعجم الكبير,المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ):

8096 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسَائِهِ: «لَا تُبْكُوا هَذَا الصَّبِيَّ» – يَعْنِي حُسَيْنًا – قَالَ: وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّاخِلَ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: «لَا تَدَعِي أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيَّ» فَجَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَاحْتَضَنَتْهُ وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسْكِنُهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي؟» قَالَ: نَعَمْ، يَقْتُلُونَهُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً، فَقَالَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا كَاسِفَ الْبَالِ، مَهْمُومًا، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا تُبْكُوا هَذَا الصَّبِيَّ، وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ يَدْخُلُ عَلَيْكَ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا» . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللهِ يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ» وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا

حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں:حضور اکرم نے عورتوں سے فرمایا:اس بچے(امام حسینؑ)کو مت رلانا(جو اس وقت کم سن تھے)،ابو امامہ فرماتے ہیں:حضرت ام سلمہ کی باری کا دن تھا،پس حضرت جبرائیل تشریف لائے رسولؐ اکرم حجرہ مبارک میں داخل ہوئے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:میرے پاس کسی کو داخل نہ ہونے دینا۔امام حسینؑ تشریف لائے اور انہوں نے نبیؐ کریم کی طرف دیکھا کہ آپ حجرہ میں ہیں تو داخل ہونا چاہا لیکن جناب ام سلمہ نے ان کو پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور ان کو بہلانے لگیں،تاکہ حضور اکرمؐ کی طرف نہ جائیں ،جب امام حسینؑ زیادہ رونے لگے تو جناب ام سلمہ نے انکو چھوڑ دیا،وہ حجرہ کے اندر داخل ہو کر نبیؐ کی گود میں بیٹھ گئے ،حضرت جبرائیلؑ نے کہا:آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی ،نبیؐ کریم نے فرمایا:کیا وہ اس کو قتل کرینگے اور وہ مومن ہونگے،حضرت جبرائیلؑ نے کہا:ہاں! وہ ہی اس کو قتل کرینگے۔پس جبرائیلؑ نے ان کے مقتل کی مٹی پکڑ کر کہا:فلاں فلاں جگہ کی ہے ،پس رسولؐ اکرم امام حسینؑ کو اپنی گود میں لے کر حجرے سے باہر نکلے ،دل کی حالت غمگین اور بدلی ہوئی تھی ،حضرت ام سلمہ نے گمان کیا کہ بچے کے داخل ہونے کی وجہ سے غصے میں ہیں ،عرض کی :ائے اللہ کے نبیؐ! میں آپ پر قربان،آپ نے فرمایا تھا کہ اس بچے کو نہ رلانا اور مجھے حکم دیا تھا کہ کسی کو حجرہ میں داخل نہ ہونے دینا،پس یہ آئے تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ،آپؐ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا ،آپؐ نکل کر صحابہ کی طرف چلے گئے،وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سے فرمایا:بے شک میری امت اس بچے کو قتل کرے گی،ان لوگوں میں ابوبکر و عمر بھی تھے ،یہ دونوں آپ کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے،ان دونوں نے عرض کی :ائے اللہ کے نبی!وہ مومن ہو کر بھی قتل کرینگے ؟فرمایا:ہاں!،یہ ان کے قتل گاہ کی مٹی ہے،ان سے کو دکھایا۔

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)
المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي
دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية
عدد الأجزاء:٢٥
ويشمل القطعة التي نشرها لاحقا المحقق الشيخ حمدي السلفي من المجلد ١٣ (دار الصميعي – الرياض / الطبعة الأولى، ١٤١٥ هـ – ١٩٩٤ م، ج 8 ص 285]

https://shamela.ws/book/1733/10031

(تصحيح) سير أعلام النبلاء ,المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ):

امام ذھبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں امام حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام کے ترجمہ میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور روایت کو حسن درجہ کا کہا ہے۔

[الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: حسين أسد (جـ ١، ٦)، شعيب الأرنؤوط (جـ ٢، ٥، ١٩، ٢٠)، محمد نعيم العرقسوسي (جـ ٣، ٨، ١٠، ١٧، ١٨، ٢٠)، مأمون الصاغرجي (جـ ٤)، علي أبو زيد (جـ ٧، ١٣)، كامل الخراط (جـ ٩)، صالح السمر (جـ ١١، ١٢)، أكرم البوشي (جـ ١٤، ١٦)، إبراهيم الزيبق (جـ ١٥)، بشار معروف (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)، محيي هلال السرحان (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)
بإشراف: شعيب الأرناؤوط
تحقيق قسم السيرة النبوية والخلفاء الراشدون: بشار عواد معروف
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م, ج 3 ص 289]

https://shamela.ws/book/10906/2897

رسول اکرمؐ اور امیرالمومنینؑ کا امام حسینؑ پر گریہ،رسول خدا کا امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہما السلام کو امام حسین کی شہادت کی خبر دینا:

نجی حضرمی سے روایت:

37367 – مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ عَلِيٍّ , وَكَانَ صَاحِبَ مَطْهَرَتِهِ حَتَّى حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى: صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , فَقُلْتُ: مَاذَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا لِعَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ , فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا»

حضرت نجی خضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے حضرت علیؑ کے ساتھ سفر کیا،وہ حضرت علیؑ کے لئے وضو کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہو گئے،ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا،انہوں نے پکارا ٹھرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ ،میں نے کہا کیا ہو گیا ابوعبداللہ کو؟انہوں نے کہا میں نبیؐ کے پاس گیااس حالت میں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے،حضرت علیؑ نے بتلایا میں نے عرض کیا ائے اللہ کے رسولؐ آپ کی آنکھیں بہ رہی ہیں ،کیا کسی نے آپ کو غصہ دلا دیا ہے؟آپؐ نے فرمایا:جبرائیلؑ میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہ پڑیں۔

[الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار ,المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)
المحقق: كمال يوسف الحوت ،الناشر: مكتبة الرشد – الرياض
الطبعة: الأولى، 1409،ج 7 ص 478]

http://lib.efatwa.ir/42216/7/478/37367

اردو اسکین

کتاب:مصنف ابن ابی شیبہ، ترجمہ:مولانا محمد اویس سرور،ط:مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور،ج 11 ص 576

حدیث کی تصحیح:

بوصیری نے اس روایت کو اپنی کتاب أتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة میں نقل کرنے کے بعد مصنف أبن أبي شيبة والی روایت کی تصحیح کی ہے:

رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَأَبُو يَعْلَى بِسَنَدٍ صَحِيحٍ.

[الكتاب: إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة
المؤلف: أحمد بن أبي بكر بن إسماعيل البوصيري
تقديم: د أحمد معبد عبد الكريم
(عضو هيئة التدريس بجامعة الإمام محمد بن سعود سابقا)
المحقق: دار المشكاة للبحث العلمي بإشراف أبو تميم ياسر بن إبراهيم
الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض – السعودية
الطبعة: الأولى، ١٤٢٠ هـ – ١٩٩٩ م، ج 7 ص 238]

https://shamela.ws/book/21765/3238

ابن حجر نے اپنی کتاب صوائق محرقہ میں نقل کیا ہے کہ:

ابن سعد نے شعبی سے بیان کیا ہے کہ صفین کی طرف جاتے ہوئے حضرت علیؑ کربلا سے گزرے ،یہ فرات کے کنارے نینوی بستی کے بالمقابل ہے ۔آپ نے کھڑے ہو کر اس زمین کا نام پوچھا، آپ کو بتایا گیا کہ اس زمین کو کربلا کہتے ہیں ،تو آپ رو پڑے ،یہاں تک کے آپ کے آنسوں سے زمین تر ہو گئی ،پھر فرمایا میں رسول کریم کے پاس گیا تو آپ رو رہے تھے،میں نے پوچھا آپ کس وجہ سے گریہ کناں ہیں؟فرمایا:ابھی جبرائیل آئے تھے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسینؑ فرات کے کنارے ایک جگہ قتل ہوگا،جسے کربلاء کہا جاتا ہے ،پھر جبرائیل نے ایک مٹھی مٹی مجھے سونگھائی تو میں اپنے آنسووں کو روک نہ سکا۔

صواعق محرقہ، ترجمہ:علامہ اختر فتحپوری ،ط:شبیر برادرز اردو بازار لاھور

ص:641

نبیؐ کریم نے جناب ام سلمہ کو خواب میں امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دی اور امام حسینؑ پر کا گریہ کیا:

ترمذی نے روایت نقل کی کہ جناب ام سلمہ نے نبیؐ اکرم کو روتے ہوئے دیکھا اور آپ کے سر اور داڑھی میں مٹی پڑی ہوئی تھی ،آپ نے نبیؐ اکرم سے اس حال کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا :ابھی حسینؑ کو قتل کیا گیا ہے۔

صواعق محرقہ، ترجمہ:علامہ اختر فتحپوری ،ط:شبیر برادرز اردو بازار لاھور ص:642

اس روایت کو حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں نقل کیا ہے ،تلخیص میں ذھبی نے اس روایت پر سکوت اختیار کیا ہے۔

6764 – أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنِي رَزِينٌ، حَدَّثَتْنِي سَلْمَى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ يَبْكِي وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا»

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 6764 – سكت عنه الذهبي في التلخيص

[الكتاب: المستدرك على الصحيحين
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري
مع تضمينات: الذهبي في التلخيص والميزان والعراقي في أماليه والمناوي في فيض القدير وغيرهم
دراسة وتحقيق: مصطفى عبد القادر عطا
الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤١١ – ١٩٩٠, ج 4 ص 20]

https://shamela.ws/book/2266/7485

نبیؐ کریمؐ کا حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کو خواب میں امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دینا،امام حسینؑ کے غم میں آپؐ کے بال بکھرے ہوئے اور لباس گرد آلود تھے:

حضرت ابن عباس علیہ السلام سے روایت:

(1)مسند الإمام أحمد بن حنبل,المؤلف: الإمام أحمد بن حنبل (١٦٤ – ٢٤١ هـ):

2165 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ ” قَالَ عَمَّارٌ: ” فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ "

میں نے ایک مرتبہ نصف نہار کے وقت خواب میں نبیؐ اکرم کی زیارت کی اور آپ کے بال بکھرے ہوئے اور لباس گرد آلود تھے،آپ کے پاس ایک بوتل تھی جس میں خون تھا ،آپؐ اس میں کوئی چیز تلاش کر رہے تھے ،میں نے عرض کیا:ائے اللہ کے رسولؐ یہ کیا ہے؟تو آپؐ نے فرمایا:یہ حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔عمار کہتے ہیں ہم نے وہ تاریخ یاد رکھی پھر معلوم ہوا کہ امام حسینؑ کی اسی دن شہادت ہوئی تھی۔

[الكتاب: مسند الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: الإمام أحمد بن حنبل (١٦٤ – ٢٤١ هـ)
المحقق: شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد، وآخرون
إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي
الناشر: مؤسسة الرسالة
عدد الأجزاء: ٥٠ (آخر ٥ فهارس)
الطبعة: الأولى، ١٤٢١ هـ – ٢٠٠١ م, ج 4 ص 59-60 ,ح 2165]

https://shamela.ws/book/25794/1569#p1

(2)فضائل الصحابة,المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ):

١٣٨٠ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

[الكتاب: فضائل الصحابة
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ)
المحقق: د. وصي الله محمد عباس
الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣, ج 2 ص 778 ,ح 1380]

https://shamela.ws/book/13136/1359

اردو اسکین

فضائل الصحابہ، ادارة اسلامية لاهور کراچیِ ،تحقیق: شیخ وصی اللہ محمد عباس،ترجمہ و توضیح :حافظ فیض اللہ ناصر، ص 490 ,ح 1380

(3)التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة,المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي الأندلسي ثم القرطبي (ت ٦٧١ هـ):

وذكر الإمام أحمد بن حنبل (١)قال: ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ ” قَالَ عَمَّارٌ: ” فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ” ، وهذا سند صحيح لا مطعن فيه.

الكتاب: التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة
المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي الأندلسي ثم القرطبي (ت ٦٧١ هـ)
تحقيق ودراسة: د. الصادق بن محمد بن إبراهيم
أصل التحقيق: أطروحة دكتوراة من الجامعة الاسلامية، ١٤٢٣ هـ
الناشر: مكتبة دار المنهاج للنشر والتوزيع، الرياض – السعودية
الطبعة: الأولى، ١٤٢٥ هـ, ج 3 ص 1120

https://shamela.ws/book/21536/1113

اردو اسکین:

کتاب:سفر آخرت کی منازل(التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة)،مولانا غلام نصیر الدین گولڈوی ،ط: فرید بک سٹال اردو بازار لاھور،ج 2 ص 443-444

اسی روایت کو ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں نقل کیا ہے۔

صواعق محرقہ، ترجمہ:علامہ اختر فتحپوری ،ط:شبیر برادرز اردو بازار لاھور

ص:643

عمار ابن ابو عمار سے روایت:

فضائل الصحابة ,المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ):

1396 – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ أَشْعَثُ أَغْبَرُ فِي يَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا الدَّمُ؟ فَقَالَ: «دَمُ الْحُسَيْنِ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ» .

عمار ابن ابو عمار بیان کرتے ہیں:ابن عباس نے ایک دن نصف نہار کے وقت خواد میں نبیؐ اکرم کو دیکھا،آپؐ کے بال بکھرے ہوئے اور لباس غبار آلود تھا،اور آپ کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی جس میں خون تھا،میں نے عرض کیا:ائے اللہ کے رسول!یہ خون کیسا ہے؟تو آپؐ نے فرمایا:یہ حسینؑ اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے ،میں صبح سے اسکی تلاش میں لگا ہوا ہوں،اس دن کو یاد رکھ لیا گیا،پھر لوگوں نے دیکھا کہ امام حسینؑ اسی روز شہید کئے گئے۔

[الكتاب: فضائل الصحابة
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ)
المحقق: د. وصي الله محمد عباس
الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣, ج 2 ص 784 ,ح 1396]

https://shamela.ws/book/13136/1375

اردو اسکین

فضائل الصحابہ، ادارة اسلامية لاهور کراچیِ ،تحقیق: شیخ وصی اللہ محمد عباس،ترجمہ و توضیح :حافظ فیض اللہ ناصر، ص 495,ح 1396

جس شخص نے خواب میں رسولؐ اکرم کو دیکھا اس نے بلا شبھہ رسولؐ اکرم کو ہی خواب میں دیکھا

جس شخص نے خواب میں رسولؐ اکرم کو دیکھا اس نے بلا شبھہ رسولؐ اکرم کو ہی خواب میں دیکھا:

صحیح بخاری کی حدیث:

محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے:

110 – حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي المَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

ہم سے موسی نے بیان کیا ،ان سے ابوعوانہ نے ابو حصین کے واسطہ سے نقل کیا،وہ ابوصالح سے روایت کرتےہیں ،وہ ابو ہریرہ سے وہ رسولؐ اکرم سے کہ(اپنی اولاد)کا میرے نام کے اوپر نام رکھو،مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلا شبہ اس نے مجھے دیکھا۔کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا،اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے۔

صحیح بخاري حدیث 110 حدیث 6197

https://sunnah.com/bukhari:110

مفتی تنظیم عالمی قاسمی اور محدث دہلوی کا اقرار:

مفتی تنظیم عالم قاسمی‏،  استاذ حدیث دارالعلوم سبیل السلام، حیدرآباد ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 2‏، جلد: 92 ‏، صفرالمظفر 1429 ہجری مطابق فروری 2008ء میں لکھتے ہیں :

     برصغیر کے مایہ ناز محدث حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اچھے اور بہتر خواب کی درج ذیل ۹ صورتیں بیان کی ہیں جس میں سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا ہے۔

مزید لکھتے ہیں :

یاد رہے کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے خواب میں دیکھا تو وہ خواب سچا اور صحیح ہوگا، اس میں جھوٹ یا دھوکہ کاکوئی شائبہ نہیں، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے درحقیقت مجھ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ (مشکوٰة:۳۹۴)

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1417495356%2006-Khawab%20Ki%20Haqiqat_MDU_02_FEB_2008.htm

ابن باز کا اقرار:

ابن باز نے ایک سوال(بہت سے ہمارے علماء کہتے ہیں کہ نبیؐ کریم کو خواب میں دیکھنا ممکن ہے اور رسولؐ اکرم کو خواب میں دیکھنا حقیقیت میں دیکھنا ہے کیونکہ شیطان نبیؐ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا،کیا ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے؟)کے جواب میں فرماتے ہیں:

الجواب: هذا القول حق وهو من عقيدة المسلمين وليس فيه شرك؛ لأنه قد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من رآني في المنام فقد رآني فإن الشيطان لا يتمثل في صورتي» متفق على صحته. فهذا الحديث الصحيح،

جواب:یہ قول حق ہے اور یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے ،اس میں شرک نہیں ہے،کیونکہ یہ نبیؐ اکرم کی حدیث سے ثابت ہے (جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں دیکھا،کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا)اسکی صحت متفق ہے،یہ حدیث صحیح ہے۔

https://binbaz.org.sa/fatwas/47/%D8%B1%D9%88%D9%8A%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-%EF%B7%BA-%D9%81%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%85

گویا جناب ام سلمہ اور حضرت ابن عباسؓ کا نبیؐ اکرم کو خواب میں دیکھنا محض خواب نہیں تھا،اسی لئے جب دن کو شمار کیا گیا تو وہ وہی دن نکلا جس دن امام حسینؑ کو شہید کیا گیا تھا، یعنی نبیؐ اکرم واقعی گریہ کر رہے تھے،ان کے بال حقیقت میں بکھرے اور لباس گرد آلود تھے۔

جِنات کا امام حسینؑ پر گریہ کرنا:

(1)سير أعلام النبلاء ,المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ):

امام ذھبی نے سیر اعلام النبلاء میں ،امام حسینؑ کے ترجمہ میں جناب ام سلمہ سے روایت نقل کی ہے:

"حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ: عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ:

سَمِعْتُ الجِنَّ يَبكِيْنَ عَلَى حُسَيْنٍ، وَتَنُوحُ عَلَيْهِ”

حماد بن سلمہ عمار بن ابو عمار سے بیان کرتے ہیں ،میں نے ام سلمہؓ کو کہتے ہوئے سنا:میں نے جن کو امام حسینؑ پر گریہ کرتے ہوئے اور ان پر نوحہ پڑھتے ہوئے سنا۔

سير اعلام النبلاء – ط بيت الافكار الدولية , المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ),ص 1495

https://ito.pdf.lib.eshia.ir/96275/1/1495

[الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: حسين أسد (جـ ١، ٦)، شعيب الأرنؤوط (جـ ٢، ٥، ١٩، ٢٠)، محمد نعيم العرقسوسي (جـ ٣، ٨، ١٠، ١٧، ١٨، ٢٠)، مأمون الصاغرجي (جـ ٤)، علي أبو زيد (جـ ٧، ١٣)، كامل الخراط (جـ ٩)، صالح السمر (جـ ١١، ١٢)، أكرم البوشي (جـ ١٤، ١٦)، إبراهيم الزيبق (جـ ١٥)، بشار معروف (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)، محيي هلال السرحان (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)
بإشراف: شعيب الأرناؤوط
تحقيق قسم السيرة النبوية والخلفاء الراشدون: بشار عواد معروف
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م، ج 3 ص 316]

https://shamela.ws/book/10906/2924

(2)البداية والنهاية ,المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي (ت ٧٧٤ هـ):

اس روایت کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ "البدایۃ والنھایۃ”میں نقل کیا اور اسکی تصحیح کی:

"وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عمارة عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتِ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهَذَا صَحِيحٌ”

روایت کی ہے حماد بن سلمہ نے عمار بن ابو عمار ہ سے انہوں نے ام سلمہ سے کہ انہوں نے جن کو امام حسینؑ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا،اور یہ صحیح ہے۔

[الكتاب: البداية والنهاية
المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي (ت ٧٧٤ هـ)
طبع: مطبعة السعادة – القاهرة
عدد الأجزاء: ١٤
وصَوّرتها: دار الفكر – بيروت، مع زيادة مجلد فهارس، ١٥, ج 8 ص 201]

https://shamela.ws/book/23708/2683

اردو اسکین :

تاریخ ابن کثیر ،نفیس اکیڈمی،ج ۶ ص ۳۱۳

زمین اور آسمان کا گریہ:

امام حسین کے غم میں زمین و آسمان کا گریہ:

الملا نے بیان کیا ہے کہ حضرت علیؑ قبر حسینؑ کے پاس سے گزرےاور فرمایا کہ یہاں ان کے سواریوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہاں ان کے کوچ کی جگہ ہے وہ اس میدان میں قتل ہونگے اور زمین اور آسمان ان پر روئینگے۔

(ابن حجر نے اس روایت کو صواعق محرقہ میں نقل کیا ہے ،کیونکہ یہ کتاب ابن حجر نے مکتب تشیع کے خلاف لکھہی ہے اس لئے اس روایت کو یہاں ذکر کیا ہے)۔

صواعق محرقہ، ترجمہ:علامہ اختر فتحپوری ،ط:شبیر برادرز اردو بازار لاھور

ص:642

امام حسینؑ کے قتل کے بعد رونما ہونے والے واقعات:

ابن کثیر نے اپنی تاریخ”البدایۃ والنہایۃ” میں امام حسینؑ کی شہادت کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا تزکترہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"انہوں(قتادہ)نے آپ کے قتل کے بارے میں بہت سی باتوں کے وقوع پزیر ہونے کا ذکر کیا ہے،مثلاً یہ کہ اس روز سورج کو گرہن لگا تھا مگر یہ ضعیف قول ہے اور یہ کہ آسمان کے کناروں میں تبدیلی ہو گئی تھی،اور جو پتھر منقلب ہوتا اس کے نیچے خون پایا جاتا اور ان سے بعض نے اس بات کو بیت المقدس کے پتھروں سے مخصوص کیا ہے اور یہ کہ ورس راکھ میں تبدیل ہو گئی تھی اور گوشت حنطل کی طرح ہو گیا اور اس میں آگ بھی تھی وغیرہ وغیرہ ،ان میں سے بعض باتوں میں نکارت پائی جاتی ہے اور بعض میں احتمال پایا جاتا ہے۔

رسولؐ اللہ وفات پا گئے جو دنیا و آخرت میں سید ولد آدم تھے مگر ان باتوں میں سے کسی کا وقوع نہیں ہوا ،اسی طرح آپؐ کے بعد ابوبکر کی وفات ہوئی ،عمر فجر کی نماز پڑھتے ہوئے محراب میں قتل ہوئے مگر ان میں سے کسی بات کا وقوع نہیں ہوا ،عثمان کا ان کے گھر میں محاصرہ ہوا ،حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام نماز فجر کے بعد محراب مسجد میں شہید ہوئے ،مگر ان میں سے کسی بات کا وقوع نہیں ہوا”۔

ابن کثیر نے یہ مقایسہ اپنی ناصبیت کا ثبوت دینے کے لئے کیا ہےیا اسکی کوئی اور وجہ سے ،واللہ اعلم

اور شہادت امام حسینؑ کے بعد رونما ہونے والے حادثات میں سے بعض میں نکارت پائی جاتی ہے بعض میں احتمال،مگر ذکر نہیں کیا کس میں نکارت پائی جاتی ہے کس میں احتمال،گویا سب حادثات کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔

تاریخ ابن کثیر ،نفیس اکیڈمی،ج ۶ ص ۳۱۳

جبکہ ایسے واقعات طبرانی نے اپنی کتاب (المعجم الکبیر)میں نقل کیا ہےاورھیثمی نے ان روایات کی تصحیح (مجمع الزوائد و منبع الفوائدمیں) کی ہے۔

بیت المقدس کے پاس جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اسکے نیچے تازہ خون نکلتا:

المعجم الكبير ,المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)

2856 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، أَنَا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَخْبَرْتَنِي أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ؟ قَالَ: قُلْتُ: «لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٌ» . فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ

امام زھری فرماتے ہیں:عبدالملک بن مروان نے مجھ سے پوچھا کہ تو ہی ایک آدمی ہے جو مجھے خبر دے سکتا ہے کہ حسین بن علی کی شہادت کے دن کون سی علامت تھی؟میں نے کہا:بیت المقدس کے پاس جو بھی پتھر اٹھایا جاتا تو اس کے نیچے سے تازہ خون نکلتا،تو عبدالملک نے کہا:اس بات میں تو اور میں ساتھی ہیں۔

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)
المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي
دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية,ج 3 ص 119]

https://shamela.ws/book/1733/3403

اردو اسکین

المعجم الکبیر ،مترجم: غلام دستگیر چشتی سیالکوٹی،پروگیسو بکس، ج 2 ص 423

ھیثمی نے اپنی کتاب مجمع الزوائد و منبع الفوائد میں کہا اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں:

(تصحيح)مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ,المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ):

15159 – وَعَنِ الزَّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَعْلَمْتَنِي، أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. فَقَالَ: قُلْتُ: لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٍ، فَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ.(رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ).

[الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ)
المحقق: حسام الدين القدسي
الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة
عام النشر: ١٤١٤ هـ، ١٩٩٤ م, ج 9 ص 196]

https://shamela.ws/book/61/2839

شام میں پتھر کے نیچے سے تازہ خون نکلنا:

المعجم الكبير, المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ):

2835 – حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»

ابن شہاب فرماتے ہیں:شام میں کوئی پتھر اٹھایا جاتا جس دن حسین بن علیؑ شیہد ہوئے تو اس کے نیچے سے خون دیکھا جاتا تھا۔

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)
المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي
دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية
عدد الأجزاء:٢٥
ويشمل القطعة التي نشرها لاحقا المحقق الشيخ حمدي السلفي من المجلد ١٣ (دار الصميعي – الرياض / الطبعة الأولى، ١٤١٥ هـ – ١٩٩٤ م),ج 3 ص 113]

https://shamela.ws/book/1733/3382

اردو اسکین:

المعجم الکبیر ،مترجم: غلام دستگیر چشتی سیالکوٹی،پروگیسو بکس، ج ۲ ص ۴۱۵

ھیثمی نے اپنی کتاب مجمع الزوائد و منبع الفوائد میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے راویوں کو صحیح (صحیح بخاری،صحیح مسلم یا دونوں میں سے کسی ایک)کا راوی کہا ہے۔

(تصحيح)مجمع الزوائد ومنبع الفوائد,المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ):

15160 – وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

[الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ)
المحقق: حسام الدين القدسي
الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة
عام النشر: ١٤١٤ هـ، ١٩٩٤ م,ج 9 ص 196]

https://shamela.ws/book/61/2839

آسمان خون کے لوتھڑے کے مانند رہا:

المعجم الكبير,المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ):

2836 – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ حَكِيمٍ، قَالَتْ: «قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ»

ام حکیم فرماتی ہیں:جب امام حسینؑ شہید ہوئے ان دنوں میں لونڈی تھی کئی دن تک آسمان خون کے لوتھڑے کے مانند رہا۔

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)،المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي،دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية،عدد الأجزاء:٢٥
ويشمل القطعة التي نشرها لاحقا المحقق الشيخ حمدي السلفي من المجلد ١٣ (دار الصميعي – الرياض / الطبعة الأولى، ١٤١٥ هـ – ١٩٩٤ م),ج 3 ص 113]

https://shamela.ws/book/1733/3383

اردو اسکین:

المعجم الکبیر ،مترجم: غلام دستگیر چشتی سیالکوٹی،پروگیسو بکس، ج 2 ص 415

ھیثمی نے اس روایت کو اپنی کتاب مجمع الزوائد و منبع الفوائد میں نقل کیا ہے اور ام حکیم تک راویوں کو صحیح(بخاری،مسلم یا دونوں میں کسی ایک)کا راوی قرار دیا۔

(تصحيح)مجمع الزوائد ومنبع الفوائد,المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ):


15161 – وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ قَالَتْ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَّةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى أُمِّ حَكِيمٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

[الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ)
المحقق: حسام الدين القدسي
الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة
عام النشر: ١٤١٤ هـ، ١٩٩٤ م,ج 9 ص 196

https://shamela.ws/book/61/2839

جب امام حسینؑ شہید ہوئے تو سورج کو گرہن لگ گیا:

المعجم الكبير,المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ):

2838 – حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنّسَهَا هِيَ»

ابو قبیل نے کہا:جب امام حسینؑ شہید ہوئے تو سورج کو گرہن لگ گیا،یہاں تک کہ دن میں تارے نکل آئے،ہم نے گمان کیا کہ یہ رات ہے۔

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)
المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي
دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية
عدد الأجزاء:٢٥
ويشمل القطعة التي نشرها لاحقا المحقق الشيخ حمدي السلفي من المجلد ١٣ (دار الصميعي – الرياض / الطبعة الأولى، ١٤١٥ هـ – ١٩٩٤ م), ج 3 ص 114]

https://shamela.ws/book/1733/3385

اردو اسكين:

المعجم الکبیر ،مترجم: غلام دستگیر چشتی سیالکوٹی،پروگیسو بکس، ج 2 ص 416

ھیثمی نے اس روایت (جسے ابن کثیر نے ضعیف کہا ہے) کی سند کو مجمع الزوائد و منبع الفوائد میں حسن کہا ہے:

(تصحيح)مجمع الزوائد ومنبع الفوائد,المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ):

15163 – وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّهَا هِيَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

[الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ)
المحقق: حسام الدين القدسي
الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة
عام النشر: ١٤١٤ هـ، ١٩٩٤ م, ج 9 ص 197]

https://shamela.ws/book/61/2840