اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی کفو و ہمسر نہ ہوتا – الخصال شیخ صدوق

«لِفَاطِمَةَ عليها السّلام تسعة أسماء عند اللَّه عز و جل: فاطمة و الصّدّيقة و المباركة و الطّاهرة و الزّكيّة و الرّاضية و المرضيّة و المحدّثة و الزّهراء ثمّ قال  أ تدري أيّ شي‌ء تفسير فاطمة؟ قلت: أخبرني يا سيّدي قال: فطمت من الشّرّ قال: ثمّ قال 7: لو لا أنّ أمير المؤمنين 7 تزوّجها لما كان لها كفو إلى يوم القيامة على وجه الأرض، آدم فمن دونه.»

یونس بن ظَبیان بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اللہ عزّوجلّ کے نزدیک نو نام ہیں:
فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدَّثہ اور زہرا۔

پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ “فاطمہ” کے نام کی تفسیر کیا ہے؟
میں نے عرض کیا: میرے آقا! مجھے آگاہ فرمائیے۔
آپ نے فرمایا:
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شرّ سے بالکل جدا اور منقطع کر دی گئی ہیں۔

پھر فرمایا:
اگر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ان کے ساتھ نکاح نہ کرتے تو روزِ قیامت تک روئے زمین پر کوئی بھی ان کا ہمسر اور کفو نہ ہوتا، نہ آدم اور نہ ہی آدم کے علاوہ۔

الخصال ج ٦ ص ٤١٤