امام حسین علیہ السلام پر گریہ کی فضیلت پر ناصبیوں کے اعتراضات کا رد

بقلم : مولانا ابوہشام نجفی صاحب

امام حسین علیہ السلام پر گریہ کی فضیلت پر ناصبیوں کے اعتراضات کا رد

نشر و اشاعت: شیعہ فیتھ(Shia Faith)

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله الطيبين الطاهرين ولعنة الله على أعدائهم أجمعين۔

امام حسین علیہ السلام پر گریہ کی فضیلت پر ناصبیوں کے اعتراضات کا رد ۔

سنہ ۱۴۴۵

بقلم :سید ابو ہشام نجفی ۔

ترتیب:علی ناصر

نشر و اشاعت: شیعہ فیتھ (Shia Faith)

فہرست

مقدمہ:

ناصبیوں کا دین ہی انکار ہے،وہ ہر اس حددیث اور روایت کا انکار کرتے ہیں جو اہلبیت علیہم السلام کے فضائل کو آشکار کرتی ہیں،منہج بنی امیہ سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے؟

ایک ایسی ہی حدیث امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ میں موجود ہےجس میں سید الشھداء امام حسین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:” جسکی آنکھ سے ایک قطرہ آنسو ہمارے غم میں ٹپک پڑا اللہ اسے جنت میں جگہ دے گا "( فضائل صحابہ ،حدیث 1154) ۔

ناصبیوں نے اس حدیث کے انکار میں ہی اپنی عافیت سمجھی کیونکہ رونا بدعت ہے کا فتوی پہلے ہی صادر کر چکے ہیں،اب اپنا تھوکا کیسے چاٹیں؟ اور اس کے بعد یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کن لوگوں نے ان ہستیوں کو غم دئے اور ایسی دردناک شہادت دی کہ ان پر گریہ کی جزاء جنت قرار پائی۔

مولانا سید ابوہشام نجفی صاحب نے اس حدیث کے انکار پر ایک ناصبی کو تحریری شکل میں جواب دیا ہے اور اکثر بنی امیہ کے پیروکار اس حدیث کی تضعیف میں یہی دلائل دیتے ہیں،لھذا مولانا ابوہشام نجفی صاحب قبلہ نے بہتر سمجھا کہ تحریری شکل میں ناصبیوں کے اس مکر و فریب سے پردا اٹھایا جائے،خدا مزید انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور اس کاوش کو قبول فرمائے۔

علی ناصر

سنہ ۱۴۴۴ھ

احمد بن حنبل کی فضائل الصحابہ میں صحیح السند حدیث:

احمد بن حنبل نے با سند صحیح امام حسین علیہ السلام سے نقل کی ہے:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ يَدِهِ: نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَقُولُ: مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً، أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ.

منذر بیان کرتے ہیں ،امام حسین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:جسکی آنکھ سے ایک قطرہ آنسو ہمارے غم میں ٹپک پڑا اللہ اسے جنت میں جگہ دے گا۔

[الكتاب: فضائل الصحابة ,المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (ت ٢٤١هـ) ,المحقق: د. وصي الله محمد عباس ,الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٣ – ١٩٨٣,عدد الأجزاء: ٢ ،ج :2 ص:575,حدیث 1154]

https://shamela.ws/book/13136/1132

ابوبکر قطیعی نے کہا ہم سے احمد بن اسرائیل نے حدیث کی کہا کہ میں نے احمد بن حنبل کی کتاب میں اس کے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا ہےکہ ہم سے روایت کیا اسود بن عامر نے ربیع بن منذر سے انہوں نے اپنے والد سے کہ حسين بن علی رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ: جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لئے بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرے گا۔

یہ حدیث ناصبیوں کے لئے ذہر قاتل سے کم نہیں لہذا اس روایت کو لیکر اکثر یہ اپنے حال پر ماتم کرتے نظر آتے ہیں، عرب ناصبی اس کو رد کرنے کے لئے ہر قسم کے جھوٹ فریب کا سہارا لیتے ہیں ،ان کا ہی تھوکا ہوا ہمارے یہاں کے دیسی ناصبی چاٹتے ہیں ایسا ہی ایک ناصبی جس نے عربی ناصبیوں کا تھوکا ہوا چاٹا ہے اور گمان کر رہا ہے گویا خیبر فتح کر لیا ہو، اس مضمون میں اس ناصبی اور جملہ نواصب کے وہی اعتراضات کے جوابات دیں گے۔

ناصبی کا حدیث پر اعتراض:

ناصبی لکھتا ہے :

کیا فقط سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے غم و مصیبت میں رونے دھونے سے ہی جنت مل جائیگی ؟؟

شیعہ حضرات کا درج ذیل روایت سے استدلال بھی باطل ٹھہرا ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=676831443044527&id=100021530331853

(Link Expired)

1154 – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ يَدِهِ: نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَقُولُ: §مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً، أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ.

احمد بن اسرائیل کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل رح کی کتاب میں انکے ہاتھ سے لکھا دیکھا ہےکہ اسود بن عامر نے ربیع بن منذر سے نقل کیا ہے کہ اس کے والد نے کہا ہے حسين بن علی (رض) نے فرمایا کہ: جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لئے بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرے گا۔

کتاب فضائل الصحابة جلد 2 صفحة 675

احمد بن اسرائیل رحمہ اللہ تعالیٰ (ولادت 253 ہجری) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات (241 ہجری )کے بارہ سال بعد پیدا ہوئے یہاں اس روایت کی کوئی صراحت/تفصیل موجود نہیں کیونکہ انکی ملاقات امام رح سے ہوئی ہی نہیں ۔ بس وہ کہہ رہے میں نے کتاب میں لکھا دیکھا اب وہ کونسی کتاب تھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں علاوہ ازیں انکی سماعت کی بھی کوئی تصریح موجود نہیں۔

سب سے اہم نقطہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل جو کہ امام رح کے بیٹے ہیں انہوں نے اس روایت کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا جبکہ احمد بن اسرائیل کہہ رہے ہیں میں نے انکی کتاب میں انکے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا جو کہ امام رح کی وفات کے بارہ سال بعد پیدا ہوئے۔العجب

 

اس سے ثابت ہوا یہ روایت منقطع ہے اب ثقہ راویان اگر روایت میں موجود ہیں تو روایت پہ تصیح کا حکم تب ہی لاگو ہوتا جب انکی سماعت ثابت ہو اس روایت میں انقطاع ہے اس لئے یہ روایت قطعاً قابل حجت نہیں۔

باقی رہی روافض کی بات انکا کام ہے امت میں نقائص پھیلانا اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کے عقائد پہ حملہ آور ہونا ۔

اللہ روافض کو عقل سلیم اور ہدایت دے آمین۔

دعا گو۔۔ فاروق اعظم))

ہمارا جواب:

اپنی اس تحریر میں ناصبی نے حماقتوں کی تمام حدیں پار کر دی ہیں، روایت کو رد کرنے کے لئے جو دلیل دی وہ یہ ہے:

((احمد بن اسرائیل رحمہ اللہ تعالیٰ (ولادت 253 ہجری) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات (241 ہجری )کے بارہ سال بعد پیدا ہوئے یہاں اس روایت کی کوئی صراحت/تفصیل موجود نہیں کیونکہ انکی ملاقات امام رح سے ہوئی ہی نہیں ۔ بس وہ کہہ رہے میں نے کتاب میں لکھا دیکھا اب وہ کونسی کتاب تھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں علاوہ ازیں انکی سماعت کی بھی کوئی تصریح موجود نہیں۔))

جواب :

احمد بن اسرائیل پر کلام:

ناصبی کو بتا دیں احمد بن اسرائیل، احمد بن حنبل کے فرزند عبداللہ بن احمد کا شاگرد، حنبلی فقیہ اور ثقہ محدث تھا اس کے حالات سند کی توثیق میں بیان کریں گے۔

اب یا تو ناصبی احمد بن اسرائیل کو کذاب دجال، حدیث گڑھنے والا مانے جو اس نے احمد پر یہ جھوٹ چپکا دیا، یا اگر وہ سچا ہے اور حنبلی فقیہ، احمد کے بیٹے کا شاگرد ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نے احمد کی کتاب میں خود اس کے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا تو ناصبی تیرے پاس کیا دلیل ہے کہ تو اپنے ثقہ عالم کو جھٹلائے کہ جسکی تو جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔

ثانیا: ناصبیوں کے یہاں تو متقدمین کے چارسو پانچسو سال بعد پیدا ہونے والا بھی ان کی طرف بغیر سند کے کوئی بات منسوب کر دے تو وہ حجت شمار کی جاتی ہے۔ بطور مثلاً ناصبیوں کی سب سے زیادہ معتبر اسماء الرجال کی کتابیں ذہبی و ابن حجر کی ہیں، جیسے سیر اعلام النبلاء، میزان الاعتدال، تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب، لسان المیزان اور مغنی وغیرہ۔ ذہبی و ابن حجر نے ان کتابوں میں اپنے سے چارسو پانچ سو یا اس سے بھی زیادہ پہلے ہلاک شدگان کے اقوال بغیر حوالوں کے نقل کئے ہیں جنہیں یہ ناصبی حجت شمار کرتے ہیں، ناصبی کے اس اصول سے تو یہ کتابیں استنجاء کے لئے استعمال کی جائیں گی ان سے تو استدلال ہو نہیں سکتا، لہٰذا ثابت ہوا ناصبی کا اعتراض مردود ہے ۔

احمق ناصبی کو بتاتے چلیں کہ احمد بن اسرائیل نے احمد کی جس کتاب سے نقل کیا تھا وہ مناقب علی علیہ السلام نامی کتاب تھی جس سے دیگر ناصبی ائمہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے ، چنانچہ مفتی مکہ مکرمہ محب الدین طبری نے روایت کو احمد کی کتاب سے ہی نقل کیا ہے۔

احمد بن اسرائیل کے متعلق ذھبی کی رائے:

اس سے قبل کہ ہم محب الدین کی عبارت نقل کریں ذہبی کی زبانی اس کی توثیق نقل کرتے ہیں:

1163 / 4 / 20 – المحب الامام المحدث المفتى فقيه الحرم محب الدين أبو العباس أحمد بن عبد الله بن محمد بن أبي بكر الطبري ثم المكي الشافعي مصنف ” الاحكام [الكبرى ” 1]، ولد سنة خمس عشرة وسمع من أبى الحسن بن المقير وابن الجميزي وشعيب الزعفراني وعبد الرحمن بن أبي حرمي وجماعة وتفقه ودرس وأفتى وصنف وكان شيخ الشافعية ومحدث الحجاز.

[كتاب تذكرة الحفاظ (الجزء الرابع) (من الطبقة الخامسة عشرة إلى الطبقة الحادية والعشرين) صحح عن النسخة القديمة المحفوظة في مكتبة الحرم المكي بإعانة وزارة المعارف للحكومة العالية الهندية ج 4 ص 1474].

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3282_%D8%AA%D8%B0%D9%83%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A4/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_274

محب امام،محدث، مفتی،حرم (مکہ) کا فقیہ، محب الدین ابو العباس احمد بن عبداللہ بن محمد بن ابی بکر طبری پھر مکی شافعی مصنف ہے کتاب احکام الکبری کا سنہ 615 ہجری میں پیدا ہوا، ،،،اور وہ شافعیوں کا شیخ اور حجاز کا محدث تھا۔

احمد بن اسرائیل کے متعلق محب الدین طبری کی رائے:

عن الربيع بن منذر عن أبيه قال كان حسين بن علي رضي الله عنهما يقول:
من دمعت عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة آتاه الله عز وجل الجنة) أخرجه أحمد في المناقب.

[ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى تأليف العلامة الحافظ محب الدين أحمد بن عبد الله الطبري * * * عن نسخة دار الكتب المصرية، ونسخة الخزانة التيمورية عنيت بنشره مكتبة القدسي لصاحبها حسام الدين القدسي بباب الخلق بحارة الجداوي بدرب سعادة بالقاهرة (سنة 1356 وحقوق الطبع محفوظة) , ص 19]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/1381_%D8%B0%D8%AE%D8%A7%D8%A6%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%82%D8%A8%D9%89-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A8%D8%B1%D9%8A/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_17

ربیع بن منذر نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا کہ حسين بن علی رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لئے بہائے تو خداوند اس کو جنت عطا کرے گا۔

اس روایت کو سخاوی نے بھی احمد کی کتاب سے نقل کیا:

اس کی تخریج احمد نے مناقب میں کی ہے۔

اس روایت کو سخاوی نے بھی احمد کی کتاب سے نقل کیا لکھتا ہے:

ﻭﻋﻦ ﺍﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻗﺎﻝ : ﻣﻦ ﺩﻣﻌﺖ ﻋﻴﻨﺎﻩ ﻓﻴﻨﺎ ﺃﻭ ﻗﻄﺮﺕ ﻋﻴﻨﺎﻩ ﻓﻴﻨﺎ ﻗﻄﺮﺓ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﺍﻟﺠﻨﺔ . ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ ‏ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ ‏.

[ﺍﺳﺘﺠﻼﺏ ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﺍﻟﻐﺮﻑ ﺑﺤﺐ ﺃﻗﺮﺑﺎﺀ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﺫﻭﻱ ﺍﻟﺸﺮﻑ ، ﺝ 1 ، ﺹ 432/432]

ملا علی قاری نے بھی احمد کی کتاب سے نقل کیا:

ﺃﺧﺮﺝ ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ ﻋﻦ ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﻣﻨﺬﺭ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ : ﻛﺎﻥ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻳﻘﻮﻝ : ﻣﻦ ﺩﻣﻌﺖ ﻋﻴﻨﺎﻩ ﻓﻴﻨﺎ ﺩﻣﻌﺔ ﺃﻭ ﻗﻄﺮﺕ ﻋﻴﻨﺎﻩ ﻓﻴﻨﺎ ﻗﻄﺮﺓ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﺍﻟﺠﻨﺔ

ﻣﺮﻗﺎﺓ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﻴﺢ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﻜﺎﺓ ﺍﻟﻤﺼﺎﺑﻴﺢ، ﺝ 11 ، ﺹ 315 ،

https://al-maktaba.org/book/8176%20II/8917

ناصبی کا مزید اعتراض:

کیا ان تین علماء کی گواہی کے بعد بھی کوئی شبہ باقی رہ سکتا ہے؟

احمق ناصبی مزید بکواس کرتا ہے:

((سب سے اہم نقطہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل جو کہ امام رح کے بیٹے ہیں انہوں نے اس روایت کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا جبکہ احمد بن اسرائیل کہہ رہے ہیں میں نے انکی کتاب میں انکے ہاتھ سے لکھا ہوا دیکھا جو کہ امام رح کی وفات کے بارہ سال بعد پیدا ہوئے۔العجب))

ہمارا جواب:

کیا احمد کی تمام مرویات خود اس کے بیٹے نے اس سے سنی ہیں اس کی کیا دلیل ہے؟ احمد کی تمام روایات جو اس کے بیٹے نے اس سے سنی کیا وہ تمام کی تمام موجود ہیں اس کی کیا دلیل ہے؟ احمد کے بیٹے کو اس روایت کا علم نہیں تھا اس کا ثبوت کیا ہے؟ ابوبکر قطیعی نے احمد کی تمام روایات کو فقط عبداللہ بن احمد سے سنا اس کی کیا دلیل ہے؟ یہ وہ اعتراضات ہیں جن کے جوابات نفی میں ہیں جن سے ناصبی کی سب سے مضبوط دلیل بھی باطل ٹھہرتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ احمد کی بہت سی کتابیں تھیں جن کا ذکر نواصب نے اپنی کتابوں میں کیا ہے یا ان کے مطالب اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں مگر آج ان کا کوئی وجود نہیں ہے جیسے کہ طبری ،سخاوی و ملا علی قاری کے حوالے سے بیان ہوا بطور مثال بعض کتابوں کا ذکر کرتے ہیں:

احمد بن حنبل کی وہ کتب جو ہمارے درمیان آج موجود نہیں:

(۱) تفسیر القرآن:

یہ احمد کی سب سے بڑی کتاب تھی اس میں 120000 احادیث تھیں جیسا کہ ناصبی ملاؤں نے ذکر کیا ہے ابن جوزی لکھتا ہے:

كان الإمام أحمد رضي الله عنه لا يرى وضع الكتاب، وينهي أن يُكتب عنه كلامه ومسائله، ولو رأى ذلك لكانت له تصانيف كثيرة ولنقلت عنه كتب، فكانت تصانيفه المنقولات؛ فصنف "المسنَد” وهو ثلاثون ألف حديث، وكان يقول لابنه عبد الله: احتفظ بهذا المسند فإنه سَيكون للناس إماماً، و”التفسير” وهو مئة ألف وعشرون ألفاً،

[الكتاب: مناقب الإمام أحمد
المؤلف: جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي (ت ٥٩٧هـ) ،المحقق: د. عبد الله بن عبد المحسن التركي
الناشر: دار هجر ،الطبعة: الثانية، ١٤٠٩ هـ ، ص 261]

https://al-maktaba.org/book/33490/261

احمد نے مسند کی تصنیف کی جس میں 30000 روایات نقل کیں اور تفسیر میں 120000 احادیث ذکر کی ہیں۔

زجاج لکھتا ہے:

أكثر ما رَوَيْتُ في هذا الكتاب من التفسير.فهو من كتاب التفسير عن أحمد بن حنبل.

[الكتاب: معاني القرآن وإعرابه
المؤلف: إبراهيم بن السري بن سهل، أبو إسحاق الزجاج (ت ٣١١هـ) ،المحقق: عبد الجليل عبده شلبي ،الناشر: عالم الكتب – بيروت
الطبعة: الأولى ١٤٠٨ هـ – ١٩٨٨ م ،ج 4 ص 166]

https://shamela.ws/book/922/1524

میں نے اکثر اس کتاب میں تفسیر احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے۔

ابن تیمیہ نے بھی اس تفسیر کے وجود کو تسلیم کیا ہے:

ﻭﺃﻣﺎ ﺍﻟﻨﻮﻉ ﺍﻟﺜﺎﻧﻲ ﻣﻦ ﻣﺴﺘﻨﺪﻱ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ، ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﻳﻌﻠﻢ ﺑﺎﻻﺳﺘﺪﻻﻝ ﻻ ﺑﺎﻟﻨﻘﻞ، ﻓﻬﺬﺍ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﺎ ﻓﻴﻪ ﺍﻟﺨﻄﺄ ﻣﻦ ﺟﻬﺘﻴﻦ ـ ﺣﺪﺛﺘﺎ ﺑﻌﺪ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻭﺍﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ ﻭﺗﺎﺑﻌﻴﻬﻢ ﺑﺈﺣﺴﺎﻥ؛ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﺘﻔﺎﺳﻴﺮ ﺍﻟﺘﻲ ﻳﺬﻛﺮ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﻼﻡ ﻫﺆﻻﺀ ﺻﺮﻓًﺎ ﻻ ﻳﻜﺎﺩ ﻳﻮﺟﺪ ﻓﻴﻬﺎ ﺷﻰﺀ ﻣﻦ ﻫﺎﺗﻴﻦ ﺍﻟﺠﻬﺘﻴﻦ، ﻣﺜﻞ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ، ﻭﻭَﻛِﻴﻊ، ﻭﻋﺒﺪ ﺑﻦ ﺣُﻤَﻴﺪ، ﻭﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺩﺣﻴﻢ . ﻭﻣﺜﻞ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﻹﻣﺎﻡ ﺃﺣﻤﺪ

[مجموع فتاوى ابن تيمية ،ابن تيمية – أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني،مجمع الملك فهد

سنة النشر: 1416هـ/1995م،ج 13 ص 355]

https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&ID=1404&bk_no=22&flag=1

ذہبی لکھتا ہے:

ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻴﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺎﺩﻱ : ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻓﻲ ﺍﻟﺪﻧﻴﺎ ﺃﺣﺪ ﺃﺭﻭﻯ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻣﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻻﻧﻪ ﺳﻤﻊ ﻣﻨﻪ ” ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ” ، ﻭﻫﻮ ﺛﻼﺛﻮﻥ ﺃﻟﻔﺎ، ﻭ ” ﺍﻟﺘﻔﺴﻴﺮ ” ، ﻭﻫﻮ ﻣﺌﺔ ﺃﻟﻒ ﻭﻋﺸﺮﻭﻥ ﺃﻟﻔﺎ، ﺳﻤﻊ ﻣﻨﻪ ﺛﻤﺎﻧﻴﻦ ﺃﻟﻔﺎ، ﻭﺍﻟﺒﺎﻗﻲ ﻭﺟﺎﺩﺓ

[سیر اعلام النبلاء، الطبعة التاسعة 1413 ه‍ – 1993 م‍ مؤسسة الرسالة بيروت. شارع سوريا – بناية صمدي وصالحة، ج 13 ص 521]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3295_%D8%B3%D9%8A%D8%B1-%D8%A3%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A1%D9%A3/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_521

ابو حسین منادی نے کہا دنیا میں اپنے باپ سے جتنی روایت کرنے والا عبداللہ بن احمد بن حنبل کے سوا کوئی اور نہیں، کیونکہ اس نے اپنے باپ سے مسند سنی جنکی تعداد 30000 ہزار ہے اور تفسیر جس کی احادیث کی تعداد 120000 ہے اس میں سے 80000 سنی باقی وجادہ

اس کے بعد ذہبی نے تفسیر کو رد کرنا چاہا اور یہ کہا کہ اگر تفسیر تھی تو مشہور کیوں نہیں ہوئی ہم تک کیوں نہیں پہنچی وغیرہ وغیرہ

ﻗﻠﺖ : ﻣﺎ ﺯﻟﻨﺎ ﻧﺴﻤﻊ ﺑﻬﺬﺍ ” ﺍﻟﺘﻔﺴﻴﺮ ” ﺍﻟﻜﺒﻴﺮ ﻻﺣﻤﺪ ﻋﻠﻰ ﺃﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﻄﻠﺒﺔ ، ﻭﻋﻤﺪﺗﻬﻢ ﺣﻜﺎﻳﺔ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺎﺩﻱ ﻫﺬﻩ ، ﻭﻫﻮ ﻛﺒﻴﺮ ﻗﺪ ﺳﻤﻊ ﻣﻦ ﺟﺪﻩ ، ﻭﻋﺒﺎﺱ ﺍﻟﺪﻭﺭﻱ ، ﻭﻣﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ، ﻟﻜﻦ ﻣﺎ ﺭﺃﻳﻨﺎ ﺃﺣﺪﺍً ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻦ ﻭﺟﻮﺩ ﻫﺬﺍ ” ﺍﻟﺘﻔﺴﻴﺮ ” ، ﻭﻻ ﺑﻌﻀﻪ ، ﻭﻻ ﻛﺮﺍﺳﺔ ﻣﻨﻪ ، ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻭﺟﻮﺩ ، ﺃﻭ ﻟﺸﺊ ﻣﻨﻪ ﻟﻨﺴﺨﻮﻩ ، ﻭﻻﻋﺘﻨﻰ ﺑﺬﻟﻚ ﻃﻠﺒﺔ ﺍﻟﻌﻠﻢ ، ﻭﻟﺤﺼﻠﻮﺍ ﺫﻟﻚ ، ﻭﻟﻨﻘﻞ ﺇﻟﻴﻨﺎ

[سیر اعلام النبلاء، الطبعة التاسعة 1413 ه‍ – 1993 م‍ مؤسسة الرسالة بيروت. شارع سوريا – بناية صمدي وصالحة، ج 13 ص ج 13 ص 522]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3295_%D8%B3%D9%8A%D8%B1-%D8%A3%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A1%D9%A3/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_522#top

ہم کہتے ہیں یہ ذہبی کی کوئی حماقت ہے لازم نہیں جس کا علم ذہبی کو نہ ہو اس کا وجود ہی نہ ہو جبکہ دیگر ناصبی علماء کے اقوال کتاب کے وجود کے متعلق نقل کر دئیے گئے ہیں تو ذہبی کا مردود قول خود ہی رد ہو گیا۔

(۲) ﺍﻟﻤﻘﺪﻡ ﻭﺍﻟﻤﺆﺧﺮ ﻓﻲ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ:

اس کا ذکر خطیب نے اپنی تاریخ میں کیا ہے ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ج 9 ص 375

(۳)کتاب الزهد:

یہ بڑی کتاب تھی بقول ابن حجر مسند کے برابر اور اس میں بہت سی ایسی احادیث و آثار تھے جو مسند میں نہیں ہیں:

(كتاب الزهد) لأحمد فالتقط منه ما فيه من الرجال مما ليس في المسند فإنه كتاب كبير يكون في قدر ثلث المسند مع كبر المسند وفيه من الأحاديث والآثار مما ليس في المسند شئ كثير

[تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة، جميع الحقوق محفوظة لدار الكتاب العربي بيروت تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة للامام الحافظ الناقد العلامة الشيخ أبى الفضل أحمد بن علي بن حجر العسقلاني المتوفى سنة (852 ه‍) رضي الله عنه الناشر دار الكتاب العربي بيروت لبنان ،ص 8]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3325_%D8%AA%D8%B9%D8%AC%D9%8A%D9%84-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D9%81%D8%B9%D8%A9-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%AD%D8%AC%D8%B1/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_8

(۴) فضائل أهل البيت عليهم السلام:

یہ کتاب فضائل اہل بیت علیہم السلام کے متعلق تھی اس کا ذکر حاکم نے کیا ہے اور المستدرک میں اس سے روایت نقل کی ہے لکھتا ہے:

4746 – وَأَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْقَطِيعِيُّ، فِي فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ تَصْنِيفُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ فَإِنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» يُسَوِّي بَيْنَ نِسَاءِ الدُّنْيَا

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4746 – على شرط البخاري ومسلم [المستدرك على الصحيحين ،المؤلف: أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه بن نُعيم بن الحكم الضبي الطهماني النيسابوري المعروف بابن البيع (المتوفى: 405هـ)
تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا
الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت ،الطبعة: الأولى، 1411 – 1990 ج 3 ص 172]

https://lib.efatwa.ir/42119/3/172/%D8%AD%D9%8E%D8%AF%D9%91%D9%8E%D8%AB%D9%8E%D9%86%D9%8E%D8%A7

(۵) مناقب علي (عليه السلام ):

اس کتاب سے ناصبیوں کے اماموں نے روایات نقل کی ہیں:

ﻣﺤﻤَّﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺍﻟﻜﻨﺠﻲّ نے اپنی مشہور کتاب میں احمد کی کتاب مناقب سے روایات نقل کی ہیں لکھتا ہے:

و أخرجه الامام احمد في مناقب علي عليه السلام

[الكتاب : كفاية الطالب في مناقب علي بن أبي طالب .
المؤلف : محمد بن يوسف بن محمد الكنجي الشافعي.
الوفاة : 658 هـ .
مصدر النسخة الالكترونية للكتاب : موقع نور.
تحقيق وتصحيح وتعليق : الشيخ محمد هادي الأميني.
المطبعة : فارابي .
الناشر : دار إحياء تراث أهل البيت "ع” – طهران ، إيران.
الطبعة : الثالثة . ،سنة الطبع : 1404 هـ .ق / 1362 هـ .ش. ص، 372]

http://gadir.free.fr/Ar/imamali/1/kifayet/index.htm

اس کو امام احمد بن حنبل نے مناقب علی علیہ السلام میں روایت کیا ہے۔

ابن حجر عسقلانی، محمد بن نوامیر حنبلی متوفی 745 کے حالات میں لکھتا ہے:

وَسمع بِالشَّام على نَاصِر الدّين عمر بن عبد الْمُنعم القواس مَنَاقِب عَليّ للْإِمَام أَحْمد

اس نے شام میں ناصرالدین عمر بن عبدالمنعم القواس سے امام احمد کی کتاب مناقب علی (علیہ السلام ) کی سماعت کی۔

[الكتاب: الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة
المؤلف: شهاب الدين، أبو الفضل، أحمد بن علي بن محمد بن بن محمد بن أحمد الشهير بابن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢ هـ)
الناشر: دائرة المعارف العثمانية بحيدر آباد الدكن – الهند
عدد الأجزاء: ٦ (تِباعًا)
الطبعة: الثانية (١٣٩٢ هـ = ١٩٧٢ م) ،ج 6 ص 31]

https://shamela.ws/book/6674/2113

شمس الدین سخاوی نے بھی مناقب علی (علیہ السلام ) سے اپنی کتاب میں روایات نقل کی ہیں:

ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ : ‏ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪٍ ﺍﻟﺨُﺪﺭﻱِّ ﻗﺎﻝ : ﻧﺰﻟَﺖ – ﻳﻌﻨﻲ ‏« ﺇﻧّﻤﺎ ﻳُﺮﻳﺪُ ﺍﻟﻠﻪ ﻟِﻴُﺬْﻫِﺐَ ﻋَﻨْﻜُﻢ ﺍﻟﺮِّﺟْﺲَ ﺃﻫْﻞَ ﺍﻟْﺒَﻴْﺖِ ﻭَﻳُﻄَﻬِّﺮَﻛُﻢْ ﺗَﻄْﻬِﻴﺮﺍً ‏» – ﻓﻲ ﺧَﻤﺴﺔٍ : ﺍﻟﻨﺒﻲِّ ﺻﻠّﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ، ﻭﻋﻠﻲٍّ ﻭﻓﺎﻃﻤﺔَ ﻭﺍﻟﺤﺴﻦ ﻭﺍﻟﺤﺴﻴﻦ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ ‏

اب روایت پر ہونے والے مزید اعتراضات کے جوابات تفصیل سے پیش کرتے ہیں:

کتاب کے محقق ﻭﺻﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ‏نے روایت کو نقل کر کے کہا:

ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺷﻴﺦ ﺍﻟﻘﻄﻴﻌﻲ ﻟﻢ ﺍﺟﺪﻩ ﻭﺍﻟﺒﺎﻗﻮﻥ ﺛﻘﺎﺕ

ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺝ 2 ، ﺹ 675

دوسرا اعتراض:

احمد بن اسرائیل قطیعی کے شیخ کے حالات مجھے نہیں ملے اور باقی راوی ثقہ ہیں۔

جواب:

ہم کہتے ہیں احمد بن اسرائیل ائمہ اہل سنت میں سے ہے اسکی توثیق و تجلیل ائمہ نواصب نے کی ہے وصی اللہ نے احمد بن اسرائیل کے سوا سب کی توثیق کی ہے مگر ہم بھی ائمہ نواصب سے مزید توثیق پیش کئے دیتے ہیں:

حدیث کے راویوں پر ایک نظر:

(۱) احمد بن إسرائيل:

اس کا مکمل نام ﺃَﺣْﻤَﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ، لقب النجاد، کنیت ابوبکر ہے، اس کے شاگرد اس سے روایت کرتے وقت کبھی اسے پردادا کے نام سے منسوب کرتے ہیں کبھی اس سے بھی پہلے اجداد کے نام سے جیسا کہ خطیب بغدادی نے ذکر کیا ہے چنانچہ ایک روایت نقل کی جس میں اس کے شاگرد نے اس کا اﺣْﻤَﺪُ ﺑْﻦُ ﻳُﻮﻧُﺲَ ﺍﻟْﻘَﻄِﻴﻌِﻲُّ، نام ذکر کیا پھر خطیب نے توضیح دی کہ اس سے مراد احمد بن اسرائیل ہے جس سے ابوبکر قطیعی روایت کرتا ہے:

ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺍﻟْﻘَﺎﺿِﻲ ﺃَﺑُﻮ ﺑَﻜْﺮٍ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﻋُﻤَﺮَ ﺍﻟﺪَّﺍﻭُﺩِﻱُّ، ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻋُﻤَﺮُ ﺑْﻦُ ﺃَﺣْﻤَﺪَ ﺍﻟْﻮَﺍﻋِﻆُ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺣْﻤَﺪُ ﺑْﻦُ ﻳُﻮﻧُﺲَ ﺍﻟْﻘَﻄِﻴﻌِﻲُّ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺷَﺎﺫَﺍﻥَ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣُﻌَﻠَّﻲ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦُ ﺍﻟْﻤُﺒَﺎﺭَﻙِ، ﻋَﻦْ ﻳُﻮﻧُﺲَ، ﻋَﻦِ ﺍﻟﺰُّﻫْﺮِﻱِّ، ﻗَﺎﻝَ : ﺣَﺪَّﺛَﻨِﻲ ﺳَﻬْﻞُ ﺑْﻦُ ﺳَﻌْﺪٍ، ﻋَﻦْ ﺃُﺑَﻲِّ ﺑْﻦِ ﻛَﻌْﺐٍ، ﻗَﺎﻝَ : ﻛَﺎﻧَﺖِ ﺍﻟْﻔُﺘْﻴَﺎ : ﺍﻟْﻤَﺎﺀُ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤَﺎﺀِ ﺭُﺧْﺼَﺔً ﻓِﻲ ﺃَﻭَّﻝِ ﺍﻹِﺳْﻼﻡِ، ﺛُﻢَّ ﺃُﺣْﻜِﻢَ ﺍﻷَﻣْﺮُ، ﻭَﻧَﻬَﻲ ﻋَﻨْﻪُ

ﻫﻮ ﺃَﺣْﻤَﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ، ﻓﻨﺴﺒﻪ ﻋﻤﺮ ﺇﻟﻲ ﺟﺪ ﺟﺪﻩ . ﻭﻫﻮ ﺃَﺣْﻤَﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ، ﺍﻟﺬﻱ ﺭﻭﻱ ﻋﻨﻪ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺍﻟﻘﻄﻴﻌﻲ

[الكتاب: موضح أوهام الجمع والتفريق
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (ت ٤٦٣هـ)
المحقق: د. عبد المعطي أمين قلعجي
الناشر: دار المعرفة – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٧ ، ﺝ 1 ، ﺹ 464-465]

https://al-maktaba.org/book/6025/461

ائمہ نواصب نے اس کی توثیق کی ہے اور اس کی جلالت کا اعتراف کیا ہے۔

سمعانی لکھتا ہے:

أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس الفقيه الحنبلي المعروف بالنجاد: من أهل بغداد، كان له في جامع المنصور يوم الجمعة حلقتان قبل الصلاة وبعدها، إحداهما للفتوى في الفقه على مذهب أحمد بن حنبل، والأخرى لاملاء الحديث. وهو ممن اتسعت رواياته، وانتشرت أحاديثه.

[الأنساب للامام أبي سعد عبد الكريم بن محمد ابن منصور التميمي السمعاني المتوفي سنة 562 ه‍ تقديم وتعليق عبد الله عمر البارودي مركز الخدمات والأبحاث الثقافية الجزء الخامس دار الجنان ، ﺝ 5 ، ﺹ 457]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3434_%D8%A7%D9%84%D8%A3%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%D9%8A-%D8%AC-%D9%A5/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_455

نجاد، ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ حنبلی فقیہ تھا نجاد کے لقب سے مشہور بغداد کا رہنے والا تھا، روز جمعہ مسجد منصور میں اس کے دو درس ہوتے تھے ایک نماز سے پہلے ایک نماز کے بعد پہلا درس ایک میں وہ احمد بن حنبل کے مذہب کے مطابق فتوی دیتا تھا دوسرا حدیث کا ہوتا تھا جس میں وہ حدیث املا کرواتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کی روایات بہت زیادہ اور احادیث بہت منتشر ہوئیں۔

کمال الدین لکھتا ہے:

ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺑﺎﻟﻨﺠﺎﺩ ﺍﻟﻔﻘﻴﻪ ﺍﻟﺤﻨﺒﻠﻲ ﻛﺎﻥ ﻓﻘﻴﻬﺎ ﻣﻔﺘﻴﺎ ﻭﻣﺤﺪﺛﺎ ﻣﺘﻘﻨﺎ ﻭﺍﺳﻊ ﺍﻟﺮﻭﺍﻳﺔ ﻣﺸﻬﻮﺭ ﺍﻟﺪﺭﺍﻳﺔ

[بغية الطلب في تاريخ حلب ،المؤلف: عمر بن أحمد بن هبة الله بن أبي جرادة العقيلي، كمال الدين ابن العديم (المتوفى: 660هـ)
المحقق: د. سهيل زكار
الناشر: دار الفكر ، ﺝ 2 ﺹ 766]

https://lib.eshia.ir/40296/2/766/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%AF

وہ حنبلی فقیہ، تھا بہترین فقیہ، بہترین محدث، بہت زیادہ روایت والا درایت میں مشہور۔

ذہبی لکھتا ہے:

ﺍﻟﻨﺠﺎﺩ ﺍﻹﻣﺎﻡ ﺍﻟﺤﺎﻓﻆ ﺍﻟﻔﻘﻴﻪ ﺷﻴﺦ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﺀ ﺑﺒﻐﺪﺍﺩ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﺍﻟﺒﻐﺪﺍﺩﻱ ﺍﻟﺤﻨﺒﻠﻲ ،،،،، ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺨﻄﻴﺐ ﻛﺎﻥ ﺻﺪﻭﻗﺎ ﻋﺎﺭﻓﺎ ﺻﻨﻒ ﻛﺘﺎﺑﺎ ﻛﺒﻴﺮﺍ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻨﻦ ﻭﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﺑﺠﺎﻣﻊ ﺍﻟﻤﻨﺼﻮﺭ ﺣﻠﻘﺔ ﻗﺒﻞ ﺍﻟﺠﻤﻌﺔ ﻟﻠﻔﺘﻮﻱ ﻭﺣﻠﻘﺔ ﺑﻌﺪﻫﺎ ﻟﻼﻣﻼﺀ ﺣﺪﺙ ﻋﻨﻪ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺍﻟﻘﻄﻴﻌﻲ

[كتاب: تذكرة الحفاظ ، لإمام أبو عبد الله شمس الدين محمد الذهبي المتوفى 748 ه‍ = 1348 م ، صحح عن النسخة القديمة المحفوظة في مكتبة الحرم المكي بإعانة وزارة المعارف للحكومة العالية الهندية ، ﺝ 3 ، ﺹ 868]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3281_%D8%AA%D8%B0%D9%83%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A3/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_91

نجاد، امام، حافظ، فقیہ، علماء بغداد کا استاد، ،،خطیب بغدادی نے کہا وہ صدوق (احادیث )کی معروفت رکھنے والا سنن میں بڑی کتاب کا مصنف مسجد منصور میں اس کے دو درس ہوتے تھے ایک نماز جمعہ سے پہلے فتوی دیتا تھا دوسرا نماز کے بعد حدیث کا جس میں حدیث املا کرواتا تھا اس سے ابوبکر قطیعی نے روایت کی ہے۔

ابو یعلی حنبلی نے بھی اس کی تعریف کی ہے:

[٥٨١ – أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس، أبو بكر النجاد،]

العالم الناسك الورع. كان له فى جامع المنصور حلقتان قبل الصلاة للفتوى على مذهب إمامنا أحمد، وبعد الصلاة لإملاء الحديث. اتسعت رواياته، وانتشرت أحاديثه ومصنفاته.

[الكتاب: طبقات الحنابلة ،المؤلف: أبو الحسين محمد بن أبي يعلى
وقف على طبعه وصححه: محمد حامد الفقي
الناشر: مطبعة السنة المحمدية – القاهرة
عام النشر: ١٣٧١ هـ – ١٩٥٢ م
(وصورتها دار المعرفة، بيروت) ، ﺝ 2 ، ﺹ 7، رقم الحديث: 581]

https://al-maktaba.org/book/9543/435

عالم با عمل صاحب تقوی، مسجد منصور میں اس کے دو درس ہوتے تھے ایک میں وہ ہمارے امام احمد بن حنبل کے مذہب پر فتوی دیتا تھا دوسرے میں حدیث املا کرواتا تھا۔

(۲) اسود بن عامر:

صحاح ستہ کا راوی ہے، ذہبی نے امام، حافظ، صدوق کہا:

١٠ – شَاذَانُ أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ الشَّامِيُّ * (ع)

الإِمَامُ، الحَافِظُ، الصَّدُوْقُ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ، شَاذَانُ الشَّامِيُّ، ثُمَّ البَغْدَادِيُّ.

[الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: حسين أسد (جـ ١، ٦)، شعيب الأرنؤوط (جـ ٢، ٥، ١٩، ٢٠)، محمد نعيم العرقسوسي (جـ ٣، ٨، ١٠، ١٧، ١٨، ٢٠)، مأمون الصاغرجي (جـ ٤)، علي أبو زيد (جـ ٧، ١٣)، كامل الخراط (جـ ٩)، صالح السمر (جـ ١١، ١٢)، أكرم البوشي (جـ ١٤، ١٦)، إبراهيم الزيبق (جـ ١٥)، بشار معروف (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)، محيي هلال السرحان (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)
بإشراف: شعيب الأرناؤوط
تحقيق قسم السيرة النبوية والخلفاء الراشدون: بشار عواد معروف
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م ،ج 10 ص 112]

https://shamela.ws/book/10906/6361

(۳)الربيع بن المنذر:

ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا:

ﺍﻟﺮﺑﻴﻊ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﺬﺭ ﺍﻟﺜﻮﺭﻱ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﻜﻮﻓﺔ ﻳﺮﻭﻯ ﻋﻦ ﺍﻟﺸﻌﺒﻲ ﻭﺃﺑﻴﻪ ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺴﻠﻮﻟﻲ ﻭﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ

[الكتاب: الثقات
المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي (ت ٣٥٤ هـ)
طبع بإعانة: وزارة المعارف للحكومة العالية الهندية
تحت مراقبة: الدكتور محمد عبد المعيد خان مدير دائرة المعارف العثمانية
الناشر: دائرة المعارف العثمانية بحيدر آباد الدكن الهند
الطبعة: الأولى، ١٣٩٣ ه‍ = ١٩٧٣ ج 6 ص 297]

https://shamela.ws/book/5816/2409

عجلی نے ثقہ کہا:

٤٦١ – الرّبيع بن مُنْذر كوفى ثِقَة

[الكتاب: معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم
المؤلف: أبو الحسن أحمد بن عبد الله بن صالح العجلى الكوفى (ت ٢٦١هـ)
المحقق: عبد العليم عبد العظيم البستوي
الناشر: مكتبة الدار – المدينة المنورة – السعودية
الطبعة: الأولى، ١٤٠٥ – ١٩٨٥ ،ج 1 ص 356، رقم الحديث:461]

https://shamela.ws/book/5825/178

 

(۴) منذر بن يعلي الثوري:

صحاح ستہ کا راوی ابن حجر نے ائمہ نواصب سے اس کی توثیق نقل کی ہے:

531- "ع – المنذر” بن يعلى الثوري1 أبو يعلى الكوفي روى عن محمد بن علي بن أبي طالب والربيع بن خيثم وسعيد بن جبير وعاصم بن ضمرة والحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب وغيرهم روى عنه ابنه الربيع والأعمش وفطر بن خليفة وسالم بن أبي حفصة وسعيد بن مسروق الثوري والحسن ابن عمرو الفقيمي ومحمد بن سوقة ذكره بن سعد في الطبقة الثالثة من أهل الكوفة وقال كان ثقة قليل الحديث وقال بن معين والعجلي وابن خراش ثقة وذكره بن حبان في الثقات

[ الكتاب: تهذيب التهذيب
المؤلف: شهاب الدين أبو الفضل أحمد بن علي بن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢ هـ)
الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية، حيدرآباد الدكن – الهند
الطبعة: الأولى، ١٣٢٥ – ١٣٢٧ هـ ، ﺝ 10 ﺹ 304-305]

https://shamela.ws/book/3310/4594

منذر ثوری صحاح ستہ کا راوی ہے ابن سعد نے اس کو اہل کوفہ کے تیسرے طبقہ میں شمار کیا اور کہا ثقہ قلیل الحدیث، و ابن معین، عجلی، ابن خراش نے بھی ثقہ کہا، ابن حبان نے بھی ثقات میں ذکر کیا

اعتراض:منذر تابعی نہیں اور روایت منقطع ہے:

منذر بن یعلی ثوری کے متعلق ناصبیوں نے یہ شبھہ ایجاد کیا ہے کہ یہ تابعی نہیں ہیں ان کی امام حسین علیہ السلام سے روایت منقطع ہے، کیونکہ ابن حبان نے ان کا شمار اتباع التابعين میں کیا ہے۔

ﻣُﻨْﺬﺭ ﺍﻟﺜَّﻮْﺭﻱّ ﺃَﺑُﻮ ﻳﻌﻠﻰ ﻳﺮﻭﻱ ﻋَﻦْ ﺟﻤَﺎﻋَﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﺘَّﺎﺑِﻌﻴﻦ ﺭَﻭَﻯ ﻋَﻨْﻪُ ﺃﻫﻞ ﺍﻟْﻜُﻮﻓَﺔ

[كتاب الثقات للامام الحافظ أبي حاتم محمد بن حبان بن أحمد التميمي البستي (المتوفى سنة 354 ه‍ = 965 م) الجزء السابع طبع بمساعدة وزارة المعارف والشؤون الثقافية للحكومة الهندية العالية تحت إدارة السيد شرف الدين احمد مدير دائرة المعارف العثمانية وسكرتيرها قاضي المحكمة العليا سابقا الطبعة الأولى بمطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية بحيدر آباد الدكن الهند 1401 ه‍ = 1981 ،ج 7 ص 517]

http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3098_%D8%A7%D9%84%D8%AB%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AC-%D9%A7/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_1#top

جواب:

یہ ناصبیوں کی حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں منذر ثوری صحاح ستہ کا راوی ہے متقدمین میں سے کسی ایک عالم نے بھی اسے مدلس نہیں کہا بلکہ اس کا صحابہ سے روایت کرنا ذکر کیا ہے خود ابن حبان ان کے متعلق شدید وہم کا شکار ہوا ہے ایک مرتبہ ان کو اتباع التابعين میں ذکر کیا ہے اور تابعین میں بھی۔

5504 – الْمُنْذر أَبُو يعلى شيخ يروي عَن أم سَلمَة إِن كَانَ سمع مِنْهَا روى عَنهُ جَامع بن أبي رَاشد

[الكتاب: الثقات
المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي (ت ٣٥٤ هـ)
طبع بإعانة: وزارة المعارف للحكومة العالية الهندية
تحت مراقبة: الدكتور محمد عبد المعيد خان مدير دائرة المعارف العثمانية
الناشر: دائرة المعارف العثمانية بحيدر آباد الدكن الهند
الطبعة: الأولى، ١٣٩٣ ه‍ = ١٩٧٣ ج 5 ص 421]

https://shamela.ws/book/5816/1938

پس ابن حبان کو ان کی معرفت نہیں تھی لہذا اس کا قول ان کے حق میں مردود ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ تابعی ہے ابن سعد نے ان کا شمار اہل کوفہ کے تیسرے طبقہ میں کیا ہے جو تابعین کا ہے۔

طبرانی نے ام المومنین حضرت ام سلمہ علیہا السلام سے روایت کرنے والوں میں منذر ثوری کا شمار کیا ہے:

ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ‏،ﺫﻛﺮ ﺃﺯﻭﺍﺝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ‏، ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ ‏

ﻭﻣﻦ ﺭﻭﻯ ﻋﻦ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﻜﻮﻓﺔ ‏، ﻣﻨﺬﺭ ﺍﻟﺜﻮﺭﻱ ﻋﻦ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ

[الكتاب: المعجم الكبير
المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (ت ٣٦٠هـ)
المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي
دار النشر: مكتبة ابن تيمية – القاهرة
الطبعة: الثانية ،ج 23 ص 327]

https://shamela.ws/book/1733/24256

بلکہ حاکم نے المستدرک میں روایت نقل کی ہے جس میں طارق بن شہاب صحابی منذر ثوری سے روایت کر رہا ہے:

٨٣٥٠ – أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ” جُعِلَتْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ: فِتْنَةٌ عَامَّةٌ، ثُمَّ فِتْنَةٌ خَاصَّةٌ، ثُمَّ فِتْنَةٌ عَامَّةٌ، ثُمَّ فِتْنَةٌ خَاصَّةٌ، ثُمَّ تَأْتِي الْفِتْنَةُ الْعَمْيَاءُ الصَّمَّاءُ الْمُطْبِقَةُ الَّتِي تَصِيرُ النَّاسُ فِيهَا كَالْأَنْعَامِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

[التعليق – من تلخيص الذهبي]٨٣٥٠ – صحيح

[الكتاب: المستدرك على الصحيحين
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري
مع تضمينات: الذهبي في التلخيص والميزان والعراقي في أماليه والمناوي في فيض القدير وغيرهم
دراسة وتحقيق: مصطفى عبد القادر عطا
الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤١١ – ١٩٩٠ ، ج 4 ص 484]

حاکم نے سند کو صحیح کہا ہے:

https://shamela.ws/book/2266/9213

ممکن ہے ناصبی اعتراض کریں کہ حاکم متساہل تھا:

ناصبیوں کی طرف سے یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ حاکم متساہل تھا اس کی تصحیح کا کیا اعتبار؟

جواب :

ذھبی کے نزدیک حاکم کی تصحیح کا کمترین درجہ حسن ہونا ہے:

یہ بات ناصبی اپنی گردن چھڑانے کے لئے کہتے ہیں، حاکم کا شمار ائمہ جرح و تعدیل میں ہوتا ہے ذہبی نے اپنی کتابوں میں اس کی جرح و تعدیل سے استناد کیا ہے، تاہم اپنی جوانی میں ذہبی نے المستدرک کی تلخیص کی تھی مگر بعد میں اس سے رجوع کر لیا تھا اور حاکم کی تصحیح کا کمترین درجہ حسن ہونا تسلیم کیا:

وإن صَحَّحَ له كالدارقطنيِّ والحاكم، فأقلُّ أحوالهِ: حُسْنُ حديثه.‏

[الكتاب: الموقظة في علم مصطلح الحديث
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (ت ٧٤٨هـ)
اعتنى به: عبد الفتاح أبو غُدّة
الناشر: مكتبة المطبوعات الإسلامية بحلب
الطبعة: الثانية، ١٤١٢ هـ ،ص 78]

https://shamela.ws/book/8195/57

https://ketabonline.com/ar/books/20911/read?part=1&page=214&index=851287/851316/851318

(حوالہ:شرح ‏ ﺍﻟﻤﻮﻗﻈﺔ ﻓﻲ ﻋﻠﻢ ﻣﺼﻄﻠﺢ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ)

اور دارقطنی و حاکم کی تصحیح کا کمترین درجہ حدیث کا حسن ہونا ہے۔

ابن صلاح نے بھی حاکم کی تصحیح کو مطلق رد نہیں کیا :

فَالْأَوْلَى أَنْ نَتَوَسَّطَ فِي أَمْرِهِ فَنَقُولَ: مَا حَكَمَ بِصِحَّتِهِ، وَلَمْ نَجِدْ ذَلِكَ فِيهِ لِغَيْرِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ قَبِيلِ الصَّحِيحِ فَهُوَ مِنْ قَبِيلِ الْحَسَنِ، يُحْتَجُّ بِهِ وَيُعْمَلُ بِهِ، إِلَّا أَنْ تَظْهَرَ فِيهِ عِلَّةٌ تُوجِبُ ضَعْفَهُ.

پس اولیٰ یہی ہے ہم متوسط قول اختیار کریں اور وہ یہ ہے کہ جس حدیث کو حاکم صحیح کہے اور کسی امام نے اس حدیث کو صحیح نہ کہا ہو تو اگر وہ صحیح نہیں ہے (تو کم از کم)”حسن” ہے اس سے استدلال کیا جائے گا اور اس پر عمل بھی کیا جائے گا بشرطیکہ اس میں کوئی علت نہ ہو جو اس کے ضعف کا موجب ہو۔

[الكتاب: معرفة أنواع علوم الحديث، ويُعرف بمقدمة ابن الصلاح ،المؤلف: عثمان بن عبد الرحمن، أبوعمرو، تقي الدين المعروف بابن الصلاح (ت ٦٤٣هـ)
المحقق: نور الدين عتر
الناشر: دار الفكر- سوريا، دار الفكر المعاصر – بيروت
سنة النشر: ١٤٠٦هـ – ١٩٨٦م ،ﺹ 22]

https://shamela.ws/book/22870/19

 

ناصبیوں کی ہی معتبر ویبسائٹ نے منذر کے اساتذہ میں تین صحابہ کا نام ذکر کیا ہے:

1ﺟﻨﺪﺏ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺟﻨﺎﺩﺓ ﺑﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﺐ … ﺻﺤﺎﺑﻲ

2 ﻋﻮﻳﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﺃﻣﻴﺔ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺻﺤﺎﺑﻲ

3 ﻫﻨﺪ ﺑﻨﺖ ﺣﺬﻳﻔﺔ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ … ﺻﺤﺎﺑﻴﺔ

http://hadith.islam-db.com/narrators/1699/%D9%85%D9%86%D8%B0%D8%B1-%D8%A8%D9%86-%D9%8A%D8%B9%D9%84%D9%89

اس کے بعد یہ کہنا کہ وہ تابعی نہیں حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔

لہذا سند بلکل صحیح ہے۔

ناصبیوں کے لئے ایک مفید مشورہ:

چونکہ اللہ سبحانہ تعالی کا یہ تم پر عذاب ہے کہ تم کبھی مظلوم کے حامی نہیں بن سکتے نہ ہی اس سے اظہار یکجہتی کر سکتے ہو، جو کہ ظالموں سے محبت کا نتیجہ ہے لھذا سید الشہداء علیہ السلام پر گریہ تمہاری اوقات سے باہر کی بات ہے۔

البتہ تمہارا مقدر چھپکلی و گرگٹ مار کر اجر و ثواب بٹورنا ہے۔

مسلم نے اپنی صحیح میں چھپکلی و گرگٹ کو مارنے کی فضیلت میں ایک باب رکھا ہے اس میں سے دو حدیثیں یہ ہیں:

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الثَّانِيَةِ ".

‌‌‌‏ ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گرگٹ کو پہلی مار میں مار ڈالے اس کو اتنا ثواب ہے اور جو دوسری مار میں مارے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن پہلی بار سے کم اور جو تیسری بار میں مار ڈالے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن دوسری بار سے کم۔“

حدیث 5846

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-muslim-5846

یہاں ابوہریرہ نے اتنا اتنا کہہ کے کام چلا لیا لگتا ہے جلد بازی میں ثواب کی مقدار نہیں گڑھ سکا چنانچہ دوسری بار میں مقدار کا بھی ذکر کیا:

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ ” مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ ".

‌‌‌‏ ابوہریرہ سے روایت ہے، وہی جو اوپر گزری اس میں اتنا زیادہ ہے کہ جو شخص گرگٹ کو پہلی بار میں مار ڈالے اس کی سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور دوسری بار میں اس سے کم اور تیسری بار میں اس سے کم۔

صحيح مسلم،كِتَاب السَّلَامِ،38. باب اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ: حديث 5847

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-muslim-5847

چونکہ میاں ابوہریرہ سے میدان جنگ میں تو کچھ ہوتا نہیں تھا تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ ابوہریرہ نے کبھی کسی کافر کی انگلی بھی کاٹی ہو لہذا اپنے جیسوں کو جھوٹی تصلی دینے کے لئے اس قسم کی احادیث گڑھ لیں کہ اگر کافر نہیں مار سکے تو کیا ہوا چھپکلی کو پہلے شاٹ میں مار کر سو نیکیاں تو کما ہی سکتے ہیں، یہی سبب ہے مولیوں کو یہ احادیث بڑی پسند آتی ہیں۔

سعودی مفتی صالح عثیمن لکھتا ہے:

أما قتل الوزغ فإنه سنة وفيه أجر عظيم

وزغ(چھپکلی و گرگٹ ) کا قتل کرنا سنت ہے اور اس میں اجر عظیم ہے۔

[الكتاب: فتاوى نور على الدرب
المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين (ت ١٤٢١هـ)
[الكتاب مرقم آليا] ،ج 6 ص 2]

https://shamela.ws/book/2300/1093

دیوبندی اس دوڑ میں کہاں پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے بھی پیارہ پیارہ سا فتوی دے دیا:

چھپکلی کو مارنا ثواب ہے کیا؟ کسی نے بتایا ہے کہ پہلی بار میں مارنے پر زیادہ ثواب ہوتا ہے؟

جواب نمبر: 41968

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1576-1576/M=11/1433 ہاں چھپکلی کو مارنا ثواب ہے، اور پہلی مرتبہ مارنے پر ثواب زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے عن أبي ہریرة أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من قتل وزغة بالضربة الأولی کان لہ کذا وکذا حسنة فإن قتلہا في الضربة الثانیة کان لہ کذا وکذا حسنة فإن قتلہا في الضربة الثالثة کان لہ کذا وکذا حسنة․ (رواہ الترمذي وقال: حدیث أبي ہریرة حدیث حسن صحیح: ۱/۲۷۳، أبواب الصید، باب في قتل الوزغ، ط: مریم أجمل فاوٴنڈیشن ممبئی إنڈیا)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند

https://darulifta-deoband.com/home/ur/Others/41968

لہٰذا تم ابوہریرہ چھاپ حدیثوں پر عمل کر کے خوش ہو جاؤ ، آبادی اور ویرانوں میں اپنے مولویوں کو لیکر چھپکلی و گرگٹ مارنے کی مہم پر جایا کرو تم اسی لائق ہو جو اسی روایات پر عمل کرو ۔