صوم عاشورا سنت نبوی یا بدعت اموی؟

صوم عاشورا سنت نبوی یا بدعت اموی؟

ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ، ﻭﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺧﻴﺮ ﺧﻠﻘﻪ ﻭﺃﻓﻀﻞ ﺑﺮﻳﺘﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻋﺘﺮﺗﻪ ﺍﻟﻄﺎﻫﺮﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻠﻌﻦ ﺍﻟﺪﺍﺋﻢ ﻋﻠﻰ ﺃﻋﺪﺍﺋﻬﻢ ﺃﺟﻤﻌﻴﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﺍﻟﺪﻳﻦ،

 

صوم عاشورا سنت نبوی یا بدعت اموی؟

تحریر : سید ابوهشام نجفی

SHIAFAITH.ORG

فہرست

 

امام تاج العارفين مناوی کا اعتراف:

بعد شہادت سید الشہداء علیہ السلام ناصبیوں نے روز عاشورا کی فضیلت میں بے شمار احادیث گڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف منسوب کر دیں یہاں تک کہ خود ائمہ اہل سنت کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ فضائل عاشورا کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں وہ سب موضوع ہیں چنانچہ امام تاج العارفين مناوی کی تحقیق پیش خدمت ہے:

ما يروى في فضل صوم يوم عاشوراء والصلاة فيه والانفاق والخضاب والادهان والاكتحال بدعة ابتدعها قتلة الحسين رضي الله عنه وفي القنية للحنفية الاكتحال يوم عاشوراء لما صار علامة لبغض أهل البيت وجب تركه

جو کچھ عاشوراء کے دن کے روزے کی فضیلت،نماز،انفاق،خضاب کرنا،بالوں میں تیل لگانا اور آنکھوں میں سرمہ لگانا وغیرہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ سب بدعت ہے کہ جسکو امام حسین کے قاتلوں نے ذکر کیا ہے اور یہی باتیں انکی اہلبیت کے ساتھ دشمنی کی بھی علامت ہےکہ ان سب بدعتوں کو ترک کرنا واجب ہے۔

[الكتاب: فيض القدير شرح الجامع الصغير
المؤلف: زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي القاهري (ت ١٠٣١هـ)
الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر
الطبعة: الأولى، ١٣٥٦، ﺝ 6 ﺹ 235]

https://shamela.ws/book/21660

بخاری و مسلم کی متضاد حدیثیں

ابتداء اسلام میں یوم عاشورہ کے روزہ کا حکم دینا:

ان تمام بدعات میں ایک مشہور بدعت عاشورا کا روزہ بھی ہے یہاں تک کے اس کی فضیلت کی روایات بخاری و مسلم میں بھی آگئی ہیں مگر ان میں آپس میں اس قدر اختلافات ہیں کہ قابل جمع نہیں اور آخر میں ان کو جھوٹا مانے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا، چنانچہ تاریخ روزہ، روز عاشورا کے متعلق بخاری نے روایت نقل کی ہے:

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشُورَاءَ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ .

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رکھنے کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابتداء اسلام میں حکم دیا تھا، جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو عاشورہ کا روزہ بطور فرض چھوڑ دیا گیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کے دن روزہ نہ رکھتے مگر جب ان کے روزے کا دن ہی یوم عاشورہ آن پڑتا۔

ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭي،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ، ﺑﺎﺏ ﻭُﺟُﻮﺏِ ﺻَﻮْﻡِ ﺭَﻣَﻀَﺎﻥَ حدیث نمبر 1892

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-bukhari-1892

مدینہ منورہ آنے تک رسول اللہ (ص) کو صوم عاشورہ کا علم نہیں تھا:

مگر بخاری کی ہی دوسری روایت اس روایت کی مخالفت کرتی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدینہ منورہ آنے تک عاشورا کے روزے کا علم نہیں تھا:

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ ، فَصَامَهُ مُوسَى ، قَالَ : فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے۔ ( دوسرے سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون ) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر موسیٰ علیہ السلام کے ( شریک مسرت ہونے میں ) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔

ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟﺼَّﻮْﻡِ، ﺑَﺎﺏُ ﺻِﻴَﺎﻡِ ﻳَﻮْﻡِ ﻋَﺎﺷُﻮﺭَﺍﺀَ،حدیث نمبر 2004

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-bukhari-2004

دونوں روایات میں تضاد کی کیفیت:

پہلی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رمضان المبارک کے روزے واجب ہونے کے بعد عاشورا کا روزہ رکھنا چھوڑ دیا تھا مگر اس کے برخلاف مسلم کی روایت بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام تک روزہ رکھا۔

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ» قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

  حسن بن علی حلوانی ، ابن ابی مریم ، یحییٰ بن ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔

ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟﺼِّﻴَﺎﻡِ ،ﺑﺎﺏ ﺃَﻱُّ ﻳَﻮْﻡٍ ﻳُﺼَﺎﻡُ ﻓِﻲ ﻋَﺎﺷُﻮﺭَﺍﺀَ ،حدیث نمبر 2666

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-muslim-2666

خود مسلم کی دوسری روایت پہلی کی مخالفت کرتی ہے:

خود مسلم کی دوسری روایت پہلی کی مخالفت کرتی ہے چنانچہ مسلم نے ایک دوسری روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم 9 محرم الحرام کو روزہ رکھتے تھے:

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا»، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَالَ: «نَعَمْ»

  ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع بن جراح ، حاجب ابن عمر ، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم ( کے قریب ) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورے کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چانددیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں!

ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟﺼِّﻴَﺎﻡِ، ﺑﺎﺏ ﺃَﻱُّ ﻳَﻮْﻡٍ ﻳُﺼَﺎﻡُ ﻓِﻲ ﻋَﺎﺷُﻮﺭَﺍﺀَ ،2664

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-muslim-2664

اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عاشورا کا روزہ 9 محرم کو رکھا جاتا تھا۔

(۱)ایک روایت کہتی ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی سے روزہ رکھتے تھے(۲) دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی پیروی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عاشورا کا روزہ رکھا(۳) تیسری روایت کہتی ہے جب صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ عاشورا کا احترام تو یہود و نصرای کرتے ہیں تو فرمایا کہ اگلے سال 9 کا روزہ رکھیں گے مگر اس سے پہلے ہی آپ کی رحلت ہو گئ۔

ان روایات کے جھوٹی ہونی پر محکم دلیل:

ان تمام روایات کے جھوٹے ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہودی اسلامی کیلنڈر کا استعمال ہی نہیں کرتے جو روز عاشورا کو روزہ رکھتے، ان کا اپنا خاص عبری کیلنڈر ہے جس کے مطابق وہ اپنے مذہبی عمور انجام دیتے ہیں، اب کوئی یہ توجیہ کرے کہ شائد جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تھا اس سال عاشورا کو ہی یہودیوں کی عید بھی ہو تو یہ توجیہ بھی غلط ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدنی حیات طیبہ میں ایک بار بھی روز عاشورا 15 نیسان Nissan کو نہیں آیا جو کہ یہودیوں کے یہاں (عید پسح ) کے نام سے معروف ہے، ہم یہاں دوسری ہجری سے 10 ہجری تک عاشورا اور عبری کیلنڈر کو پیش کئے دیتے ہیں جس سے واضح ہو جائے گا کہ کہ عاشورا اور عید پسح کبھی بھی ایک دن واقعہ نہیں ہوئی،نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ربیع الاول پہلی ہجری کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ،اس کے بعد دوسری ہجری کو عاشورا عبری کیلنڈر کے ماہ تموز Tamuz سنہ 4384 میں آیا۔

تیسری ہجری میں عاشورا، عبری ماہ تموز Tamuz سنہ 4385 میں ایا۔

چوتھی ہجری میں عاشورا عبری ماہ تموز Tamuz سنہ 4386 میں آیا۔

پانچویں ہجری میں عاشورا عبری ماہ سیون Sivan سنہ 4387 میں آیا۔

چھٹی ہجری میں عاشورا عبری ماہ سیون Sivan سنہ 4388 میں آیا۔

ساتویں ہجری میں عاشورا عبری ماہ ایار Iyyar سنہ 4389 میں آیا۔

آٹھویں ہجری میں عاشورا عبری ماہ ایار Iyyar سنہ 4390 میں آیا۔

نویں ہجری میں عاشورا عبری ماہ ایار Iyyar سنہ 4391 میں آیا۔

دسویں ہجری میں عاشورا عبری ماہ 28 نیسان Nissan سنہ 4392 میں آیا۔

لہذا روایات سب کی سب جھوٹی ثابت ہو جاتی ہیں۔

یہودی عبری کلینڈر کے متعلق مزید معلومات اس ویبسائٹ سے بھی اخذ کی سکتی ہیں۔

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Hebrew_calendar

ان روایات کے بطلان کی تیسری دلیل یہ ہے کہ بخاری میں جو وجہ یہودیوں کی طرف سے روزہ رکھنے کی بتائی گئی ہے کہ اس دن اللہ سبحانہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور آپ کی قوم کو فرعون کے ہاتھوں سے نجات دی تھی بلکل بے بنیاد اور جھوٹی ہے یہودی اس دن کو (عید پسح ) جس کا جشن ایک ہفتہ یا آٹھ دن منایا جاتا ہے ان دنوں میں یہودی کوئی روزہ نہیں رکھتے ان کی کسی بھی مقدس کتاب میں ان دونوں میں روزہ رکھنے کا کوئی وجود نہیں بلکہ اس کے برخلاف خاص پکوان ، کھانے کا رواج ہے ،یہاں یہودی( یوم کیپور Yom Kippur عبری میں יוֹם כִּפּוּר ‏) کیپور کے معنی بخشش کے ہیں، اس دن حضرت موسی علیہ السلام کوہ سینا سے احکام الہی کو لیکر واپس آئے تھے، یہ تہوار عبری کیلنڈر کے ساتویں ماہ ﺗﯿﺸﺮﯼ Tishrei کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے اور یہ دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدنی حیات طیبہ میں ایک بار بھی روز عاشورا کو نہیں آیا ،یوم کیپور کی تفصیل اس ویب سائٹ پر ملاحظہ ہو ۔

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Yom_Kippur

اور عید پسح کی تفصیل بھی ملاحظہ فرمائیں:

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Passover

خلاصہ یہ کہ عاشورا کے روزے کے متعلق تمام روایات جھوٹی من گھڑت بنی امیہ کی طرف سے جعل کی گئی ہیں سنت نبوی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

10 محرم الحرام 1441،

كربلاء المقدسة ،على ساكنها أفضل الصلاة وأزكى السلام.