فاطمہ زہرا کبھی شیخین سے راضی نہیں ہوئیں – امام رضا علیہ السلام

سید ابن طاووس رضوان اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص جو خاندانِ برامکہ سے تھا، اس نے حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:

“آپ ابو بکر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟”

حضرت نے فرمایا:
“سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إلّا الله، واللهُ أكبر.”

(یعنی: پاک ہے اللہ، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔)

پھر جب اس شخص نے اصرار کیا کہ حضرت واضح طور پر اپنا موقف بیان فرمائیں، تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

“ہماری ایک نیک ماں تھی، وہ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئیں کہ وہ دونوں (ابو بکر و عمر) پر ناراض تھیں، اور ان کی وفات کے بعد ہمیں کوئی ایسی خبر نہیں ملی کہ وہ ان دونوں سے راضی ہو گئی ہوں۔”

روایت :

🔵351- ومن ذلك ما رواه على بن اسباط رفعه الى الرضا عليه السلام ان رجلا من أولاد البرامكة عرض لعلي بن موسى الرضا عليه السلام فقال له: ما تقول في أبى بكر ؟ قال له: سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله أكبر، فالح السائل عليه في كشف الجواب، فقال عليه السلام: كانت لنا أم صالحة ماتت وهى عليهما ساخطة ولم ياتنا بعد موتها خبر أنها رضيت عنهما.

اور انہی (روایات) میں سے ہے وہ روایت جسے علی بن اسباط نے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام تک مرفوعاً بیان کیا ہے:

کہ برامکہ کی اولاد میں سے ایک شخص نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:
“آپ ابو بکر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟”

امام علیہ السلام نے فرمایا:
“سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إله إلا الله، والله أكبر۔”

پھر جب اس شخص نے بار بار اصرار کیا کہ حضرت واضح طور پر جواب عنایت فرمائیں،
تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

> “ہماری ایک نیک اور صالح ماں تھی، وہ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئیں کہ وہ دونوں (ابو بکر اور عمر) پر ناراض تھیں،
اور ان کی وفات کے بعد ہمیں کوئی خبر نہیں ملی کہ وہ ان دونوں سے راضی ہو گئی ہوں۔”

مذید کہتے ہیں :

قال عبد المحمود و علماء أهل البيت ع لا يحصي عددهم و عدد شيعتهم إلا الله تعالى و ما رأيت و لا سمعت عنهم أنهم يختلفون في أن أبا بكر و عمر ظلما أمهم فاطمة ع ظلما عظيما.

عبدالمحمود نے کہا:

اہلِ بیت علیہم السلام کے علماء کی تعداد اور ان کے شیعوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا (جن کی تعداد اتنی زیادہ ہے ) میں نے نہ کبھی دیکھا اور نہ سنا کہ وہ (اہلِ بیت کے علماء اور ان کے شیعہ) اس بات میں اختلاف رکھتے ہوں کہ ابو بکر اور عمر نے ان کی والدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر بہت بڑا ظلم کیا۔

الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف‌،تأليف:ابن طاووس، على بن موسى‌,تاريخ وفات مؤلف: 664 ق‌,محقق / مصحح: عاشور، على‌,موضوع: كلام‌,تعداد جلد: 2,ناشر: خيام‌، مكان چاپ: ايران؛ قم‌،سال چاپ:1400 ق‌,نوبت چاپ: اول‌

https://ar.lib.eshia.ir/15078/1/252