الأخبار المتواترة فى مظالم الصديقة الطاهرة
تالیف:مولانا سید کمال طاہر نجفی صاحب قبلہ
ترتیب:علی ناصر
نظر ثانی:مولانا سید فیضان حسنی نجفی صاحب قبلہ
اشاعت اول : جمادی الاول سنہ ۱۴۴۷ ، نومبر ۲۰۲۵
Publisher:
SHIAFAITH.ORG
فہرست
- مقدمہ
- راویوں کی توثیق و تضعیف کے متعلق ہماری روش
- کتاب سلیم کی رد میں مخالفین کی پہلی دلیل (شیخ مفید علیہ الرحمہ سے منسوب قول)
- شیخ مفید علیہ الرحمہ سے منسوب قول کا رد
- دوسری دلیل ابن غضائری سے منسوب تضعیف
- ابن غضائری سے منسوب قول کا رد
- (۳) مخالفین کی تیسری دلیل(شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے ذریعہ آبان بن ابی عیاش کی تضعیف)
- مخالفین کی تیسری دلیل شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے ذریعہ آبان بن ابی عیاش کی تضعیف کا جواب
- ابان بن ابی عیاش کی توثیق
- رئیس المحدثین شیخنا صدوق علیہ الرحمہ کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس کی قدر و منزلت
- (۱) کتاب سلیم بن قیس
- (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کا سیدہ کائنات کے رخسار پر طمانچہ لگنے کی خبر دینا
- (۳)جبرائیل علیہ السلام کا امیرالمومنین، سیدہ کائنات و حسنین علیہم السلام کی شہادت کی خبر دینا
- (۴) اللہ سبحانہ و تعالٰی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو صدیقہ طاہرہ پر ہونے والے مظالم سے مطلع فرمانا
- (۵) فرمان امام کاظم علیہ السلام صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا شہیدہ ہیں
- (۶) فرمان امام رضا علیہ السلام ہم سب قتل کے ذریعے شہادت پاتے ہیں
- (۷) فرمان صادق آل محمد علیہ السلام :قاتل صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا فرعون و نمرود وغیرہ کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہے
- )۸ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا پر ظلم کرنے والوں، ان کا حق غصب کرنے والوں اور ان کے قاتلوں پر لعنت کی
- (۹) امام رضا علیہ السلام کا جناب محسن علیہ السلام کے قاتلوں پر لعنت کرنا
- (۱۰) فرمان امام صادق علیہ السلام سیدہ النساء العالمین کو ان کے والد کی میراث سے محروم کیا گیا
- (۱۱)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مصائب، آپ کے دروازے کا جلانا، جناب محسن کی شہادت آپ کے پہلو کے مجروح کئے جانے وغیرہ کی خبر دینا
- (۱۲) صادق آل محمد علیہ سلام کی سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کی سبب شہادت کے متعلق حدیث
مقدمہ:
سیدۂ کونین، بنتِ سرورِ کائنات ﷺ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذاتِ اقدس تاریخِ اسلام کا وہ بابِ تاباں ہے جس کی درخشندگی ابد الآباد تک کم نہیں ہوسکتی۔ آپ سلام اللہ علیھا کی ہستی میں نورِ ولایت، عصمتِ کبریٰ، اور قربِ نبوت اس درجہ متجلی ہیں کہ عقلِ انسانی اس کے احاطے سے عاجز ہے۔ آپ نہ صرف امّ الائمہ و سيدة النساء العالمین ہیں بلکہ نظامِ امامت و ولایت کی اولین شہیدہ اور حفظِ دینِ مصطفوی کی ضامن بھی ہیں۔
افسوس کہ قرونِ ماضی کے بعض متعصب اور کج فکر افراد نے اس واقعۂ شہادتِ زہرا سلام اللہ علیہا پر اعتراض و تشکیک کی راہیں کھول دیں، اور عناد و جہالت کے زیرِ اثر اس المیۂ مقدس کو کمزور دکھانے کی سعی کی۔ ان کے اعتراضات میں ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ واقعۂ شہادت کا مدار صرف کتاب سلیم بن قیس ہلالی پر ہے، اور چونکہ اُن کے نزدیک راویِ کتاب، آبان بن ابی عیاش، محلِ نظر ہیں، لہٰذا وہ تمام تر واقعے کو غیر معتبر ٹھہرانے کی جسارت کرتے ہیں۔
یہ تالیف، جو فاضل محقق، مولانا سید کمال طاہر نجفی حفظہ اللہ کی دقیق و عالمانہ کاوش ہے، انہی اباطیل و مغالطوں کے علمی و تحقیقی ابطال پر مشتمل ہے۔ مصنف محترم نے استدلالی اسلوب کے ساتھ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو منطقی و رجالوی میزان میں پرکھا ہے، تاکہ حقیقت کا چہرہ ہر منصف مزاج قاری پر آشکار ہو۔
اس کتاب کی ساخت و تنظیم متعدد علمی ابواب پر محیط ہے:
1. کتابِ سلیم بن قیس کی تاریخی و حدیثی حیثیت:
کہ یہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی روایات کے اقدم و اقدم مصادر میں شمار ہوتی ہے، اور متقدمینِ محدثین نے اس کی روایات پر کس درجے کا اعتماد فرمایا ہے۔
2. شخصیتِ آبان بن ابی عیاش کا تحقیقی تذکرہ:
اُن کی ثقاہت، علمی مرتبت، اور ان پر وارد ہونے والے طعن و اشکال کا رجال و درایہ کی روشنی میں تجزیہ۔
3. آبان پر اعتراضات کا استیعابی جواب:
جس میں ہر اعتراض کا تحقیق کے مطابق مفصل ابطال کیا گیا ہے۔
4. کتابِ رجالِ ابن غضائری کی سندی حیثیت:
کہ آیا وہ کتاب واقعی ابن غضائری کی تصنیف ہے یا بعد کے منحول و منسوب اقوال کا مجموعہ، اور اس کی بنا پر اعتماد یا انکار کی گنجائش کہاں تک ہے۔
5. شہادتِ زہرا سلام اللہ علیہا کے متعدّد مصادر:
تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ سانحہ کسی ایک کتاب پر موقوف نہیں، بلکہ متعدد شیعہ و سنی مصادر اس کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔
اس تالیفِ گرانمایہ کا مقصد صرف مدافعانہ تصنیف نہیں، بلکہ اس امر کو مدلّل طور پر منکشف کرنا ہے کہ تاریخِ اہلِ بیتؑ کے خلاف تمام تر تحریفات کے باوجود، شہادتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حقیقت ناقابلِ تردید و ابدی صداقت ہے— جو آج بھی اہلِ انصاف کے قلوب میں شمعِ حق و ولایت کی مانند فروزاں ہے۔
اس علمی و تحقیقی کاوش کی ترتیب و تنظیم کا فریضہ فاضل محقق، مولانا علی ناصر صاحب نے نہایت اہتمام اور باریک بینی کے ساتھ انجام دیا۔ انہوں نے اصل ماخذ و مصادر کے مخطوطات و اسکین شدہ نسخوں کی فراہمی، تدوین، اور تنسیق میں کئی ایّام و لیالی کی محنت صرف کی، تاکہ قاریین کے سامنے متن اپنے اصلی و معتبر ماخذی قالب میں جلوہگر ہو۔ ان کی یہ خدمات اس تصنیف کی بنیاد میں تحقیق و دیانت کا سنگِ میل ثابت ہوئی ہیں۔
اسی طرح اس کتاب کی نظرِ ثانی و اصلاحِ عبارت کی ذمہداری مولانا سید فیضان حسنی نجفی صاحب نے انجام دی۔ انہوں نے متن کے ترجمے، تعبیرات اور اسلوبِ بیان پر گہرا غور کیا، متعدد مقامات پر لغوی و نحوی تصحیحات کیں اور ایسے مناسب الفاظ و تعبیرات اختیار کیے جن سے عبارت کی بلاغت، روانی اور دقّتِ معنی میں مزید نکھار پیدا ہوا۔
یہ دونوں حضرات اپنی علمی بصیرت، دقیق مطالعے اور مخلصانہ خدمت کے باعث اس تالیف کے مکمّل و مستند ہونے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ہیں۔ ان کی کاوشیں یقیناً اس تحقیق کے دوام و اعتبار کی ضامن ہیں۔
مولانا سید تحسین حیدر نجفی
جمادی الاول سنہ ۱۴۴۷
نواصب کی جانب سے عوام فریبی کے لئے یہ جھوٹا دعوی کیا جاتا ہے کہ شیعہ کتب میں شہادت و مظالم صدیقہ الکبری فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے متعلق واقعات جھوٹے ہیں، ان کو آبان بن ابی عیاش نے گڑھ کر سلیم کی طرف منسوب کر دیا ہے اور آبان کو خود شیعہ علماء نے جھوٹا کہا ہے لہذا تمام تر واقعات جھوٹے ہیں بالخصوص اس جھوٹ کو دیسی ناصبی ( طاہر القادری، مرزا علی وغیرہ ) اپنی تقاریر میں ذکر کرتے ہیں ۔
عدم فرصت کے سبب اس مختصر تحریر میں جناب سلیم کی کتاب کی توثیق اور متقدمین کی معتبر کتب سے صحیح السند احادیث کا مختصر ذکر کریں گے جو ہمارے اصحاب کی کتب میں حد تواتر تک موجود ہیں نیز دوسرے باب میں شواہد و متابعت کے لئے بھی چند روایات کا اضافہ کریں گے۔
اس تحریر میں ہم حدیث کی تصحیح فقط علمائے متقدمین کے اصولوں پر پیش کریں گے چونکہ ان کا زمانہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے قریب کا زمانہ تھا اور ان کے دور میں وہ ہزاروں قیمتی کتب و رسائل موجود تھے جن کو اصحاب ائمہ علیہم السلام یا غیبت صغری و چوتھی صدی ہجری کے ماہرین محدثین علمائے رجال وغیرہ نے تحریر کیا تھا یہاں تک کے ابن طاووس علیہ الرحمہ تک سیکڑوں کتب موجود تھی جن کو انہوں نے اپنے سلسلہ اسناد سے روایت کیا اور ان سے اپنی کتب میں نقل کیا تھا ،افسوس ان میں سے اکثر مصادر ہم تک نہیں پہنچے۔
راویوں کی توثیق و تضعیف کے متعلق ہماری روش:
چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں علماء کے دو گروہ تھے اہل بغداد اور اہل قم، اہل بغداد میں شیخ مفید، شیخ طوسی اور نجاشی علیہم الرحمہ نمایاں ہیں ،راویوں کے متعلق
اہل قم میں شیخ ابن ولید، شیخ صدوق، ابن قولویہ وغیرہ ہیں۔
اگر اہل قم ،راوی کی تضعیف کریں اور اہل بغداد توثیق کریں تو اہل بغداد کا قول قبول کیا جائے گا اس سبب سے کہ اہل قم راویوں کے متعلق بہت سخت تھے چھوٹے چھوٹے اسباب کے سبب راویوں کی احادیث رد کر دیتے تھے بلکہ اس کو قم سے جلا وطن کر دیتے تھے ۔اس کے مختلف اسباب تھے جن کے بیان سے یہاں معذور ہیں ،ان شا اللہ کسی اور تحریر میں اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کریں گے ۔البتہ اہل قم کی یہ روش حقیقت میں تشیع کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اس امر نے راویوں کو ضعیف، مرسل، موضوع روایات منتشر کرنے سے کسی حد تک روکا حالانکہ ان کا بیان راوی کی تضعیف کا سبب نہیں بنتا مگر اہل قم ان اسباب کے سبب بھی راویوں کی تضعیف کرتے تھے، اس کے برعکس اگر اہل بغداد تضعیف کریں اور اہل قم توثیق کریں تو اہل قم کی توثیق کو قبول کیا جائے گا ۔
مثلاً : اگر ابن قولویہ علیہ الرحمہ نے کامل الزيارات( میں متصل حدیث لی ہو )یا شیخ صدوق نے الفقیہ میں کسی راوی سے مطلقا حدیث لی ہو تو یہ ان کے نزدیک راوی کی توثیق شمار ہوگی جیسا کہ اپنی کتب کے راویوں کے متعلق انہوں نے کتب کے مقدموں میں وضاحت کر دی ہے اس کے برخلاف اگر اس راوی کو اہل بغداد میں سے کوئی ضعیف قرار دے تو اہل قم کی رائے پر عمل کیا جائے گا مگر یہ کہ دیگر شواہد و قرائن سے ثابت ہو جائے کہ ان سے خطا واقع ہوئی ہے۔
وہ راوی جن کا ذکر رجال الشيخ طوسی میں بغیر توثیق و تضعیف کے ہے یا فہرست شیخ طوسی و رجال نجاشی علیہما الرحمہ میں نہیں ہے اور ان سے کامل الزيارات یا من لا یحضره الفقیہ میں روایت لی گئی ہے یا ان افراد نے اس کے واسطے سے حدیث لی ہے جن کے لئے علماء نے تصریح کی ہے کہ وہ صحیح الحدیث والے ہیں یا ثقہ کے سوا کسی سے روایت یا ارسال نہیں کرتے تو ایسے افراد کو مجہول نہیں شمار کیا جائے گا بلکہ ان کی احادیث پر صحیح کا حکم لگے گا کیونکہ شیخ نے رجال میں اور فہرست میں کہیں یہ شرط نہیں لگائی کہ وہ ہر راوی کی توثیق یا تضعیف بھی ذکر کریں گے اور شیخ نجاشی نے فقط ان افراد کا تذکرہ کیا ہے جو صاحبان تالیف یا تصنیف تھے لازم نہیں کہ ہر شخص مولف یا مصنف بھی ہو ۔
یہ تمام تر اصول متقدمین کی تحریروں کو مد نظر رکھتے ہوئے ذکر کئے گئے ہیں باقی رہا متاخرین کا اجتہاد تو اس کے متعلق ہم کمال احترام کے ساتھ بس اتنا ہی کہیں گے کہ وہ ان کے لئے حجت ہے جو ان مسائل میں بھی ان حضرات کے مقلد ہیں واللہ اعلم ۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی ہمیشہ سے ہی شیعیان امیرالمومنین علیہ السلام کے درمیان ایک معتبر ماخوذ شمار ہوتی ہے علماء متقدمین اس کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس پر اعتماد کرتے تھے یہاں تک کہ سید ابن طاووس علیہ الرحمہ المتوفی 673ھ کے دور میں ایک بے سند کتاب وجود میں آتی ہے جس کی نسبت احمد بن حسین غضائری یا حسین بن عبیدالله غضائری کی طرف دی گئی چنانچہ سید علیہ الرحمہ نے علم رجال سے متعلق اپنی کتاب (حل الإشكال في معرفة الرجال) میں اس بے سند نسخے کو داخل کیا جس میں 225 راویوں کا ذکر تھا کہ جن میں سے 165 افراد کی تضعیف کی گی تھی (قابل ذکر ہے کہ تضعیف کئے گئے افراد میں ایک بڑی جماعت ان افراد کی ہے کہ جن کی مدح میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں یا ان کی توثیق علماء متقدمین، مثل برقی، صدوق، مفید، طوسی، نجاشی وغیرہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے کی ہے) البتہ خود ابن طاووس علیہ الرحمہ نے اس نسخے میں موجود تضعیف پر اعتماد نہیں کیا بلکہ اس کے برخلاف حکم کیا (جیسا کہ جناب عیسی بن المستفاد کے حالات میں عنقریب تفصیلا ذکر ہوگا) سید علیہ الرحمہ کے بعد آپ کے دو شاگرد حسن بن داؤد حلی وفات 707 ہجری و علامہ حلی وفات 726 ہجری نے اپنی اپنی کتب رجال میں اس کو نقل کیا ،ان کے بعد سے متاخرین نے جو کتب علم رجال سے متعلق لکھیں ان تینوں کے بیان کردہ مطالب ہی کو اپنی کتب میں وارد کیا۔
ابن غزائری سے منسوب کتاب پہلی کتاب تھی جس میں کتاب سلیم کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی اس کے بعد جس نے بھی اس کتاب کو مشکوک سمجھا اس کی پہلی دلیل یہ مجہول کتاب ہوتی ہے ،البتہ متاخرین میں بھی گنتی کے چند افراد کو چھوڑ کر محدثین،فقہاء اور اہل علم کی کثیر تعداد کتاب سلیم کو معتبر ہی شمار کرتی ہے۔
مگر آج کل کے نواصب اپنی عوام الناس کو دھوکے میں رکھتے ہوئے ان سے یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سیدہ کائنات فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت فقط ایک افسانہ ہے جو خود شیعوں کے یہاں بھی ثابت نہیں حالانکہ آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ذکر فقط کتاب سلیم میں ذکر ہے اور کتاب کا راوی آبان بن ابی عیاش حدیثیں گھڑنے والا ہے اس نے یہ من گھڑت کتاب، سلیم بن قیس سے منسوب کر دی۔
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے شہادت صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا کی شہادت کا تذکرہ علمائے متقدمین نے اپنی کتب میں معتبر اسناد سے کیا ہے، اس موضوع پر روایات تواتر کی حد تک ہیں جس کے بعد سند کی تحقیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی، سلف سے خلف تک اہل علم کہ جن کے سینوں کو اللہ نے حقائق سے بھر دیا ہے ان کے درمیان اس مسئلہ میں ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں کہ امت نے بنی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کے بعد آپ کی پارہ جگر صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا کو ان کی میراث سے محروم کیا اور ان کے حق کو غصب کیا یہاں تک کہ ان کو شہید کیا ۔
اس سے قبل کہ ہم کتاب سلیم کی اہمیت اور جناب آبان بن ابی عیاش کی توثیق پیش کریں مناسب سمجھتے ہیں کتاب پر ہونے والے اشکالات کے جواب بھی دے دیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ کتاب سلیم بے عیب و غبار ہے، چونکہ بعض متاخرین نے کتاب کو مشکوک خیال کیا ہے لہذا اختلافی مسئلہ میں خوش فہمی و حسن ظن کافی نہیں ہوتا بلکہ دلائل و براہین کے ذریعے حق تک پہنچا جاتا ہے ۔
کتاب سلیم کی رد میں مخالفین کی پہلی دلیل (شیخ مفید علیہ الرحمہ سے منسوب قول):
أن هذا الكتاب غير موثوق به، ولا يجوز العمل على أكثره، وقد حصل فيه تخليط وتدليس، فينبغي للمتدين أن يجتنب العمل بكل ما فيه۔
یہ کتاب قابل اعتماد نہیں ہے، اور جو کچھ اس میں ہے تو اس میں مرقوم ہر چیز پر عمل کرنے سے بچا جائے گا اس کتاب میں ملاوٹ و دھوکا مل گیا ہے۔
پس ایک دیندار کو اس میں موجود ہر بات پر عمل کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
[تصحيح اعتقادات، تأليف الشيخ المفيد ،تاريخ وفات مؤلف: 413 ق ،محقق / مصحح: درگاهى، حسين ،زبان: عربى ،تعداد جلد: 1،ناشر: كنگره شيخ مفيد،مكان چاپ: ايران؛ قم ،سال چاپ: 1414 ق، نوبت چاپ: دوم ، الإمامية ص 149]
https://lib.eshia.ir/15141/1/149




شیخ مفید علیہ الرحمہ سے منسوب قول کا رد:
تصحيح اعتقادات نامی کتاب جس کی نسبت شیخ مفید علیہ الرحمہ کی طرف دی جاتی ہے در حقیقت خود ایک من گھڑت کتاب ہے جس پر شرعاً اور عقلاً بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
بعض دلائل ملاحظہ فرمائیں:
کسی کتاب کی اپنے مولف یا مصنف سے نسبت کے لئے یہ لازمی ہے کہ یا خود مصنف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہو یا دیگر ہم عصر علماء نے اسکا ذکر کیا ہو، یا کتابوں کی فہرست میں اس کا ذکر ہو یا مولف و مصنف کے دور کا کوئی نسخہ موجود ہو ،یا جو نسخہ بھی موجود ہو وہ سند کے ذریعے مولف سے روایت کیا گیا ہو ،یا اس پر علماء کرام کی سماعات کا ذکر ہو ،یا کم از کم علماء کرام نے اپنے اجازات میں اس کا ذکر کیا ہو۔
شیخ علیہ الرحمہ سے منسوب مذکورہ رسالہ میں مذکورہ بالا کوئی بھی صفت نہیں پائی جاتی حالانکہ شیخ علیہ الرحمہ اپنی مختلف کتب و رسائل میں اپنی بعض کتب و رسائل کا نام ذکر کرتے مگر اس رسالہ کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔
شیخ مفید علیہ الرحمہ کے دو معروف شاگرد شیخ طوسی و نجاشی علیہما الرحمہ نے اپنی اپنی فہرست میں شیخ مفید علیہ الرحمہ کی بہت سی کتب و رسائل کے نام ذکر کئے مگر اس رسالہ کا ذکر نہیں کیا ،نجاشی علیہ الرحمہ نے تو آپ کی 120 کتب و رسائل کا ذکر کیا مگر مذکورہ رسالہ کا کہیں نام بھی نہیں لیا۔
ہمارے علم میں مذکورہ کتاب کا قدیم ترین نسخہ تہران یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود نسخہ نمبر 282 ہے جسے علی اکبر قزنجاہی نے سنہ 1036 ہجری میں لکھا اس کے بعد آستان قدس رضوی کا نسخہ نمبر 6747 ہے جس کو 1042 ہجری میں لکھا گیا ،کتب خانہ ملی (تہران )کا نسخہ نمبر 2039 جس کی کتابت 1074 ہجری میں ہوئی باقی نسخہ جات اس کے بعد کے ہیں ۔
گویا مفید علیہ کی وفات 413 ہجری سے لیکر 1036 ہجری تک ان 623 سالوں تک کسی کو اس نسخہ کا علم نہیں تھا۔
ایسی کتاب جس کا ذکر نہ مولف نے اپنے آثار میں کیا، نہ ان کے شاگردوں و دیگر افراد نے اپنی کتابوں میں کیا، نہ ہی اس کتاب سے کسی نے کچھ نقل کیا، نہ ہی علماء کرام کے اجازات میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نسخہ جو قدیم ہو یا جس پر سند مذکورہ ہو یا علماء کرام کی سماعات و اجازات مرقوم ہوں بھلا کیسے قابل اعتماد ہو سکتا ہے کہ اس پر عقیدہ کے باب میں اعتماد کیا جائے۔
مذکورہ رسالہ کے بطلان کی بہترین دلیل شیخ مفید علیہ الرحمہ کے شاگردوں کا کتاب سلیم کو اپنی اسناد سے روایت کرنا ہے چنانچہ شیخ نجاشی و طوسی علیہما الرحمہ نے اپنی فہرست کتب میں اپنی اسناد کے ذریعے کتاب سلیم کو روایت کیا، شیخ نجاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
سليم بن قيس الهلالي له كتاب ، يكنى أبا صادق أخبرني علي بن أحمد القمي قال : حدثنا محمد بن الحسن بنالوليد قال : حدثنا محمد بن أبي القاسم ماجيلويه ، عن محمد بن علي الصيرفي ، عن حمادبن عيسى وعثمان بن عيسى ، قال حماد بن عيسى : وحدثنا إبراهيم بن عمر اليماني عن سليم بن قيس بالكتاب.
سلیم بن قیس ہلالی ان کی کنیت ابو صادق ہے ان کی کتاب ہے۔
(پھر شیخ نجاشی نے کتاب تک اپنا سلسلہ نقل کیا )
[رجال النجاشي، أبي العبّاس أحمد بن علي النجاشي،المحقق:السيّد موسى الشبيري الزنجاني، الناشر:مؤسسة النشر الإسلامي(قم المشرفة) ص 8]
http://lib.eshia.ir/14028/1/8/%D8%B3%D9%84%D9%8A%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D9%82%D9%8A%D8%B3




اسی طرح شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے روایت کیا:
سليم بن قيس الهلالي، يكنى أبا صادق.له كتاب، أخبرنا به ابن أبي جيد، عن محمد بن الحسن بن الوليد، عن محمد بن أبي القاسم الملقب بماجيلويه، عن محمد بن علي الصيرفي، عن حماد بن عيسى وعثمان بن عيسى، عن أبان بن أبي عياش، عنه.
]فهرست ص 143، المؤلف: الشيخ الطوسي، الوفاة: ٤٦٠، تحقيق: الشيخ جواد القيومي، الطبعة: الأولى،سنة الطبع: شعبان المعظم ١٤١٧[۔




اس کے علاوہ بھی شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے کتاب سلیم کو دیگر صحیح اسناد سے روایت کیا ہے بلکہ آج جو موجودہ نسخہ جات ہیں ان میں سے اکثر شیخ طوسی کے واسطے سے ہی ہم تک پہنچے ہیں۔
دوسری دلیل ابن غضائری سے منسوب تضعیف:
علامہ حلی آبان کے حالات میں ابن غضائری سے منسوب قول نقل کرتے ہیں:
ابان بن ابي عياش – بالعين غير المعجمة، والشين المعجمة – واسم ابي عياش، فيروز – بالفاء المفتوحة، والياء المنقطة تحتها نقطتين الساكنة، وبعدها راء، وبعد الواو زاي – تابعي ضعيف جدا. روى عن انس بن مالك، وروى عن علي بن الحسين (عليهما السلام)، لا يلتفت إليه، وينسب اصحابنا وضع كتاب سليم بن قيس إليه، هكذا قاله ابن الغضائري. وقال السيد علي بن احمد العقيقي في كتاب الرجال: ابان بن ابي عياش كان سبب تعريفه هذا الامر سليم بن قيس، حيث طلبه الحجاج ليقتله حيث هو من اصحاب علي (عليه السلام)، فهرب الى ناحية من ارض فارس ولجأ الى ابان بن ابي عياش، فلما حضرته الوفاة قال لابن ابي عياش: ان لك حقا وقد حضرني الموت يا ابن اخي انه كان من الامر بعد رسول الله (صلى الله عليه وآله) كيت وكيت، واعطاه كتابا، فلم يرو عن سليم بن قيس احد من الناس سوى ابان. وذكر ابان في حديثه قال: كان شيخا متعبدا له نور يعلوه. والاقوى عندي التوقف فيما يرويه لشهادة ابن الغضائري عليه بالضعف،
ابان بن ابی عیاش بہت زیادہ ضعیف تابعی ہیں انس بن مالک اور علی بن الحسين (علیہما السلام ) سے روایت کرتے ہیں، ان کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، اور ہمارے اصحاب نے ان کی طرف سلیم کی کتاب گڑھنے کی نسبت دی ہے، جیسا کہ ابن غضائری نے کہا ۔
اور سید علی بن احمد عقیقی نے کہا، آبان بن ابی عیاش ان کے مشہور ہونے کا سبب سلیم بن قیس کا مسئلہ ہے کہ جب ان کو حجاج نے قتل کے لئے طلب کیا اور وہ اصحاب علی علیہ السلام میں سے تھے تو وہ ارض فارس کے ایک گوشہ کی طرف چلے گئے اور وہاں آبان کے پاس پناہ لی جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو آبان سے کہا کہ تمہارا (مجھ پر) حق ہے اور میری موت کا وقت قریب ہے اے میرے بھتیجے یہ وہ معاملہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد وجود میں آیا ایسا ایسا ہوا اور ان کو ایک کتاب عطاء کی تو سلیم سے آبان کے سوا کسی اور نے (اس کتاب) کو روایت نہیں کیا اور آبان کا ذکر حدیث میں کیا اور کہا "وہ عبادت گزار شیخ تھے جن کے اوپر نور جلوہ افروز تھا”۔
البتہ میرے نزدیک یہی مضبوط ہے کہ ان کی احادیث پر رکا جائے اس کے سبب جوکہ ابن غزائری نے ان کے خلاف گواہی دی ہے۔
]خلاصة الاقوال في معرفة الرجال،المؤلف: الحسن بن يوسف بن المطهر ” العلامة الحلي "،التحقيق: فضيلة الشيخ جواد القيومي الطبعة: الاولى المطبعة: مؤسسة النشر الاسلامي الكمية: 1000 ليتوغرافي: حميد التاريخ: عيد الغدير 1417 مؤسسة نشر الفقاهة ص 325[




ابن غضائری سے منسوب قول کا رد:
ابن غضائری سے منسوب کتاب غیر معتبر ہے ابن غضائری شیخ طوسی و نجاشی کے ہم عصر تھے ان کی وفات کے دوسو(۲۰۰) سال تک اس کتاب کا کوئی وجود نہیں ملتا یہاں تک کہ پہلی بار اس سے ابن طاووس نے حل الإشكال میں اقوال نقل کئے مگر ابن طاووس تک اس کتاب کی کوئی سند نہیں تھی ،آج کتاب حل الإشكال مفقود ہے مگر خوش قسمتی سے اس کتاب کے مقدمہ کو حسن بن زين الدين العاملي علیہالرحمہ المتوفی 1011 ھ نے اپنی کتاب تحریر طاووسی میں نقل کیا فرماتے ہیں:
قال السيد رحمه الله في أثناء خطبة الكتاب: ” وقد عزمت على أن أجمع في كتابي هذا أسماء الرجال المصنفين وغيرهم، ممن قيل فيه مدح أو قدح، وقد الم بغير ذلك من كتب خمسة: كتاب الرجال لشيخنا أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي رضي الله عنه. وكتاب فهرست المصنفين له. وكتاب اختيار الرجال من كتاب الكشي – أبي عمرو محمد بن عبد العزيز . وكتاب أبي الحسين أحمد بن العباس النجاشي الاسدي. وكتاب أبي الحسين أحمد بن الحسين بن عبيدالله الغضائري في ذكر الضعفاء خاصة – رحمهم الله تعالى جميعا – ناسقا للكل على حروف المجعم، وكلما فرغت من مضمون كتاب في حرف ، شرعت في الكتاب الاخر، ضاما حرفا الى حرف، منبها على ذلك الى آخر الكتاب، وبعد الفراغ من الاسماء في آخره شرعت كذلك في اثبات الكنى ونحوها من الالقاب، ولي بالجميع روايات متصلة – عدا كتاب ابن الغضائري۔
سید رحمت اللہ علیہ کتاب کے خطبہ میں فرماتے ہیں اس کتاب میں میرا قصد یہ ہے کہ سب مصنفین راویوں وغیرہ کے ناموں کو جمع کروں جن کی مدح یا قدح کی گئی ہے پانچ کتابوں سے کتاب رجال جو ہمارے شیخ ابی جعفر طوسی رضی اللہ عنہ کتاب ہے اور کتاب فہرست مصنفین وہ بھی ان کی کتاب ہے اور کتاب اختیار الرجال جو کشی ابی عمرو بن محمد بن عبدالعزيز کی کتاب ہے اور کتاب ابی الحسین احمد بن حسین بن عبیداللہ غزائری جو خاص ضعفاء کے متعلق ہے ،اللہ تعالٰی کی ان سب پر رحمت ہو ۔۔۔۔۔ان سب کتابوں تک روایات متصل ہیں سوائے کتاب ابن غزائری کے۔
التحرير الطاووسي المستخرج من كتاب حل الاشكال للسيد احمد بن موسى الطاووس، المتوفى سنة 673 ھ۔ ،تأليف الشيخ حسن بن زين الدين صاحب المعالم المتوفى 1011 ھ۔ ، تحقيق: فاضل الجواهري إشراف: السيد محمود المرعشي، ص 15]
https://ar.lib.eshia.ir/14005/1/15



جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سید علیہ الرحمہ نے اس بات کو صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہےکہ ان تک ابن غضائری سے منسوب کتاب تک کوئی سند نہیں ہے۔
دور حاضر کے اصولی علماء کرام کے پیشوا سید خوئی علیہ الرحمہ نے بھی مذکورہ کتاب کو مخالفین کی من گھڑت کتاب قرار دیا ہے:
أن الكتاب المنسوب إلى ابن الغضائري لم يثبت بل جزم بعضهم بأنه موضوع، وضعه بعض المخالفين و نسبه إلى ابن الغضائري.
کتاب جو ابن غزائری سے منسوب ہے وہ ثابت نہیں ہے بلکہ بعض نے یہ جزم کیا ہے کہ یہ کتاب من گھڑت ہے اس کو بعض مخالفین نے گڑھ کر ابن غزائری کی طرف منسوب کر دیا ۔
[معجم رجال الحديث،تألیف:السيد أبو القاسم الموسوي الخوئي، الناشر : مؤسسة الخوئي الإسلامية، ج 1 ص 96]
http://lib.eshia.ir/14036/1/96



تعجب ہے بعض افراد پر جو نام نہاد اجتہاد کے نام پر واضح دلائل کا انکار کرتے ہوئے ایسی بے بنیاد کتاب کو حجت قرار دیتے ہیں جو اس کی بہترین دلیل ہے کہ اس کا گھڑنے والا دشمن آل محمد علیہم السلام کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا جسکا مقصد آثار نبوت کو مٹانا تھا۔
اگر یہ کتاب ابن غضائری سے ثابت بھی ہو جائے تب بھی اسدلال کے قابل نہیں کیونکہ جن جلیل القدر ہستیوں کے متعلق مذکورہ کتاب میں توہین آمیز کلمات استعمال کئے گئے ہیں یا ان پر جھوٹ، غلو، وغیرہ کی ناروا تہمت لگائی ہیں وہ ابن غضائری سے ہزاروں درجہ افضل ہیں۔
(۳) مخالفین کی تیسری دلیل(شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے ذریعہ آبان بن ابی عیاش کی تضعیف):
أبان بن أبي عيّاش فيروز،تابعي، ضعيف.
آبان بن ابی عیاش ضعیف تابعی ہیں ۔
[رجال الطوسي( جامعه مدرسين)،تأليف :طوسى، محمد بن حسن ،تاريخ وفات پديدآور: 460 ه. ق ،محقق: قيومى اصفهانى، جواد،موضوع: أصحاب ائمة معصومين عليهم السلام،زبان: عربى
ناشر: جماعة المدرسين في الحوزة العلمية بقم، مؤسسة النشر الإسلامي ،مكان چاپ: ايران- قم ،سال چاپ: 1373 ه. ش ،نوبت چاپ: 3 ص 126]


مخالفین کی تیسری دلیل شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے ذریعہ آبان بن ابی عیاش کی تضعیف کا جواب :
اگرچہ شیخ علیہ الرحمہ نے کتاب رجال میں آبان کو ضعیف کہا مگر اپنی دیگر کتب میں آبان کی احادیث سے احتجاج کیا ہے، چنانچہ شیخ نے کتاب “الغیبہ” کے مقدمہ میں اس امر کی تصریح کی ہے کہ اپنے مدعی کو احادیث سے ثابت کریں گے تاکہ ان کے کلام کی صداقت پر دلیل ہو ،لکھتے ہیں:
لا أطول الكلام فيه فيملّ، فإنّ كتبي في الإمامة و كتب شيوخنا مبسوطة في هذا المعنى في غاية الاستقصاء، و أتكلّم على كل ما يسأل في هذا الباب من الأسئولة المختلفة، و أردف ذلك بطرف من الأخبار الدالة على صحّة ما نذكره، ليكون ذلك تأكيدا لما نذكره، و تأنيسا للمتمسكين بالأخبار، و المتعلقين بظواهر الأحوال.
میں (اس کتاب میں )کلام کو طولانی نہیں کروں گا کیونکہ میری کتب میں اور ہمارے شیوخ کی کتب میں اس مسئلہ کو شیح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے بلکہ اس (کتاب )میں ہر اس باب میں جو سوالات ہیں ان سب کے جوابات دوں گا اور اس میں اس میں کچھ خبروں کا اضافہ کرتا ہوں جو اس بات کی صداقت کو ثابت کرتی ہیں جو ہم ذکر کر رہے ہیں تاکہ ان کے اطمینان کا سبب بنے جو اخبار پر اعتماد کرتے ہیں اور ظاہر حال پر نگاہ رکھتے ہیں ۔
[الغيبة( للطوسي) / كتاب الغيبة للحجة
تأليف:طوسى، محمد بن الحسن ،تاريخ وفات مؤلف: 460 ق
محقق / مصحح: تهرانى، عباد الله و ناصح، على احمد
موضوع: كلام ،زبان: عربى
تعداد جلد: 1،ناشر: دار المعارف الإسلامية ،مكان چاپ: ايران: قم ،سال چاپ: 1411 ق ،نوبت چاپ: اول ,ص 2[
https://lib.eshia.ir/15084/1/2




اپنی اسی کتاب میں آبان سے بارہ ائمہ علیہم السلام کے متعلق حدیث نقل کی:
فأما ما روي من جهة الخاصة فأكثر من أن يحصى غير أنا نذكر طرفا منها۔
اور جو کچھ اس (امامت )کے سلسلے میں خاص سے مروی ہوا ہے تو وہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ اس کا شمار کیا جائے علاوہ اس کے کہ ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کریں گے ۔( گویا شیخ علیہ الرحمہ کے نزدیک آبان کی احادیث کو خاص شمار کرتے تھے )۔
پھر حدیث روایت کی:
رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا بِهِ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي الْمُفَضَّلِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ وَ أَخْبَرَنَا أَيْضاً جَمَاعَةٌ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِأَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ أَبَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ الطَّيَّارَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ أَنَا وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ ع وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ العباس.
[الغيبة( للطوسي) / كتاب الغيبة للحجة
تأليف:طوسى، محمد بن الحسن ،تاريخ وفات مؤلف: 460 ق
محقق / مصحح: تهرانى، عباد الله و ناصح، على احمد
موضوع: كلام ،زبان: عربى
تعداد جلد: 1،ناشر: دار المعارف الإسلامية ،مكان چاپ: ايران: قم ،سال چاپ: 1411 ق ،نوبت چاپ: اول ،ص 137]





ممکن ہے شاید کوئی اسے تناقض تصور کرے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تناقض نہیں ہے، چونکہ آبان نے سلیم رحمت اللہ علیہ سے روایات فقط سنی ہی نہیں تھیں بلکہ ان کی کتاب آبان کے پاس تھی درحقیقت آبان سلیم علیہ الرحمہ کی کتاب کے راوی ہیں انہوں نے کتاب کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا ہے اور انتقال کتاب میں حافظہ کا اتنا عمل دخل نہیں لہٰذا حافظے کی کمزوری کے بعد بھی شیخ کا ان کی احادیث سے احتجاج اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ آبان کی سلیم سے مرویات کتاب کے ذریعے ہیں۔ یا ضعف اس قدر کم تھا کہ جو آبان کی احادیث پر اثر انداز نہیں ہوتا تھا ۔ بلکہ ان شاء اللہ ابان کی توثیق کے باب میں ذکر کریں گے کہ شیخ نے بعد میں اپنی اس رائے سے رجوع کر لیا تھا اور وہ جناب آبان کو ثقہ ہی تسلیم کرتے تھے ۔
خلاصہ پہلی و دوسری دو دلیلیں تو مردود ہیں تیسری دلیل کو اگر تسلیم بھی کیا جائے تب بھی کتاب کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتی کیونکہ آبان بن ابی عیاش نے سلیم سے کتاب روایت کی ہے نہ کہ شفاہی روایات ۔
اور اگر شرط یہی ہے کہ بے سند و مجہول نسخوں کی عادات کو بھی حجت قرار دیا جائے تو پھر امام صادق آل محمد علیہ سلام کی لسان مبارک سے کتاب سلیم کی تائید ہو جاتی ہے۔
جلیل القدر شیخ فضل بن شاذان نیشابوری وفات 260 ہجری کی ایک کتاب تھی (إثبات الرجعة ) شیخ طوسی و نجاشی علیہما الرحمہ نے اپنی اپنی فہرست میں آپ کی کتب کے ذیل میں مذکورہ کتاب کا ذکر کیا ہے:
الفضل بن شاذان النيشابوري، فقيه متكلم، جليل القدر……له كتب ومصنفات، منهاوكتاب في اثبات الرجعة.
[كتاب: فهرست, المؤلف: الشيخ الطوسي
الجزء:
الوفاة: ٤٦٠ ،المجموعة: أهم مصادر رجال الحديث عند الشيعة
تحقيق: الشيخ جواد القيومي ،الطبعة: الأولى
سنة الطبع: شعبان المعظم ١٤١٧ ص 197/198]




الفضل بن شاذان بن الخليل أبو محمد الازدي النيشابوري ….روى عن أبي جعفر الثاني ، وقيل [ عن ] الرضا أيضا عليهماالسلام وكان ثقة ، أحد أصحابنا الفقهاء والمتكلمين. وله جلالة في هذه الطائفة ، وهو في قدره أشهر من أن نصفه.
وذكر الكنجي أنه صنف مائة وثمانين كتابا وقع إلينا منها ….كتاب إثبات الرجعة .
[رجال النجاشي،تألیف: أبي العبّاس أحمد بن علي النجاشي
المحقق:السيّد موسى الشبيري الزنجانيالمترجم:
الموضوع : رجال الحديث
الناشر: مؤسسة النشر الإسلامي ، ص 306/307]
https://lib.eshia.ir/14028/1/306




سید محمد موسوی حسینی سبزواری اصفهانی مشهور به میرلوحی، وفات 1083 سے 1087 کے درمیان نے اپنی (كفاية المهتدي في معرفة المهدي)نے مذکورہ کتاب سے کثیر تعداد میں احادیث نقل کی ہیں۔
شیخ حر عاملی علیہ الرحمہ نے اس کا ایک نسخہ لکھا تھا:
آغا بزرگ فرماتے ہیں:
7472: منتخب إثبات الرجعة:
للفضل بن شاذان، انتخبه بعض فضلاء المحدثين، كما كتب عليه الشيخ الحر بخطه، صورة الخط في آخر النسخة الموجودة عند الشيخ محمد السماوي: هذا ما وجدناه منقولا من رسالة (إثبات الرجعة) للفضل بن شاذان، بخط بعض فضلاء المحدثين.
منتخب إثبات الرجعہ جو فضل بن شاذان کی کتاب ہے۔ جس کا ایک نسخہ شیخ حر نے لکھا ہے چنانچہ اس نسخہ کے آخر میں موجود لکھا ہے جو شیخ محمد سماوی کے پاس تھا کہ یہ وہ سب ہے جو ہم نے فضل بن شاذان کے رسالہ اثبات الرجعہ سے نقل ہوا پایا بعض فاضل محدثین کے ہاتھ سے۔
]نام كتاب:الذريعة إلى تصانيف الشيعة
نام مؤلف: شيخ آقا بزرگ تهرانى
تعداد جلد: 25, چاپ: ايران
ناشر: اسماعيليان قم و كتابخانه اسلاميه تهران ,سال انتشار: 1408 هجرى قمرى , ج 22 ص 367[
https://ar.lib.eshia.ir/71602/22/367



صاحب وسائل کے نسخہ سے ابن زین العابدین محمد بن حسین ارومی نے سنہ 1350 میں اپنا نسخہ لکھا جس کو موسسہ اہل بیت نے تراثنا میگزین کے جلد 15 میں نقل کیا:
إن ما حصلنا عليه من نسخ هذه الرسالة هي النسخة التي فرغ من كتابتها ابن زين العابدين محمد بن حسين الأرموي في ثمان ليال بقين من ذي القعدة سنة 1350 ه نقلا عن نسخة صاحب الوسائل المحدث الشيخ محمد بن الحسن الحر العاملي، المتوفى سنة 1104 ه، وكان عليها خطه قدس سره.
مجلة تراثنا – مؤسسة آل البيت – ج 15 ص 195



شیخ حر عاملی علیہ الرحمہ کے نزدیک یہ رسالہ معتبر تھا فرماتے ہیں:
تتمّة قد وصل إلينا أيضا كتب كثيرة قد ألّفت و جمعت في زمانهم (عليهم السلام) في الغيبة الصغرى نذكر بعضها هنا،و هي ثلاثة أقسام:الأوّل: ما هو عندنا معتمد ثابت و لم ننقل منه
و منها: رسالة الفضل بن شاذان في الرجعة
ہم تک بہت ساری ایسی کتابیں بھی پہنچی ہیں جو (ائمہ علیہم السلام ) کے زمانے( و) غیبت صغری میں تالیف و جمع کی گئیں ان میں سے ہم یہاں بعض کا ذکر کریں گے اور ان کی تین اقسام ہیں پہلی وہ کہ جو ہمارے نزدیک قابل اعتماد، ثابت شدہ ہیں اور ان سے ہم نے نقل نہیں کیا ان میں سے فضل بن شاذان کا رسالہ رجعت( کے متعلق )ہے۔
[هداية الأمة إلى أحكام الأئمة – منتخب المسائل
تألیف،الحر العاملي ،الموضوع : الفقه
الناشر : مجمع البحوث الإسلامية ،ج8 ص549]
https://ar.lib.eshia.ir/86944/8/549



فضل بن شاذان سے منسوب مذکورہ رسالہ میں پہلی حدیث محمد بن اسماعیل بن بزيع انہوں نے حماد بن عیسی سے انہوں نے ابراہیم بن عمر یمانی سے انہوں نے آبان بن ابی عیاش سے انہوں نے سلیم بن قیس سے روایت کی سلیم نے کہا میں نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا ۔۔۔۔۔(اس سند سے ایک طولانی حدیث روایت کی )
حدثنا محمد بن إسماعيل بن بزيع – رضي الله عنه -، قال: حدثنا حماد بن عيسى، قال: حدثنا إبراهيم بن عمر اليماني، قال: حدثنا أبان بن أبي عياش، قال: حدثنا سليم بن قيس الهلالي، قال: قلت لأمير المؤمنين عليه السلام: إني سمعت سلمان والمقداد وأبي ذر شيئا من تفسير القرآن والأحاديث عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم غير ما في أيدي الناس،…
مختصر إثبات الرجعة ص 1




حدیث کی سند میں محمد بن اسماعیل بن بزيع اور حماد بن عیسی دونوں جلیل قدر علماء میں سے ہیں جن کی وثاقت مورد اتفاق ہے حدیث کے آخر میں حماد بن عیسی فرماتے ہیں:
قال محمد بن إسماعيل: ثم قال حماد بن عيسى: قد ذكرت هذا الحديث عند مولاي أبي عبد الله عليه السلام فبكى وقال: صدق سليم، فقد روى لي هذا الحديث أبي عن أبيه علي بن الحسين عن أبيه الحسين بن علي قال: سمعت هذا الحديث من أمير المؤمنين عليه السلام حين سأله سليم بن قيس.
میں نے اپنے آقا ابی عبداللہ (امام صادق )علیہ السلام کے پاس اس حدیث کا ذکر کیا تو آپ علیہ السلام رونے لگے اور فرمایا سلیم نے سچ کہا درحقیقت اس حدیث کو میرے والد نے اپنے والد علی بن الحسين سے انہوں نے اپنے والد حسین بن علی سے سنا جب سلیم نے آپ سے سوال کیا تھا۔
مختصر إثبات الرجعة ص 5/6




مذکورہ صحیح سند حدیث سے صادق آل محمد علیہ سلام کے ذریعے آبان و سلیم دونوں کی توثیق ہو جاتی ہے نیز آبان سے ضعف کی نسبت بھی رفع ہو جاتی ہے۔
البتہ ہمارے نزدیک مذکورہ رسالے کی نسبت فضل بن شاذان علیہ الرحمہ سے ثابت نہیں لہٰذا ہم اس کی منفرد روایات کو حجت تسلیم نہیں کرتے۔
مگر وہ افراد جو شیخ مفید و ابن غضائری سے منسوب بے سند تحریروں کو حجت تسلیم کرتے ہیں ان کے لئے یہ فضل بن شاذان سے منسوب کتاب بدرجہ اولی معتبر ہونی چاہیے اگر تینوں کتب کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی حدیث کے مقابل شیخ مفید و ابن غضائری کا کلام کیسے حجت ہو سکتا ہے؟
ابان بن ابی عیاش کی توثیق:
محمد بن ابی عمیر زیاد بن عیسی ازدی (متوفی 217 ھ)۔
ابن ابی عمیر کی عظمت و جلالت محتاج بیان نہیں آپ کا شمار امام موسی کاظم، امام علی رضا و امام محمد تقی علیہم السلام کے اصحاب میں ہوتا ہے ،آپ کے بلند مرتبہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ کا شمار اصحاب اجماع میں ہوتا ہے ۔
متقدمین شیعہ علماء کرام نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ آپ کی مراسیل صحیح ہیں، آپ ثقہ کے علاوہ کسی اور سے روایت نہیں لیتے اور چونکہ آپ کی مراسیل بھی صحیح ہوتی ہیں تو یہ اس امر کی متقاضی ہیں کہ آپ سے لیکر معصوم علیہ السلام تک سند کے تمام راوی ثقہ و قابل اعتماد ہیں۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
وإذا كان أحد الراويين مسندا والاخر مرسلا، نظر في حال المرسل، فان كان ممن يعلم انه لا يرسل الا عن ثقة موثوق به فلا ترجح لخبر غيره على خبره، ولاجل ذلك سوت الطائفة بين ما يرويه محمد بن أبى عمير وصفوان بن يحيى ، وأحمد بن محمد ابن أبى نصر وغيرهم من الثقات الذين عرفوا بأنهم لا يروون ولا يرسلون الا عمن يوثق به.
اگر ایک روایت مسند ہو اور دوسری مرسل تو مرسل کے متعلق دیکھا جائے گا اگر علم ہو جائے کہ روایت ان افراد کی ہے کہ جو ثقہ و قابل اعتماد (راویوں ) کے سوا ارسال نہیں کرتے تو ان کی خبر پر ان کے غیر کی خبر کو برتری نہیں ہے، اس لئے کہ (شیعہ علماء کرام کے )گروہ نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ وہ محمد بن ابی عمیر ،صفوان بن یحیی اور احمد بن محمد بن ابی نصر وغیرہ ثقات کہ جو اس سے جانے جاتے ہیں کہ وہ فقط ان افراد سے ہی روایت اور ارسال کرتے ہیں کہ جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں۔
[العدة في الاصول الفقه تأليف لشيخ الطائفة: أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي رحمه الله 385 – 460 ه الجزء الاول تحقيق محمد رضا الانصاري ، الطبعة الاولى ذو الحجة 1417 ه. المطبعة ستاره – قم ،ج 1 ص 154]
https://ar.lib.eshia.ir/13035/1/154/%D9%84%D8%A7_%D9%8A%D8%B1%D8%B3%D9%84%D9%88%D9%86




ابن ابی عمیر علیہ الرحمہ ایک واسطہ سے آبان بن ابی عیاش سے کتاب سلیم کی روایات نقل کرتے تھے۔
ہمارے جلیل القدر شیخ، کلینی علیہ الرحمہ نے جناب محمد بن عمیر علیہ الرحمہ کے ذریعہ کتاب سلیم علیہ الرحمہ کی روایت کو نقل کیا ۔
علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني، عن أبان بن أبي عياش، عن سليم بن قيس، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن ابن أبي عمير، عن عمر بن أذينة، وعلي بن محمد، عن أحمد بن هلال، عن ابن أبي عمير، عن عمر بن أذينة، عن [أبان] بن أبي عياش، عن سليم بن قيس قال: سمعت عبد الله بن جعفر الطيار يقول: كنا عند معاوية، أنا والحسن والحسين وعبد الله بن عباس وعمر بن أم سلمة وأسامة بن زيد، فجرى بيني وبين معاوية كلام فقلت لمعاوية:
[الكافي،تأليف ثقة الاسلام أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق الكليني الرازي رحمه الله المتوفى سنة 328 / 329 ه ،الناشر دار الكتب الاسلامية مرتضى آخوندي تهران – بازار سلطاني ، الطبعة الثالثة (1388)، ج1 ص 529]




رئیس المحدثین صدوق علیہ الرحمہ نے بھی جناب ابن ابی عمیر کے واسطے سے جناب آبان بن ابی عیاش سے کتاب سلیم کی احادیث کو روایت کیا:
حدثنا أبي رضي الله عنه قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن محمدابن عيسى، عن محمد بن أبي عمير، عن عمر بن أذينة، عن أبان بن أبي عياش. عن سليم بن قيس الهلالي، وحدثنا محمد بن الحسن بن الوليد رضي الله عنه قال: حدثنا محمد بن الحسن الصفار، عن يعقوب بن يزيد، وإبراهيم بن هاشم جميعا، عن حماد بن – عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني، عن أبان بن أبي عياش، عن سليم بن قيس الهلالي .
[الخصال،للشيخ الجليل الأقدم الصدوق أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي المتوفى 381 ه ،صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري منشورات جماعة المدرسين في الحوزة العلمية قم المقدسة،18 ذي القعدة الحرام 1403 5 شهريور 1362، ص 477]



خود شیخ الطائفہ طوسی علیہ الرحمہ نے بھی جناب ابن ابی عمیر کے ذریعے کتاب سلیم کی روایات نقل کی ہے۔
بلکہ 609 ہجری میں لکھا گیا نسخہ جس کو شیخ الاسلام علامہ باقر مجلسی اور شیخ حر عاملی علیہما الرحمہ نے بحارالأنوار و وسائل الشیعہ میں نقل کیا ہے اور قرائن و شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نسخہ صاحب (المزار )ابن مشہدی علیہ الرحمہ کا ہے جس کی ایک سند کو شیخ الطائفہ طوسی علیہ الرحمہ نے ابن ابی عمیر کے ذریعے روایت کیا ہے، گویا ابن ابی عمیر علیہ الرحمہ نہ فقط ابان بن ابی عیاش علیہ الرحمہ سے با واسطہ روایت کرتے ہیں بلکہ کتاب سلیم علیہ الرحمہ کو بھی نشر کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ جمہور متقدمین کے نزدیک آبان بن ابی عیاش ثقہ تھے۔
محمد بن ابراهیم بن جعفر نُعمانی معروف بہ ابن ابیزینب متوفی تقریبا 360 ہجری۔
آپ شیخ کلینی و ابن بابویہ قمی کے معروف شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں آپ کے متعلق شیخ نجاشی فرماتے ہیں:
شيخ من أصحابنا، عظيم القدر، شريف المنزلة، صحيح العقيدة، كثير الحديث.
ہمارے اصحاب میں سے ایک استاد، بڑی قدر والے شریف مقام والے صحیح عقیدے والے بہت زیادہ احادیث کے راوی ہیں ۔
[الكتاب: رجال النجاشي المؤلف: الشيخ أبى العباس أحمد بن علي النجاشي التحقيق: الحجة السيد موسى الشبيري الزنجاني الناشر: مؤسسة النشر الاسلامي التابعة لجماعة المدرسين ب (قم
المشرفة) ص383]




آپ کی گراں قدر کتاب( الغیبہ) جو اس موضوع پر اولین مفصل ترین اصل شمار ہوتی ہے شیخ علیہ الرحمہ اس کتاب پر بہت اعتماد کرتے تھے ۔صاحب امر أرواحنا فداه کی امامت پر نص کے متعلق فرماتے ہیں:
وهذا طَرَف يسيرممّا جاءَ في النصوصِ على الثاني عشرمن الاُئمَّةِ : ، والرواياتُ في ذلك كثيرةٌ قد دَوَّنَها أصحابُ الحديثِ من هذهِ العصابةِ وأثبَتوها في كُتُبهم المصنَفةِ ، فممٌن أثْبَتَها على الشرحِ والتفصيلِ محمّد بن إِبراهيم المكَنَّى أبا عبد اللهِ النعماني في كتابِه الذي صَنَّفَه في الغيبةِ ، فلا حاجةَ بنا مع ما ذَكَرْناه إِلى إِثْباتها على التفصيلِ في هذا المكانِ
اور یہ کچھ نصوص ہیں جو بارویں امام کے متعلق ہیں اور اس باب میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں جن کی اصحاب حدیث نے اپنی کتابوں میں تدوین و تثبیت کی ہے اور ان کی ان (تصانیف )میں سے جس نے شرح و تفصیلات کے ساتھ ان کی مضبوطی کو بیان کیا وہ محمد بن ابراہیم جن کی کنیت ابو عبداللہ نعمانی ہے انہوں نے ان مطالب کو اپنی کتاب( الغیبہ) میں بیان کیا تو پس اس مقام پر تفصیل کی حاجت نہیں۔
[الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد
نويسنده: مفيد، محمد بن محمد ،تاريخ وفات مؤلف: 413 ق
محقق / مصحح: مؤسسة آل البيت عليهم السلام
موضوع: تاريخ ،زبان: عربى ،تعداد جلد: 2 ،ناشر: كنگره شيخ مفيد ،مكان چاپ: قم ،سال چاپ: 1413 ق
نوبت چاپ: اول ج 2 ص 350]
https://ar.lib.eshia.ir/27035/2/350




شیخ نعمانی اپنی گراں قدر کتاب میں کتاب سلیم بن قیس کے متعلق فرماتے ہیں:
و ليس بين جميع الشيعة ممن حمل العلم و رواه عن الأئمة ع خلاف في أن كتاب سليم بن قيس الهلالي أصل من أكبر كتب الأصول التي رواها أهل العلم من حملة حديث أهل البيت ع و أقدمها لأن جميع ما اشتمل عليه هذا الأصل إنما هو عن رسول الله ص و أمير المؤمنين ع و المقداد و سلمان الفارسي و أبي ذر و من جرى مجراهم ممن شهد رسول الله ص و أمير المؤمنين ع و سمع منهما و هو من الأصول التي ترجع الشيعة إليها و يعول عليها
شیعہ (علماء کرام ) جو اہل علم اور ائمہ علیہم السلام سے روایت کرنے والے ہیں ان کے درمیان اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب ایک اصل ہے ،قدیم ترین کتبِ اصول میں سے کہ جن کو اہل علم میں سے وہ افراد جو اہل بیت علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں ،کیونکہ جو کچھ اس اصل میں ہے در حقیقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و امیرالمومنین علیہ السلام و مقداد، سلمان فارسی، ابو ذر اور وہ کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و امیرالمومنین علیہ السلام (کی صحبت )کو پایا سے روایت کیا گیا ہے اور وہ ان اصول میں سے ہے کہ جن کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں ۔
[الغيبة للنعماني ،تأليف: النعماني، محمد بن إبراهيم
تاريخ وفات مؤلف: 360 ق
محقق / مصحح: غفارى، على اكبر ،موضوع: كلام ،زبان: عربى
تعداد جلد: 1 ،ناشر: نشر صدوق ،مكان چاپ: تهران
سال چاپ: 1397 ق ،نوبت چاپ: اول ، ص 101/102]
https://lib.eshia.ir/15220/1/102




اصل کے متعلق ابن شہر آشوب فرماتے ہیں:
وقال الشيخ المفيد أبو عبد الله محمد بن النعمان البغدادي رضي الله عنه وقدس روحه: صنف الامامية من عهد أمير المؤمنين علي عليه السلام إلى عهد أبي محمد الحسن العسكري صلوات الله عليه أربع ماية كتاب تسمى الأصول وهذا معنى قولهم: أصل.
شیخ مفید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں امامیہ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے دور سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور تک چارسو کتب کی تصنیف کی جن کو اصول کہا جاتا ہے یہی معنی ہے ان کے قول کا جس کو وہ( اصل) کہتے ہیں ۔
[معالم العلماء ص 39]
https://lib.eshia.ir/14035/1/40



نعمانی علیہ الرحمہ کی گواہی کے بعد بھی کیا کسی دلیل کی حاجت باقی ہے؟
رئیس المحدثین شیخنا صدوق علیہ الرحمہ کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس کی قدر و منزلت:
شيخ صدوق علیہ الرحمہ کہ جن کی عظمت و جلالت محتاج بیان نہیں عام و خاص سب آپ کے علم و فضل کے معترف ہیں ۔
آپ علیہ الرحمہ کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس علیہ الرحمہ نہایت معتبر کتب میں شمار ہوتی تھی چنانچہ اپنی گراں قدر کتاب من لا یحضره الفقیہ میں سلیم علیہ الرحمہ سے امیرالمومنین علیہ السلام کی امام حسن مجتبی علیہ السلام کی امامت پر نص کے متعلق وصیت روایت کی ہے:
5433 وروى عن سليم بن قيس الهلالي قال: ” شهدت وصية علي بن أبي طالب (عليه السلام) حين أوصى إلى ابنه الحسن وأشهد على وصيته الحسين ومحمدا وجميع ولده ورؤساء أهل بيته وشيعته (عليهم السلام)، ثم دفع إليه الكتاب والسلاح، ثم قال (عليه السلام): يا بنى أمرني رسول الله (صلى الله عليه وآله) أن أوصى إليك
[كتاب:من لا يحضره الفقيه ،للشيخ الجليل الأقدم الصدوق أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي المتوفى سنة 381 صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري الجزء الرابع الطبعة الثانية: 1404 – ق / 1363 ش منشورات جماعة المدرسين في الحوزة العلمية في قم المقدسة ،ج4 ص189]




اس مبارک وصیت کو ثقة الاسلام شیخ کلینی علیہ الرحمہ نے بھی علی بن ابراہیم، انہوں نے اپنے والد، انہوں نے حماد بن عیسی ،انہوں نے ابراہیم بن عمر یمانی و عمر بن اذینہ، انہوں نے آبان اور انہوں نے سلیم رحمت اللہ علیہم اجمعین سے روایت کیا:
علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني وعمر بن أذينة، عن أبان، عن سليم بن قيس قال: شهدت وصية أمير المؤمنين عليه السلام حين أوصى إلى ابنه الحسن عليه السلام وأشهد على وصيته الحسين عليه السلام ومحمدا وجميع ولده ورؤساء شيعته وأهل بيته، ثم دفع إليه الكتاب والسلاح وقال لابنه الحسن عليه السلام:
[الكافي , تأليف : ثقة الاسلام أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق الكليني الرازي رحمه الله ،المتوفى سنة 328 / 329 ه ،مع تعليقات نافعة مأخوذة من عدة شروح صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري نهض بمشروعه الشيخ محمد الآخوندي ،الناشر: دار الكتب الاسلامية مرتضى آخوندي تهران – بازار سلطاني الطبعة الثالثة (1388),ج1 ص297]





اپنی کتاب من لا یحضره الفقیہ کے متعلق شیخ صدوق فرماتے ہیں:
ولم أقصد فيه قصد المصنفين في إيراد جميع ما رووه، بل قصدت إلى إيراد ما أفتي به وأحكم بصحته وأعتقد فيه أنه حجة فيما بيني وبين ربي – تقدس ذكره وتعالت قدرته – وجميع ما فيه مستخرج من كتب مشهورة، عليها المعول وإليها المرجع، مثل كتاب حريز بن عبد الله السجستاني وكتاب عبيد الله بن علي الحلبي وكتب علي بن مهزيارالأهوازي ، وكتب الحسين بن سعيد ، ونوادر أحمد بن محمد بن عيسى وكتاب نوادر الحكمة تصنيف محمد بن أحمد بن يحيى بن عمران الأشعري وكتاب الرحمة لسعد بن عبد الله وجامع شيخنا محمد بن الحسن بن الوليد رضي الله عنه ونوادر محمد بن أبي عمير وكتب المحاسن لأحمد بن أبي عبد الله البرقي ورسالة أبي – رضي الله عنه – إلي وغيرها من الأصول والمصنفات التي طرقي إليها معروفة في فهرس الكتب التي رويتها عن مشايخي وأسلافي رضي الله عنهم.
شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ، (اس کتاب میں )میرا مقصد ویسا نہیں ہے جیسا مصنفین کا ہوتا ہے کہ وہ (اپنی تصانیف میں )وہ سب جمع کر دیتے ہیں جو کچھ وہ روایت کرتے ہیں، بلکہ میرا مقصد تو یہ ہے کہ ان کو روایت کروں جن پر میں فتوی دیتا ہوں، جن کی صحت پر حکم کرتا ہوں، جن کے متعلق میرا یہ اعتقاد ہے کہ وہ میرے اور میرے رب کے درمیان حجت ہیں ،جو کچھ اس میں جمع ہے وہ در حقیقت مشہور کتابوں سے نقل کی گئی ہیں کہ جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جیسے کہ کتاب حريز بن عبداللہ سجستانی ۔۔۔۔۔وغیرہ اصول و تصانیف کہ جن تک میرے سلسلے معروف ہیں فہرست کتب میں جن کو میں نے اپنے مشائخ و اسلاف رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے ۔
[كتاب: من لا يحضره الفقيه، للشيخ الجليل الأقدم الصدوق أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي ،المتوفى سنه 381 صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري،منشورات جماعة المدرسين في الحوزة العلمية في قم المقدسة، الطبعة الثانية ، ج1 ص 2/4]






مذکورہ حدیث کتاب سلیم کی حدیث ہے جیسا کہ طوسی علیہ الرحمہ نے الغیبہ میں تصریح کی ہے:
هذه وصية أمير المؤمنين عليه السلام إلى الحسن عليه السلام وهي نسخة كتاب سليم بن قيس الهلالي رفعها إلى أبان وقرأها عليه.
اور یہ امیرالمومنین علیہ السلام کی وصیت جو امام حسن علیہ السلام کے متعلق فرمائی یہ نسخہ ہے کتاب سلیم بن قیس ہلالی کا جو آبان تک پہنچا اور ان پر پڑھا گیا ۔
[كتاب : الغيبة ،تأليف شيخ الطائفة أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي 385 – 460 ه ،تحقيق : الشيخ عباد الله الطهراني الشيخ على احمد ناصح،الناشر: مؤسسة المعارف الاسلامية، قم المقدسة،الطبعة : الأولى.تاريخ الطبع: شعبان 1411 ه. ق،المطبعة: بهمن ، ج1 ص 218]




شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس معتبر کتب میں شمار ہوتی تھی جس کی مرویات پر اعتماد کرتے ہوئے آپ حرام و حلال کے متعلق فتوی دیتے تھے ،چنانچہ اپنی مشہور تصنیف( المقنعہ) جو در حقیقت شیخ علیہ الرحمہ کا رسالہ عملیہ تھا، جس کے متعلق شیخ علیہ الرحمہ نے کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ یہ کتاب مختصر جو احکام کے متعلق ہے درحقیقت اس میں ملت کے فرائض ،اسلام کی شریعت ہیں کہ دین کے معاملے میں جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جو مستبصر کے لئے معرفت و یقین کا سبب ہیں اور ہدایت یافتہ افراد کے لئے امام ہے اور طلب کرنے والوں کے لئے راہنمائی ہے اور عبادت گزاروں کے لئے امین ہے ۔۔۔۔۔
فإني ممتثل ما رسمه السيد الأمير الجليل، أطال الله في عز الدين والدنيا مدته، وأدام بالتأييد نصره وقدرته، وحرس من الغير أيامه ودولته: من جمع مختصر في الأحكام، وفرائض الملة، وشرائع الإسلام، ليعتمده المرتاد لدينه، ويزداد به المستبصر في معرفته ويقينه، ويكون إماما للمسترشدين، ودليلا للطالبين، وأمينا للمتعبدين، يفزع إليه في الدين، ويقضي به على المختلفين، وأن أفتتحه بما يجب على كافة المكلفين
[المقنعة، تأليف: فخر الشيعة أبي عبد الله محمد بن محمد بن النعمان العكبري البغدادي الملقب بالشيخ المفيد رحمه الله المتوفى 413 ه. ق مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة ، التاريخ 1410 ه ، 27/28]





اس میں خمس کے متعلق آبان بن ابی عیاش کے ذریعے سلیم کی حدیث سے احتجاج کیا ہے:
روى أبان بن أبي عياش عن سليم بن قيس الهلالي قال: سمعت أمير المؤمنين عليه السلام يقول: نحن والله الذين عنى الله تعالى بذي القربى الذين قرنهم بنفسه ونبيه صلى الله عليه وآله فقال: ” ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل ” منا خاصة،
[المقنعة ، المؤلف: فخر الشيعة (الشيخ المفيد)، تحقيق و نشر: مؤسسة النشر الإسلامي ، الطبعة: الثانية،التاريخ 1410 ه. ق مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة [35] باب تمييز أهل الخمس ومستحقيه ص 277]




کتاب المقنعہ شیخ علیہ الرحمہ سے ثابت ہے آپ کے شاگردوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔کتاب تک متصل اسناد ہیں نیز قدیم نسخے بھی موجود ہیں بر خلاف (تصحيح اعتقادات الإمامية) کہ جس میں ان مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جاتی قلت وقت کے سبب فقط ان چند دلائل پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
(۱) کتاب سلیم بن قیس:
کتاب سلیم میں صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا پر امت کے ہاتھوں ہونے والے مصائب کو تفصیل سے بیان کیا گیا جن کو اس مختصر تحریر میں جمع نہیں کیا جا سکتا لہٰذا احباب سے گزارش ہے تفصیل کے لئے کتاب سلیم کی طرف رجوع فرمائیں ہم اپنے مدعی کے ثبوت کے لئے فقط چند فقروں کو قارئین کی نظر کریں گے جن میں آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ذکر ہے ۔
لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ بذِي قَارٍ ،فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَحِيفَةً وَقَالَ لِي: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ،هَذِهِ صَحِيفَةٌ أَمْلاَهَا عَلَيَّ رَسُولُ اَللَّهِ صلی اللہ عليه وآله وسلم وَخَطِّي [بِيَدِي]..فَكَانَ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَيَّ: كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ وَ كَيْفَ تُسْتَشْهَدُ فَاطِمَةُ
ابن عباس کا بیان ہے کہ میں امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس ذی قار آیا تو آپ نے میرے لئے ایک صحیفہ نکالا اور مجھ سے فرمایا ائے ابن عباس یہ وہ صحیفہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے املاء کرایا اس کو میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا آپ علیہ السلام نے مجھے وہ پڑھ کر سنایا اس میں تھا کہ کس طرح فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت واقعہ ہوگی۔
[کتاب سلیم بن قیس ، تحقيق: محمد باقر الانصاري الزنجاني
نشر الهادي ، قم ، ايران،مطبعة الهادي،الطبعة الاولي، 1420 ،هـ ق – 1378 هـ ش،ايران ، قم ، ميدان الهادي ،ج 1 ص 435]
https://lib.eshia.ir/70632/1/435/%D9%84%D9%82%D8%AF




وقد كان قنفذ لعنه الله ضرب فاطمة عليها السلام بالسوط – حين حالت بينه وبين زوجها وأرسل إليه عمر: (إن حالت بينك وبينه فاطمة فاضربها) – فألجأها قنفذ لعنه الله إلى عضادة باب بيتها ودفعها فكسر ضلعها من جنبهافألقت جنينا من بطنها. فلم تزل صاحبة فراش حتى ماتت صلى الله عليها من ذلك شهيدة.
سلمان فارسی نے فرمایا کہ قنفذ لعنۃ اللہ علیہ نے تازیانہ سے فاطمہ سلام اللہ علیہا پر وار کیا جبکہ آپ اپنے شوہر اور اس کے درمیان میں رکاوٹ بنیں اور اس کو عمر نے بھیجا تھا (اس حکم کے ساتھ )کہ اگر وہ تیرے اور اپنے شوہر کے درمیان رکاوٹ بنے تو ان کو کوڑے سے مارنا پس اس نے آپ سلام اللہ علیہا کو دروازہ کے پیچھےدھکا دیکر اس پر فشار دیا جس کے سبب آپ سلام اللہ علیہا کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور بطن میں جو بچہ تھا شہادت پا گیا۔
ان مصائب کے سبب صاحب فراش ہو گئیں یہاں تک کے شہادت پائیں۔
[کتاب سُلیم بن قیس ، تحقيق: محمد باقر الانصاري الزنجاني
نشر الهادي ، قم ، ايران،مطبعة الهادي،الطبعة الاولي، 1420 ،هـ ق – 1378 هـ ش،ايران ، قم ، ميدان الهادي ،ج 1 ص 153]
https://lib.eshia.ir/70632/1/153#_11111




(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کا سیدہ کائنات کے رخسار پر طمانچہ لگنے کی خبر دینا:
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے امیرالمومنین علیہ السلام سے با سند صحیح روایت کی:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ اَلْوَلِيدِ رَحِمَهُ اَللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى اَلْعَطَّارُ جَمِيعاً عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى بْنِ عِمْرَانَ اَلْأَشْعَرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ اَلرَّازِيُّ عَنِ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اَلرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَ فَاطِمَةُ وَ اَلْحَسَنُ وَ اَلْحُسَيْنُ عِنْدَ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِذِ اِلْتَفَتَ إِلَيْنَا فَبَكَى فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ فَقَالَ أَبْكِي مِمَّا يُصْنَعُ بِكُمْ بَعْدِي فَقُلْتُ وَ مَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ قَالَ أَبْكِي مِنْ ضَرْبَتِكَ عَلَى اَلْقَرْنِ وَ لَطْمِ فَاطِمَةَ خَدَّهَا
امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ،فاطمہ، حسن و حسین (علیہم السلام ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تشریف فرما تھے پس جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو رونے لگے میں نے سوال کیا ائے رسول اللہ آپ کے رونے کا کیا سبب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں اس کے سبب رو رہا ہوں جو میرے بعد آپ کے ساتھ کیا جائےگا ائے علی آپ کے سر پر ضربت لگے گی اور فاطمہ کے رخسار پہ طمانچہ لگے گا۔
[الأمالي، تأليف: الشيخ الصدوق تحقيق: قسم الدراسات الاسلامية – مؤسسة البعثة – قم الطبعة: الأولى 1417 ه. ق الكمية: 1000 نسخة التوزيع: مؤسسة البعثة طهران – شارع سمية – بين شارعي الشهيد مفتح وفرصت ، ج1 ص 197]




حدیث شیخ طوسی و نجاشی علیہما الرحمہ کی شرط پر صحیح ہے، سند کے پہلے راوی شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے استاد محمد بن حسن احمد بن ولید ابو جعفر قمی ہیں ان کے متعلق شیخ طوسی فرماتے ہیں:
محمد بن الحسن بن الوليد القمي، جليل القدر، عارف بالرجال، موثوق به
بڑی قدر و منزلت والے، علم رجال کے ماہر اور علمِ رجال میں قابل اعتماد تھے۔
[الفهرست،تأليف شيخ الطائفة الأمام أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي 385 – 460 ه، تحقيق مؤسسة نشر الفقاهة،نشر مؤسسة (نشر الفقاهة) المطبعة، مؤسسة النشر الاسلامي الطبعة الأولى ليتوغرافي حميد ،التاريخ: شعبان المعظم 1417 مؤسسة نشر الفقاهة، ص 237]
https://lib.eshia.ir/14010/1/237




اور شیخ نجاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد أبو جعفر شيخ القميين، وفقيههم، ومتقدمهم، ووجههم. ويقال: إنه نزيل قم، وما كان أصله منها. ثقة ثقة، عين، مسكون إليه.
آپ قمیوں کے استاد، ان کے فقیہ ان کے سردار اور ان کے درمیان بڑی عزت والے تھے، کہا گیا ہے وہ قم میں سکونت پذیر ہوئے تھے اصل میں قم کے رہنے والے نہیں تھے بہت زیادہ قابل اعتماد ۔۔ تھے
[رجال النجاشي، الشيخ الجليل أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس النجاشي الأسدي الكوفي 372 – 450 مؤسسة النشر الاسلامي (التابعة) لجماعة المدرسين بقم المشرفة (إيران) ، ص 383]




سند کے دوسرے راوی ،احمد بن ادريس قمی و محمد بن یحیی عطار قمی ہیں ۔
احمد بن ادريس بن احمد ابو علی اشعری قمی کے متعلق شیخ طوسی فرماتے ہیں:
احمد بن ادريس، ابوعلى الاشعرى القمى، كان ثقة في اصحابنا، فقيها، كثير الحديث صحيحه.
ہمارے اصحاب کے درمیان میں ثقہ تھے فقیہ تھے بہت ساری صحیح حدیث والے تھے۔
[الفهرست،المؤلف:الشيخ الطوسي،الوفاة: ٤٦٠، تحقيق: الشيخ جواد القيومي،الطبعة: الأولى،سنة الطبع: شعبان المعظم ١٤١٧، مؤسسة نشر الفقاهة، ص 71]
http://lib.eshia.ir/14010/1/71




نجاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
أحمد بن إدريس بن أحمد أبو علي الأشعري القمي كان ثقة، فقيها، في أصحابنا، كثير الحديث، صحيح الرواية، له كتاب نوادر أخبرني عدة من أصحابنا إجازة عن أحمد بن جعفر بن سفيان عنه.ومات أحمد بن إدريس بالقرعاء سنة ست وثلاثمائة من طريق مكة على طريقالكوفة.
ثقہ تھے، ہمارے اصحاب کے درمیان فقیہ تھے بہت زیادہ احادیث والے اور صحیح روایت والے تھے ۔۔۔۔۔306 ہجری میں وفات پائی۔
[رجال النجاشي، المؤلف: الشيخ أبى العباس أحمد بن علي النجاشي(372 – 450)، التحقيق: الحجة السيد موسى الشبيري الزنجاني ،الناشر: مؤسسة النشر الاسلامي التابعة لجماعة المدرسين ب (قم المشرفة)، ص 92]




دونوں کے نزدیک احمد علیہ الرحمہ صحیح احادیث و روایات والے تھے یعنی آپ سے لیکر معصوم علیہ السلام تک سند قابل اعتماد ہوتی ہے ، لہٰذا سند کی تحقیق فقط احمد بن ادريس علیہ الرحمہ تک ہوگی اگر آپ تک سند قابل اعتماد ہے تو حدیث صحیح ہے،
پس حدیث متقدمین کے اصول پر صحیح قرار پائی۔
(۳)جبرائیل علیہ السلام کا امیرالمومنین، سیدہ کائنات و حسنین علیہم السلام کی شہادت کی خبر دینا:
ابن قولویہ علیہ الرحمہ نے امیرالمومنین علیہ السلام سے با سند صحیح روایت کی:
حدّثني محمّد بن الحسن بن أحمدَ بن الوليد قال : حدَّثني محمّد بن أبي القاسم ماجيلويه ، عن محمّد بن عليٍّ القرشيّ ، عن عبيد بن يحيى الثَّوريِّ ، عن محمّد بن الحسين بن عليِّ بن الحسين ، عن أبيه ، عن جدّه ، عن عليّ بن أبي طالب عليهمالسلام « قال : زارنا رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم ذات يوم فقدّمنا إليه طعاماً وأهدت إلينا اُمُّ أيمن صَحْفَة من تمر وقَعْباً من لَبَن وزَبَد ، فقدّمنا إليه فأكل منه ، فلمّا فرغ قمتُ و سكبتُ على يدَي رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم ماءً ، فلمّا غسل يديه مسح وجهه ولحيته ببلّة يديه ، ثمّ قام إلى مسجد في جانب البيت وصلّى وخرَّ ساجداً فبكى وأطال البكاء ، ثمَّ رفع راسه ، فما اجترء منّا أهل البيت أحدٌ يسأله عن شيءٍ ، فقام الحسين يدرج حتّى صعد على فَخذي رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم فأخذ برأسه إلى صدره ، وضع ذقنه على رأس رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم ، ثمّ قال : يا أبة ما يُبكيكَ؟ فقال : يابني إنّي نظرت إليكم اليوم فسررت بكم سروراً لم أسرّ بكم قبله مثله ، فهبط إليَّ جبرئيل فأخبرني أنّكم قتلى ؛ وأنَّ مصارعكم شتّى.
امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سے ملاقات کے لئے تشریف لائے ہم نے آپ کی خدمت میں غذا پیش کی ام ایمن ہمارے لئے بڑی طشت میں خرما اور بڑے پیالے میں دودھ اور مکھن لائیں تھی، آپ نے اس میں سے کھایا پھر آپ جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو میں اٹھا آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا آپ نے ہاتھ دھونے کے بعد بچے ہوئے پانی سے اپنے چہرے اور داڑھی پر ملا پھر گھر کے گوشہ میں نماز پڑھنے کے مقام پر تشریف لائے نماز پڑھی پھر سجدے میں گئے اور گریہ کرنے لگے دیر تک روئے اس کے بعد سجدہ سے سر اٹھایا ۔
مگر ہم اہل خانہ میں سے کسی کی بھی سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔
پس حسین علیہ السلام اٹھے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ران پر چڑھ گئے آپ کے سر مبارک کو پکڑ کر سینے تک پہنچے اپنی ٹھنڈی(ٹھوڑی) آپ کے سر مبارک پر رکھی پھر فرمایا بابا جان آپ کے رونے کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرے بیٹے میں نے آج تم سب کو دیکھا تم کو دیکھ کر جتنا خوشحال ہوا اس کی مانند کبھی خوشحال نہیں ہوا تھا، پس جبرائیل تشریف لائے اور مجھے خبر دی کہ آپ سب قتل کئے جاؤ گے اور آپ سب کی قتل گاہیں جدا جدا ہوں گی ۔
[كامل الزيارات،تألیف،ابي القاسم جعفر بن محمد بن بن جعفر بن موسى بن قولويه القمي،ط: مكتبة الصدوق، ص56/57]
https://lib.eshia.ir/27044/1/57




حدیث ابن قولویہ علیہ الرحمہ کی شرط پر صحیح ہے۔
أخرجته وجمعته عن الأئمة صلوات الله عليهم أجمعين من أحاديثهم، ولم اخرج فيه حديثا روي عن غيرهم إذا كان فيما روينا عنهم من حديثهم صلوات الله عليهم كفاية عن حديث غيرهم، وقد علمنا انا لا نحيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى ولا في غيره، لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم الله برحمته، ولا أخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال، يؤثر ذلك عنهم عن المذكورين غير المعروفين بالرواية المشهورين بالحديث والعلم.
میں نے (اس کتاب میں ) ائمہ صلوات اللہ علیہم اجمعین کی احادیث کی تخریج کی ہے اور جمع کیا ہے اور ان کے سوا کسی غیر کی حدیث کو روایت نہیں کیا ،جو کچھ ہم ان صلوات اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں ہمیں دوسروں کی حدیثوں سے مستغنی کر دیتی ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ ہم ان احادیث کا احاطہ نہیں کر سکتے جو آپ علیہم السلام سے اس موضوع کے متعلق بیان ہوئی ہیں، البتہ (ہم ان کو روایت کریں گے ) جو ہم تک ہمارے ثقات اصحاب اللہ ان پر اپنی رحمت سے رحم فرمائے کے ذریعے پہنچی ہیں، میں نے (اس کتاب )میں کوئی حدیث شاذ راویوں میں سے (کسی سے) نہیں لی بلکہ ان سے روایت لیں جو احادیث و علم میں مشہور و معروف ہیں۔
[كامل الزيارات،تأليف : الشيخ الأقدم أبي القاسم جعفر بن محمد بن قولويه القمي المتوفي 368 ه.، ق تحقيق نشر الفقاهة، ص 37]



(۴) اللہ سبحانہ و تعالٰی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو صدیقہ طاہرہ پر ہونے والے مظالم سے مطلع فرمانا :
ابن قولویہ علیہ الرحمہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے:
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَمَّادٍ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ص إِلَى السَّمَاءِ قِيلَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَخْتَبِرُكَ فِي ثَلَاثٍ لِيَنْظُرَ كَيْفَ صَبْرُكَ قَالَ أُسَلِّمُ لِأَمْرِكَ يَا رَبِّ وَ لَا قُوَّةَ لِي عَلَى الصَّبْرِ إِلَّا بِكَ فَمَا هُنَّ۔۔۔۔۔وَ أَمَّا الثَّالِثَةُ فَمَا يَلْقَى أَهْلُ بَيْتِكَ مِنْ بَعْدِكَ مِنَ الْقَتْلِ
۔۔۔ وَ أَمَّا ابْنَتُكَ فَتُظْلَمُ وَ تُحْرَمُ وَيُؤْخَذُ حَقُّهَا غَصْباً الَّذِي تَجْعَلُهُ لَهَا وَ تُضْرَبُ وَ هِيَ حَامِلٌ وَ يُدْخَلُ عَلَيْهَا وَ عَلَى حَرِيمِهَا وَ مَنْزِلِهَابِغَيْرِ إِذْنٍ ثُمَّ يَمَسُّهَا هَوَانٌ وَ ذُلٌّ ثُمَّ لَا تَجِدُ مَانِعاً وَ تَطْرَحُ مَا فِي بَطْنِهَا مِنَ الضَّرْبِ وَ تَمُوتُ مِنْ ذَلِكَ الضَّرْبِ .
صادق آل محمد علیہ سلام نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (شب معراج ) آسمان پر لائے گئے تو آپ سے کہا گیا کہ بے شک اللہ تبارک و تعالٰی تین چیزوں کے ذریعے آپ کی آزمائش کرے گا تاکہ دیکھے کہ آپ کیسے صبر کرتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں تیرے حکم کے سامنے تسلیم ہوں میرے پالنے والے اور مجھ میں صبر کی قوت نہیں مگر تیری (مدد سے)وہ آزمائش کیا ہیں ۔۔۔۔اور تیسری یہ کہ آپ کے بعد آپ کے اہل بیت قتل ہوں گے ۔۔۔۔اور آپ کی بیٹی فاطمہ ان پر ظلم کیا جائے گا ,ان کو ان کے حق سے محروم کیا جائے گا, ان کے اس حق کو غصب کر لیا جائے گا جس کو آپ نے ان کو عطاء کیا ہوگا، ان کو مارا جائے گا جبکہ وہ حاملہ ہوں گی ان کے گھر میں بے حرمتی کرتے ہوئے لوگ بغیر اجازت کے داخل ہو جائینگے ،پس وہ ذلیل ان کو رنجیدہ کریں گے وہ کسی کو بچانے والا و مددگار نہیں پائیں گی مار کے سبب ان کا حمل ساقط ہو جائے گا جس کے سبب ان کی وفات ہو گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا إِنّٰا لِلّٰهِ وَ إِنّٰا إِلَيْهِ رٰاجِعُون میں نے قبول کیا اور تسلیم ہوا۔
[كامل الزيارات ، تأليف:ابن قولويه، جعفر بن محمد،تاريخ وفات مؤلف: 367 ق ،محقق / مصحح: امينى، عبد الحسين،ناشر: دار المرتضوية،مكان چاپ: نجف اشرف،سال چاپ: 1356 ش،نوبت چاپ: اول،ص 332]
http://lib.eshia.ir/86827/1/332




سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن الاصم ہیں جن پر جرح ہوئی ہے نجاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
عبد الله بن عبد الرحمن الأصم المسمعي بصري، ضعيف غال ليس بشئ. روى عن مسمع كردين وغيره.له كتاب المزار، سمعت ممن رآه فقال لي: هو تخليط.
ضعیف غالی ہیں کچھ بھی نہیں ہیں مسمع کردین وغیرہ سے روایت کرتے ہیں ان کی کتاب المزار ہے ،میں نے اس سے سنا جس نے اس (کتاب )کو دیکھا کہ وہ خلط ملط ہے ۔
[رجال النجاشی، تألیف:أبي العبّاس أحمد بن علي النجاشي،المحقق:السيّد موسى ،الشبيري الزنجاني،الناشر:مؤسسة النشر الإسلامي ،ج۱، ص 217]
http://lib.eshia.ir/14028/1/217




جواب :
نجاشی علیہ الرحمہ نے عبداللہ بن عبدالرحمن الاصم کو غالی ہونے کے سبب ضعیف کہا نیز ان کی کتاب المزار کے متعلق بھی اپنی رائے پیش نہیں کی بلکہ کسی دیکھنے والے مجہول کا قول نقل کیا اور اہل قم جو غلو کے متعلق نہایت ہی شدید موقف رکھتے تھے صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
وكان شيخنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله يقول: أول درجة في الغلو نفي السهو عن النبي صلى الله عليه وآله.
ہمارے شیخ محمد بن حسن بن احمد بن ولید رحمۃ اللہ فرماتے کہ غلو کا پہلا درجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سہو کی نفی کی جائے ۔
[من لا يحضره الفقيه ، للشيخ الجليل الأقدم الصدوق أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي المتوفى ، سنه 381 صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري ، منشورات : جماعة المدرسين في الحوزة العلمية في قم المقدسة ، ج 1 ص 360]




ان اہل قم نے عبداللہ بن عبدالرحمن الاصم کی توثیق کی ہے، چنانچہ ابن قولویہ علیہ الرحمہ نے مذکورہ حدیث اصم کی سند سے ہی نقل کی:
صدوق علیہ الرحمہ نے بھی ان پر اعتماد کیا اور ان کی نقل کردہ احادیث پر فتاوی دئیے، فرماتے ہیں:
و ما كان فيه عن أبي بكر الحضرميّ، و كليب الأسديّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن محمّد بن الحسين بن أبي الخطّاب، عن عبد اللّه بن عبد الرّحمن الأصم، عن أبي بكر عبد اللّه بن محمّد الحضرميّ؛ و كليب الأسديّ.
اور جو کچھ ہم نے اس (کتاب )میں ابوبکر حضرمی و کلیب اسدی سے روایت کیا ہے تو وہ میرے والد رضی اللہ عنہ انہوں نے سعد بن عبداللہ سے انہوں نے محمد بن حسن بن ابی الخطاب انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن الاصم سے انہوں نے ابوبکر عبداللہ بن محمد حضرمی و کلیب اسدی سے روایت کی ۔
[من لا يحضره الفقيه،تأليف:ابن بابويه، محمد بن على،تاريخ وفات مؤلف: 381 ق،محقق / مصحح: غفارى، على اكبر،ناشر: دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم،مكان چاپ: قم،سال چاپ: 1413 ق، ج 4 ص 456]




(۵) فرمان امام کاظم علیہ السلام صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا شہیدہ ہیں :
ثقہ الاسلام کلینی علیہ الرحمہ نے امام کاظم علیہ السلام سے با سند صحیح روایت کی:
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الْعَمْرَكِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَخِيهِ أَبِي الْحَسَنِ (عليه السلام ) قَالَ:إِنَّ فَاطِمَةَ صِدِّيقَةٌ شَهِيدَةٌ .
امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا بے شک فاطمہ (سلام اللہ علیہا )بہت زیادہ سچی شہیدہ ہیں ۔
[الكافي ، تأليف:الشيخ الكليني،تاريخ وفاة المؤلف: 329 ق،المحقق / المصحح: غفاري على اكبر و آخوندي، محمد ،الناشر: دار الكتب الإسلامية،مكان النشر: تهران،سنة الطباعة: 1407 ق،ج 1 ص 458]




(۶) فرمان امام رضا علیہ السلام ہم سب قتل کے ذریعے شہادت پاتے ہیں:
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے با سند صحیح ابوصلت ہروی علیہ الرحمہ سے روایت کی:
حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل (رحمه الله)، قال: حدثنا علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن أبي الصلت عبد السلام بن صالح الهروي، قال: سمعت الرضا (عليه السلام) يقول: والله ما منا إلا مقتول شهيد.
میں نے امام رضا علیہ السلام سے سنا آپ فرماتے ہیں ہم میں سے کوئی نہیں ہے مگر قتل ہونے والا شہید ۔
[الأمالي ،تأليف: الشيخ الصدوق ،تحقيق: قسم الدراسات الاسلامية – مؤسسة البعثة – قم الطبعة: الأولى 1417 ه. ق،نسخة التوزيع: مؤسسة البعثة طهران – شارع سمية – بين شارعي الشهيد، ص 120]




(۷) فرمان صادق آل محمد علیہ السلام :قاتل صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا فرعون و نمرود وغیرہ کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہے :
ابن قولویہ علیہ الرحمہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:
– وَ بِهَذَا الْإِسْنَاد(حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ)ِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصَمِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ الْأَرَّجَانِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع فِي طَرِيقِ مَكَّةَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ عُسْفَانُ۔۔۔۔۔نَحْوُ نُمْرُودَ الَّذِي قَالَ قَهَرْتُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَ قَتَلْتُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَ قَاتِلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع وَ قَاتِلِ فَاطِمَةَ وَ مُحَسِّنٍ وَ قَاتِلِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ (عليهم السلام).
نمرود جس نے کہا تھا کہ میں نے زمین والوں پر غلبہ پا لیا اور اسے قتل کر دیا جو آسمانوں میں ہے اور قاتل امیرالمومنین، قاتل فاطمہ، قاتل محسن اور قاتل حسن و حسین علیہم السلام (سب عذاب میں ہیں)۔
[كامل الزيارات ،تألیف:ابي القاسم جعفر بن محمد بن بن جعفر بن موسى بن قولويه القمي ,الناشر:مكتبة الصدوق، ص 342]
https://lib.eshia.ir/27044/1/342





)۸ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدیقہ الکبری سلام اللہ علیہا پر ظلم کرنے والوں، ان کا حق غصب کرنے والوں اور ان کے قاتلوں پر لعنت کی:
کراجکی علیہ الرحمہ نے با سند صحیح امام صادق علیہ السلام سے حدیث روایت کی:
حَدَّثَنَا اَلشَّيْخُ اَلْفَقِيهُ أَبُو اَلْحَسَنِ بْنُ شَاذَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا اِبْنُ اَلْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ قَال حَدَّثَنَا اَلصَّفَّارُ مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ قَال سَمِعْتُ اَلصَّادِقَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ:..يا يونُسُ قَالَ جَدِّي رَسُولُ اَللَّهِ :«مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ يَظْلِمُ بَعْدِي فَاطِمَةَ اِبْنَتِي وَ يَغْصِبُهَا حَقَّهَا وَ يَقْتُلُهَا
ائے یونس میرے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ملعون ہے ملعون ہے ملعون ہے وہ جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہ پر ظلم کرے اس کے حق کو غصب کرے اور اس کو قتل کرے۔
سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور محمد بن زیاد سے مراد محمد بن ابی عمیر علیہ الرحمہ ہیں ۔
[کنز الفوائد ج 1 ص 63]
https://lib.eshia.ir/15229/1/63





(۹) امام رضا علیہ السلام کا جناب محسن علیہ السلام کے قاتلوں پر لعنت کرنا:
ابن طاووس علیہ الرحمہ نے با سند صحیح امام رضا علیہ السلام سے روایت کیا:
رَوَيْنَاهُ بِإِسْنَادِنَا إِلَى سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِ فَضْلِ الدُّعَاءِ وَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَزِيعٍ عَنِ الرِّضَا وَ بُكَيْرُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ الرِّضَا قَالا دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَ هُوَ سَاجِدٌ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ فَأَطَالَ فِي سُجُودِهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقُلْنَا لَهُ أَطَلْتَ السُّجُودَ فَقَالَ مَنْ دَعَا فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ بِهَذَا الدُّعَاءِ كَانَ كَالرَّامِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ص يَوْمَ بَدْرٍ قَالا قُلْنَا فَنَكْتُبُهُ قَالَ اكْتُبَا إِذَا أَنْتُمَا سَجَدْتُمَا سَجْدَةَ الشُّكْرِ فتقولا [فَقُولَا اللَّهُمَّ الْعَنِ اللَّذَيْنِ بَدَّلَا دِينَكَ وَ غَيَّرَا نِعْمَتَكَ وَ اتَّهَمَا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ خَالَفَا مِلَّتَكَ وَ صَدَّا عَنْ سَبِيلِكَ وَ كَفَرَا آلَاءَكَ وَ رَدَّا عَلَيْكَ كَلَامَكَ وَ اسْتَهْزَءَا بِرَسُولِكَ وَ قَتَلَا ابْنَ نَبِيِّكَ
ہم نے ہماری اسناد سے سعد بن عبداللہ سے ان کی کتاب (فضل الدعاء ) سے روایت کی ابو جعفر نے کہا محمد بن اسماعیل بن بزيع سے انہوں نے امام رضا علیہ السلام سے اور بکیر بن صالح نے سلیمان بن جعفر سے انہوں نے امام رضا علیہ السلام سے دونوں نے کہا کہ ہم امام رضا علیہ السلام کے پاس آئے اس وقت آپ سجدہ شکر ادا فرما رہے تھے، آپ نے سجدے کو طولانی کیا پھر جب آپ نے سر بلند کیا تو ہم نے کہا آپ نے سجدے کو بڑا طول دیا آپ نے فرمایا جو سجدہ شکر میں اس دعا کو پڑھے تو وہ ایسا ہے گویا اس نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے تیر چلائے۔ ہم نے عرض کیا ہمیں اس دعا کو لکھنا ہے آپ نے فرمایا لکھو جب سجدہ شکر کرو تو کہو کہ ائے اللہ ان دونوں پر لعنت کر جنہوں نے تیرے دین کو بدلا و تیری نعمتوں کو تبدیل کیا و تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر الزام لگایا و تیری ملت کی مخالفت کی و تیرے راستے کو بند کیا ۔۔۔۔۔اور تیرے نبی کے بیٹے کو قتل کیا ۔
[نام كتاب: مهج الدعوات و منهج العبادات ،موضوع: منابع فقه( ادعيه و اعمال)
نويسنده: حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين، على
تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق ،ناشر: دار الذخائر
تاريخ نشر: 1411 ه ق ،مكان چاپ: قم- ايران ،ص 257]




حدیث کی سند ابن طاووس علیہ الرحمہ سے امام رضا علیہ السلام تک صحیح ہے۔
ابن طاووس نے بہت سارے سلسلوں سے شیخ طوسی علیہ الرحمہ کی مرویات کو روایت کیا ہے ہم بطور مثال ایک کا ذکر کرتے ہیں سید فرماتے ہیں:
أقول فمن طرقي في الرواية إلى كلما رواه جدي أبو جعفر الطوسي في كتاب الفهرست و كتاب أسماء الرجال و غيرهما من الروايات ما أخبرني به جماعة من الثقات منهم الشيخ حسين بن أحمد السوراوي إجازة في [جمادى الأخرى] سنة تسع و ستمائة قال أخبرني محمد بن أبي القاسم الطبري عن الشيخ المفيد أبي علي و عن والده جدي السعيد أبي جعفر الطوسي.
میں کہتا ہوں میرے طرق روایت جو کچھ میرے جد ابو جعفر طوسی نے اپنی کتاب فہرست میں اور کتاب رجال میں اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی انہوں نے روایت کیا تو ان کی خبر دی مجھے ثقات کی ایک جماعت نے جن میں سے شیخ حسین بن احمد سوراوی جنہوں نے جمادی آخر سنہ 609 ہجری میں اجازتاً خبر دی کہا مجھے خبر دی محمد بن ابی قاسم طبری نے شیخ مفید ابو علی سے انہوں نے اپنے والد میرے جد سعادت مند ابو جعفر طوسی سے ۔
[نام كتاب: فلاح السائل و نجاح المسائل ,موضوع: منابع فقه( ادعيه و اعمال)
نويسنده: حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين، على
تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق
ناشر: انتشارات دفتر تبليغات اسلامى حوزه علميه قم
تاريخ نشر: 1406 ه ق ,مكان چاپ: قم- ايران ، ص14]




شیخ طوسی کی سند بھی سعد بن عبد اللہ علیہ الرحمہ تک صحیح ہے:
باب السين باب سعد [316] 1 – سعد بن عبد الله القمي، يكنى أبا القاسم، جليل القدر، واسع الاخبار، كثير التصانيف، ثقة.
……..
أخبرنا بجميع كتبه ورواياته عدة من أصحابنا، عن محمد بن علي بن الحسين ابن بابويه، عن أبيه ومحمد بن الحسن، عن سعد بن عبد الله، عن رجاله.
ان کی سب تصانیف و روایات کی خبر دی مجھے ہمارے اصحاب کی ایک جماعت نے محمد بن علی بن حسین بن بابویہ نے انہوں نے اپنے والد سے اور محمد بن حسن بن عبداللہ نے اپنی سند سے۔
[الفهرست ص135 , تأليف شيخ الطائفة الأمام أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي 385 – 460 ه تحقيق مؤسسة نشر الفقاهة, التاريخ: شعبان المعظم 1417,]




سند صحیح و متصل ہے:
سعد علیہ الرحمہ نے دو سندوں سے حدیث مبارکہ کو روایت کیا ہے:
پہلے راوی ابو جعفر احمد بن محمد بن عيسى قمی ہیں۔
دوسرے ابو جعفر محمد بن إسماعيل بن بزيع ہیں دونوں ہی ثقہ ہیں جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے ہیں۔
(۱۰) فرمان امام صادق علیہ السلام سیدہ النساء العالمین کو ان کے والد کی میراث سے محروم کیا گیا:
کلینی علیہ الرحمہ نے امام صادق علیہ السلام سے با سند صحیح طولانی روایت کی ہے:
الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ مَنَّ عَلَيْنَا بِأَنْ عَرَّفَنَا تَوْحِيدَهُ ثُمَّ مَنَّ عَلَيْنَا بِأَنْ أَقْرَرْنَا- بِمُحَمَّدٍ ص بِالرِّسَالَةِ ثُمَّ اخْتَصَّنَا بِحُبِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ نَتَوَلَّاكُمْ وَ نَتَبَرَّأُ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَ إِنَّمَا نُرِيدُ بِذَلِكَ خَلَاصَ أَنْفُسِنَا مِنَ النَّارِ قَالَ وَ رَقَقْتُ فَبَكَيْتُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع سَلْنِي فَوَ اللَّهِ لَا تَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكَ بِهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ مَا سَمِعْتُهُ قَالَهَا لِمَخْلُوقٍ قَبْلَكَ قَالَ قُلْتُ خَبِّرْنِي عَنِ الرَّجُلَيْنِ قَالَ ظَلَمَانَا حَقَّنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ مَنَعَا فَاطِمَةَ ص مِيرَاثَهَا مِنْ أَبِيهَا وَ جَرَى ظُلْمُهُمَا إِلَى الْيَوْمِ قَالَ وَ أَشَارَ إِلَى خَلْفِهِ وَ نَبَذَا كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمَا.
عبدالرحمن بن ابی عبداللہ کا بیان ہے میں نے (امام صادق علیہ السلام سے عرض کی )مجھے ان دونوں کے بارے میں بتائیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا ان دونوں نے ہمارے حق میں ظلم کیا جو اللہ کی کتاب میں ہمارے متعلق تھا اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان کے والد کی میراث سے محروم کیا ان کا ظلم آج تک جاری ہے۔
[الكافي، تأليف:الشيخ الكليني،تاريخ وفاة المؤلف: 329 ق
المحقق / المصحح: غفاري على اكبر و آخوندي، محمد
عدد المجلدات: 8،الناشر: دار الكتب الإسلامية ،مكان النشر: تهران، سنة الطباعة: 1407 ق،رقم الطباعة: الرابعة،ج 8 ص 102]




سند میں موجود راوی معلی بن محمد پر نجاشی علیہ الرحمہ نے کلام کیا ہے۔
معلى بن محمد البصري أبو الحسن، مضطرب الحديث والمذهب.
مضطرب حديث و مذہب تھے۔
[رجال النجاشي المؤلف: الشيخ أبى العباس أحمد بن علي النجاشي التحقيق: الحجة السيد موسى الشبيري الزنجاني الناشر: مؤسسة النشر الاسلامي التابعة لجماعة المدرسين ب (قم المشرفة)،ص 418]




جواب:
معلی بن محمد ،شیخ صدوق علیہ الرحمہ اور ابن قولویہ علیہ الرحمہ کے نزدیک قابل اعتماد ہیں شیخ صدوق نے الفقیہ میں معلی کی احادیث سے احتجاج کیا ہے:
وما كان فيه عن المعلى بن محمد البصري فقد رويته عن أبي، ومحمد بن الحسنوجعفر بن محمد بن مسرور رضي الله عنهم عن الحسين بن محمد بن عامر، عن المعلى ابن محمد البصري ۔
اور جو کچھ اس(کتاب) میں معلی بن محمد بصری سے ہے اور میں اپنے والد سے روایت کرتا ہوں ۔
[من لا يحضره الفقيه ، للشيخ الجليل الأقدم الصدوق أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي المتوفى سنة 381 صححه وعلق عليه علي أكبر الغفاري الجزء الرابع الطبعة الثانية: 1404 – ق / 1363 ش منشورات جماعة المدرسين في الحوزة العلمية في قم المقدسة ،ج 4 ص 537]




ابن قولویہ علیہ الرحمہ نے کامل الزيارات میں معلی سے حدیث لی:
حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْجَهْمِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا عليه السلام.
[كامل الزيارات، المؤلف: الشيخ الجليل جعفر بن محمد بن قولويه القمي ،التحقيق: الشيخ جواد القيومي، لجنة التحقيق الطبعة: الأولى، المطبعة:مؤسسة النشر الاسلامي،التاريخ: عيد الغدير 1417 مؤسسة (نشر الفقاهة)،ص 547]



(۱۱)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مصائب، آپ کے دروازے کا جلانا، جناب محسن کی شہادت آپ کے پہلو کے مجروح کئے جانے وغیرہ کی خبر دینا:
عیسی بن مستفاد علیہ الرحمہ جو امام موسی کاظم و امام محمد تقی علیہما السلام کے شاگرد تھے آپ امام کاظم و تقی علیہما السلام سے صدر اسلام میں رونما ہونے والے واقعات کے متعلق سوالات کرتے اور ائمہ علیہم السلام بھی آپ کو بغیر تقیہ کے حقائق سے آشنا کراتے آپ نے ان احادیث کو ایک کتاب بنام کتاب الوصیہ میں جمع کیا تھا۔
نجاشی علیہ الرحمہ جناب عیسی بن مستفاد کے بارے میں فرماتے ہیں:
عيسى بن المستفاد:
أبو موسى البجلي الضرير روى عن أبي جعفرالثاني عليهالسلام ولم يكن بذاك. له كتاب الوصية رواه شيوخنا عن أبي القاسم جعفر بن محمد قال : حدثنا أبو عيسى عبيدالله بن الفضل بن هلال بن الفضل بن محمد بن أحمد بن سليمان الصابوني قال : حدثنا أبو جعفر محمد بن إسماعيل بن أحمد بن إسماعيل بن محمد قال : حدثنا أبو يوسف الوحاظي والازهر بن بسطام بن رستم والحسن بن يعقوب قالوا : حدثنا عيسى بن المستفاد. وهذا الطريق طريق مصري فيه اضطراب وقد أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عمران قال:حدثنا يحيى بن محمد القصباني ، عن عبيدالله بن الفضل.
عیسی بن مستفاد ابو موسی بجلی نابینا تھے امام تقی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں اور وہ ایسے نہیں تھے ،ان کی (کتاب الوصیہ) ہے اور وہ ہمارے اساتذہ نے ہم سے روایت کیا ابو القاسم جعفر بن محمد کے ذریعے انہوں نے کہا ہم سے حدیث کی ابو
عیسی عبيدالله بن الفضل بن هلال بن الفضل بن محمد بن أحمد بن سليمان صابونی نے کہا ہم سے حدیث کی أبو جعفر محمد بن إسماعيل بن أحمد بن إسماعيل بن محمد نے کہا ہم سے حدیث بیان کی أبو يوسف الوحاظي اور ازهر بن بسطام بن رستم اور حسن بن يعقوب نے کہا ہم سے حدیث بیان کی عیسی بن مستفاد نے۔یہ سند مصری سند ہے اور اس میں اضطراب واقع ہے ۔
اور ہمیں خبر دی ابو الحسن أحمد بن محمد بن عمران نے کہا ہم سے حدیث بیان کی يحيى بن محمد قصبانی نے عبيدالله بن الفضل سے (یہاں سے سند مشترک ہے)
[رجال النجاشي،تألیف:أبي العبّاس أحمد بن علي النجاشي،المحقق:السيّد موسى الشبيري الزنجاني،الناشر:مؤسسة النشر الإسلامي، ص297/298]
http://lib.eshia.ir/14028/1/298





نجاشی علیہ الرحمہ کے کلام سے واضح ہوتا ہے دوسری سند معتبر ہے آپ نے پہلی سند پر اضطراب کا حکم لگا کر پھر دوسری سند سے کتاب کو نقل کیا اور اس پر سکوت اختیار کیا ۔
نجاشی علیہ الرحمہ کی عبارت میں کہیں بھی عیسی بن مستفاد علیہ الرحمہ کی تضعیف نہیں ہے جیسا کہ بعض نے تصور کیا ہے بلکہ "لم یکم بذالك مبهم” ہے اگر اس سے جرح بھی مراد لی جائے تو فقط اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا حافظہ اعلی درجہ کا نہیں تھا ۔
البتہ جو تہمتیں ابن غضائری سے منسوب کتاب میں ہیں وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ابن غضائری سے منسوب کتاب کا بطلان ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں بلکہ عیسی بن مستفاد ابن طاووس علیہ الرحمہ کے نزدیک نہایت معتبر شخصیت تھے جیسا کہ ذکر ہوگا ۔
یہ کتاب تو ہم تک نہیں پہنچی مگر خوش قسمتی سے علماء کرام نے اس کتاب سے بہت سی احادیث کو اپنی کتب میں روایت کیا ثقہ الاسلام کلینی علیہ الرحمہ نے کافی میں، سید رضی علیہ الرحمہ نے( خصائص ائمہ ) میں روایت کیا، چھٹی صدی ہجری کے فاضل عالم شیخ ہاشم بن محمد علیہ الرحمہ نے اپنی معروف کتاب( مصباح الأنوار في فضائل إمام الأبرار) میں ابن عیاش جوہری علیہ الرحمہ سے بہت سی احادیث نقل کی ہیں، مذکورہ کتاب کا خطی نسخہ مولف کے دور سے قریب میں موجود تھا۔
سید ابن طاووس علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب طرف الانباء والمناقب في شرف سيد الانبياء وعترته الاطائب (جو کہ کتاب الوصیہ کی تلخیص
ہے) میں مذکورہ تمام تر احادیث سید ابن طاووس علیہ الرحمہ کی شرط پر قابل اعتماد ہیں چنانچہ اپنی کتابوں کی معرفی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ومنها كتاب (طرف الانباء) والمناقب في شرف سيد الانبياء وعترته الاطائب يتضمن كشف ما جرت الحال عليه في تعيين النبي (ص) لأمته من يرجعون بعد وفاته إليه من وجوه غريبة ورواية من يعتمد عليه.
اور ان میں سے کتاب (طرف الأنباء و المناقب فی شرف سید الأنبياء ۔۔اور اس میں قابل اعتماد روایات ہیں ۔
[كشف المحجة لثمرة المهجة،تأليف: العالم العامل العابد الزاهد رضي الدين أبي القاسم علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن طاووس الحسني الحسيني المتوفى: 664 هج، حقوق الطبع: محفوظة للناشر منشورات، المطبعة: الحيدرية في النجف 1370 هج – 1950، ص139]
https://lib.eshia.ir/15226/1/139/%D9%83%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%B1%D9%81


دوبارہ کتاب حاضر کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
وقد رأيت كتابا يسمّى كتاب « الطرائف في مذاهب الطوائف » ، فيه شفاء لما في الصدور ، وتحقيق تلك الأمور ، فلينظر ما هناك من الأخبار والاعتبار ، فإنّه واضح لذوي البصائر والأبصار ، وإنّما نقلت هاهنا ما لم أره في ذلك الكتاب ، من الأخبار المحقّقة.
میں نے کتاب «الطرائف في مذاهب الطوائف» دیکھی اس میں جو کچھ دلوں (میں شکوک )ہیں ان کی دوا ہے ۔۔۔۔اور ہم نے اس یہاں فقط تحقیق شدہ خبروں (احادیث )ہی کو نقل کیا ہے۔
[طرف من الأنباء والمناقب،المؤلف: السيّد رضي الدين أبو القاسم علي بن موسى بن جعفر بن طاووس الحسني الحلّي [ السيّد بن طاووس ]،المحقق: الشيخ قيس العطّار،الناشر: انتشارات تاسوعاء
المطبعة: مطبعة الهادي،الطبعة:١،الموضوع : العقائد والكلام،تاريخ النشر : ١٤٢٠ هـ.ق، ص 114]
https://lib.eshia.ir/27855/1/114
نیز اپنے ایک اجازہ میں فرماتے ہیں:
كتاب طرف من الانباء والمناقب في شرف سيد الأنبياء والأطايب وطرق من تصريحه بالوصية بالخلافة لعلي بن أبي طالب عليه السلام وهو كتاب لطيف جليل شريف.
کتاب طرف من الأنباء والمناقب اچھی زبردست با شرف کتاب ہے۔
[بحارالانوار، تأليف العلم العلامة الحجة فخر الأمة المولى الشيخ محمد باقر المجلسي ” قدس الله سره ” الجزء الرابع المائة مؤسسة الوفاء بيروت – لبنان، الطبعة الثانية المصححة 1403 ه – 1983 م ، ج 104 ص 40]




ابن طاووس علیہ الرحمہ کے کلام سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے ابن غضائری سے منسوب کتاب کو اپنی کتاب حل الإشكال میں نقل تو کیا تھا مگر اس پر اعتماد نہیں کرتے تھے کیونکہ ابن غضائری سے منسوب جرح کے بعد بھی آپ نے عیسی بن مستفاد کی کتاب کی تلخیص کر کے اس کو تحقیق شدہ قابل اعتماد تسلیم کیا ۔
ابن طاووس علیہ الرحمہ نے کتاب تک اپنا سلسلہ نقل نہیں کیا مگر جیسے کہ کتاب کی احادیث کو تحقیق شدہ قابل اعتماد تسلیم کیا اس سے علم ہوتا ہے سید علیہ الرحمہ سے جناب عیسی تک سلسلہ تحقیق شدہ معتبر ہے لہذا کتاب پر اور سلسلہ سند پر کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
سید علیہ الرحمہ عیسی بن مستفاد علیہ الرحمہ سے نقل کرتے ہیں:
قال :حدّثني عيسى، قال:قلت لأبي الحسن عليهالسلام:فما كان بعد خروج الملائكة من عند رسول الله صلىاللهعليهوآله؟
قال : فقال : لما كان اليوم الّذي ثقل فيه وجع النبي صلىاللهعليهوآله وخيف عليه فيه الموت دعا عليّا وفاطمة والحسن والحسين عليهمالسلام ، وقال لمن في بيته : اخرجوا عنّي ، وقال لأمّ سلمة : تكوني ممّن على الباب فلا يقربه أحد ، ففعلت أمّ سلمة ، فقال : يا عليّ ، ادن منّي ، فدنا منه ، فأخذ بيد فاطمة عليهاالسلام فوضعها على صدره طويلا ، وأخذ بيد عليّ بيده الأخرى.
فلما أراد رسول الله صلىاللهعليهوآله الكلام غلبته عبرته فلم يقدر على الكلام ، فبكت فاطمة ـ بكاء شديدا ـ وعليّ والحسن والحسين عليهمالسلام لبكاء رسول الله صلىاللهعليهوآله ، فقالت فاطمة عليهاالسلام : يا رسول الله قد قطّعت قلبي ، وأحرقت كبدي ، لبكائك يا سيّد النّبيّين من الأوّلين والآخرين ، ويا أمين ربّه ورسوله ، ويا حبيبه ونبيّه ، من لولدي بعدك؟ ولذلّ ينزل بي بعدك ؟ من لعلي أخيك وناصر الدّين ؟ من لوحي الله وأمره ؟ ثمّ بكت وأكبّت على وجهه فقبّلته ، وأكبّ عليه عليّ والحسن والحسين عليهمالسلام
فرفع رأسه إليهم ، ويدها في يده،فوضعها في يد عليّ عليهالسلام ، وقال له : يا أبا الحسن هذه وديعة الله ووديعة رسوله محمّد عندك ، فاحفظ الله واحفظني فيها ، وإنّك لفاعل يا عليّ
هذه والله سيدة نساء أهل الجنّة من الأوّلين والآخرين ، هذه والله مريم الكبرى ، أم والله ، ما بلغت نفسي هذا الموضع حتّى سألت الله لها ولكم ، فأعطاني ما سألته.
يا عليّ ، انفذ لما أمرتك به فاطمة ، فقد أمرتها بأشياء أمرني بها جبرئيل عليهالسلام ، واعلم يا عليّ أنّي راض عمّن رضيت عنه ابنتي فاطمة ، وكذلك ربّي وملائكته .
يا عليّ ، ويل ( لمن ظلمها ، وويل ) لمن ابتزّها حقّها ، وويل لمن انتهك حرمتها ، وويل لمن أحرق بابها ، وويل لمن آذى جنينها ، وشجّ جنبيها ، وويل لمن شاقّها وبارزها.
اللهمّ إنّي منهم بريء وهم منّي براء ثمّ سمّاهم رسول الله صلى الله عليه و آله،وضمّ فاطمة إليه وعليّا والحسن والحسين عليهمالسلام ، وقال : اللهمّ إنّي لهم ولمن شايعهم سلم ، وزعيم يدخلون الجنّة ، ( وحرب وعدوّ لمن عاداهم وظلمهم وتقدّمهم أو تأخّر عنهم وعن شيعتهم ) ، زعيم لهم يدخلون النّار ، ثمّ والله يا فاطمة لا أرضى حتّى ترضي ، ثمّ لا والله لا أرضى حتّى ترضي ، ثمّ والله لا أرضى حتّى ترضي.
مجھسے سے عیسی نے حدیث بیان کی کہا میں نے ابو الحسن (امام موسی کاظم ) علیہ السلام سے سوال کیا کہ ملائکہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے جانے کے بعد کیا ہوا؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس روز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو درد کی سختی ہوئی اور موت کا وقت قریب آیا تو علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کو اپنے پاس بلایا اور جو کوئی گھر میں تھا اس کو باہر جانے کا حکم دیا اور جناب ام سلمہ (سلام اللہ علیہا ) سے کہا دروازہ پر رہو اور کسی کو پاس مت آنے دو پس جناب ام سلمہ نے ایسا ہی کیا ۔۔۔۔۔۔پس (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے) ان (فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا )کا ہاتھ علی علیہ السلام کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا اے علی یہ آپ کے پاس اللہ اور اس کے رسول کی امات ہیں پس اللہ اور میری خاطر ان کی حفاظت کرنا اور اور بے شک آپ ایسا ہی کرینگے ،اے علی خدا کی قسم یہ (فاطمہ) اولین و آخرین میں تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں خدا کی قسم یہ مریم کبری ہیں ،میری روح اس مقام تک نہیں پہنچی تھی جب تک کہ میں نے اللہ سے ان کے اور تمہارے لئے نہیں مانگا اور اس نے مجھے وہ دیا جو میں نے مانگا تھا۔
اے علی جو کچھ فاطمہ آپ سے کہیں وہ کرنا، کیونکہ میں نے انہیں ان کاموں کا حکم دیا تھا جس کا حکم مجھے(اللہ کی طرف سے )جبرائیل علیہ السلام نے دیا تھا۔ ائے علی جان لیں کہ میں اس سے راضی ہوں جس سے میری بیٹی فاطمہ راضی ہیں اور اس طرح میرا رب بھی اور ملائکہ بھی (راضی ہیں)
اے علی تباہی ہے اس کے لئے جس نے ان پر ظلم کیا جس نے ان کا حق چھینا، اور افسوس اس کے لئے جس نے ان کی حرمت کو پامال کیا، اور افسوس اس کے لئے جس نے ان کا دروازہ جلایا، اور اس کے لئے ہلاکت ہے جس نے ان کے جنین کو تکلیف پہنچایی ، اور ان کے پہلوؤں کو کاٹ دیا۔ اور افسوس اس پر جس نے انہیں مجبور کیا اور ان کی مخالفت کی۔
اے اللہ میں ان سے دور ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان افراد کے نام بتائے اور فاطمہ، علی، حسن اور حسین علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ شامل ہوئے اور کہا: اے اللہ میں ان کے لئے ہوں اور جو ان کے ساتھ شامل ہوں، ان پر سلام ہو اور ان جنت میں داخل ہونے والوں کا پیشوا ہوں۔
اور میری جنگ اور دشمنی ہے ان لوگوں سے جو ان (اہل بیت )سے دشمنی رکھے اور ان پر ظلم کرے ہیں یا ان سے آگے بڑھے اور ان سے اور ان کے شیعیوں سے پیچھے رہ جاے ان کے پیشوا جہنم میں داخل ہوں گے، پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم اے فاطمہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں جب تک کہ آپ راضی نہ ہو جاؤ۔ نہیں، اللہ کی قسم میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوں، پھر اللہ کی قسم میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوں۔
[طرف من الأنباء والمناقب ،المؤلف: السيّد رضي الدين أبو القاسم علي بن موسى بن جعفر بن طاووس الحسني الحلّي [ السيّد بن طاووس ] ،المحقق: الشيخ قيس العطّار،الناشر:انتشارات تاسوعاء ،المطبعة: مطبعة الهادي،الطبعة: ١،تاريخ النشر : ١٤٢٠ هـ.ق، ص 167/169]
https://lib.eshia.ir/27855/1/167







اس وصیت کو تفصیل سے شیخ ہاشم بن محمد نے مصباح الأنوار في فضائل إمام الأبرار) میں ابن عیاش جوہری علیہ الرحمہ سے روایت کیا ہے۔
شیخ ہاشم چھٹی صدی ہجری کے فاضل علماء میں شمار ہوتے ہیں ،شیخ حر عاملی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
الشيخ هاشم بن محمد. كان فاضلا محدثا كثير الروايات، له كتاب مصباح الانوار وغيره
شیخ ہاشم بن محمد وہ فاضل محدث بہت زیادہ روایات کرنے والے تھے ان کی کتاب مصباح الانوار وغیرہ ہیں ۔
[أمل الآمل،المؤلف: الشيخ محمد بن الحسن (الحر العاملي) ،الناشر: دار الكتاب الاسلامي عدد الصفحات 484 القياس: وزيرى تاريخ النشر: 22 / 11 / 62 ،المطبعه: مطبعه نمونه / قم، ج 2 ص 341]




ہمارے علم میں مصباح الأنوار في فضائل إمام الأبرار کا قدیمی ترین نسخہ ساتویں یا آٹھویں صدی ہجری کا کتب خانہ سید مرعشی (قم، ایران )میں 3691 نمبر ہے۔
کتب خانہ حکیم (نجف الاشرف عراق) میں خطی نسخہ ہے جس کو شیخ محمد سماوی نے لکھا تھا۔
نسخہ میں موجود سند و تصویر ملاحظہ فرمائیں:
روی ابو عبدالله احمد بن محمد بن عبيدالله بن الحسن بن عياش قال حدثنا ابو القاسم جعفر بن محمد قولويه القمي رحمت الله عليه قال حدثنا ابو عيسي عبيدالله بن الفضل بن هلال و ابو الفضل محمد بن احمد سليمان الجعفي الصابوني بمصر قال حدثنا أبو جعفر محمد بن إسماعيل ابن احمد بن إسماعيل بن محمد قال حدثنا أبو يوسف الوحاظي باليمن قال حدثنا أزهر بن بسطام بن رستم قال حدثنا أبو الحسن بن يعقوب قال حدثنا عيسى بن المستفاد البجلي ابو موسى الضرير قال



(۱۲) صادق آل محمد علیہ سلام کی سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کی سبب شہادت کے متعلق حدیث :
جو افراد فقط اس سبب سے کہ سید علیہ الرحمہ نے (حل الإشكال) میں اس امر کی تصریح کی ہے اور ان کے کتاب سے نقلِقول کے سبب اس کو معتبر تسلیم کر لیا ان کے لئے ایک دوسری کتاب کی بھی معرفی کرتے ہیں جو دلائل کے اعتبار سے ابن غضائری سے منسوب کتاب سے کہیں زیادہ مضبوط کتاب "دلائل الامامہ” ہے۔
کتاب دلائل الامامہ ابو جعفر محمد بن جرير بن رستم طبری علیہ الرحمہ کی تالیف ہے طبری علیہ الرحمہ شیخ طوسی وفات 460 کے ہم عصر ہیں دونوں کے بعض شیوخ مشترک ہیں ۔
ابو جعفر محمد بن جرير بن رستم طبری علیہ الرحمہ کی توثیق:
آپ کو سید ابن طاووس علیہ الرحمہ نے ثقہ شیخ کہا۔
فرماتے ہیں:
فيما نذكره من المجلد الأول من كتاب (الدلائل) تأليف الشيخ الثقة أبي جعفر محمد بن جرير الطبري، بتقديم تسمية مولانا علي عليه السلام بأمير المؤمنين.
جو ہم نے ذکر کیا کتاب دلائل کی پہلی جلد میں سے جوکہ شیخ ثقہ ابو جعفر محمد بن جرير بن رستم طبری کی تالیف ہے۔
[اليقين بِاختِصَاصِ مَولَانَا عَلِيٍ بِإِمْرة المؤمِنِينَ ص 222




کتاب کی سند :
کتاب دلائل الامامہ سید ابن طاووس علیہ الرحمہ تک معتبر سند کے ذریعہ پہنچی تھی چنانچہ اپ نے کئی مرتبہ اس امر کا ذکر کیا کہ وہ طبری علیہ الرحمہ کی روایات کو آپ سے با سند روایت کرتے ہیں اور چونکہ کتاب کو طبری علیہ الرحمہ سے ثابت شدہ تسلیم کیا یہ اس امر کا پختہ ثبوت ہے کہ سید علیہالرحمہ کی اسناد کتاب دلائل کے معتبر تھیں۔
فرماتے ہیں:
و من ذلك في دلائل أبي عبد الله ع ما رويناه بإسنادنا إلى الشيخين أبي العباس عبد الله بن جعفر و أبي جعفر محمد بن جرير الطبري بروايتهما عن أبي بصير عن أبي عبد الله ع
ہم نے اپنی اسناد سے دو استادوں ابو العباس عبداللہ بن جعفر اور ابو جعفر محمد بن جرير طبری سے ان کی سند سے ابو بصیر۔
[فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم- حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين، على،تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق،ناشر: دار الذخائر،تاريخ نشر: 1368 ه ق،نوبت چاپ: اول،مكان چاپ: قم- ايران، معرفة نهج الحلال من علم النجوم ص 229]
https://ar.lib.eshia.ir/71550/1/229




و من ذلك ما رويناه بإسنادنا إلى أبي جعفر محمد بن جرير الطبري بإسناده إلى أبي الحسن موسى ع
اور جو ہم نے اپنی اسناد سے ابو جعفر محمد بن جرير طبری سے روایت کیا ان کی سند سے امام موسی کاظم علیہ السلام سے ۔
[فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم- معرفة نهج الحلال من علم النجوم، حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين،تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق،ناشر: دار الذخائر،تاريخ نشر: 1368 ه ق،نوبت چاپ: اول،مكان چاپ: قم- ايران ،ص 231]
https://ar.lib.eshia.ir/71550/1/231




و من ذلك في دلائل محمد الجواد ع ما رويناه بإسنادنا إلى الشيخ أبي جعفر محمد بن جرير الطبري بإسناده إلى إبراهيم بن سعيد
اور امام تقی جواد علیہ السلام (کی امامت )کی دلائل میں جو ہم نے اپنی اسناد سے شیخ ابو جعفر محمد بن جرير طبری سے روایت کیا ان کی سند سے ابراہیم بن سعید سے۔
[فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم- معرفة نهج الحلال من علم النجوم، حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين،تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق،ناشر: دار الذخائر،تاريخ نشر: 1368 ه ق،نوبت چاپ: اول،مكان چاپ: قم- ايران ،ص 232]
https://ar.lib.eshia.ir/71550/1/232




و من ذلك في دلائل مولانا علي الهادي ع مما روينا بإسنادنا إلى الشيخ أبي جعفر محمد بن جرير الطبري بإسناده قال حدثني أبو الحسن محمد بن إسماعيل الكاتب بسر من رأى سنة ثمان و ثلاثين و ثلاث مائة
اور ان دلائل میں سے جو ہمارے آقا علی نقی الہادی علیہ السلام کے متعلق ہیں جن کو ہم نے ہماری اسناد سے ابو جعفر محمد بن جرير طبری سے روایت کیا ان کی سند سے ۔
[فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم- معرفة نهج الحلال من علم النجوم، حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين،تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق،ناشر: دار الذخائر،تاريخ نشر: 1368 ه ق،نوبت چاپ: اول،مكان چاپ: قم- ايران ،ص 233]
https://ar.lib.eshia.ir/71550/1/233




و من ذلك ما رويناه بإسنادنا إلى الشيخ أبي جعفر محمد بن جرير الطبري بإسناد يرفعه إلى أحمد الدينوري
اور جو ہم نے روایت کیا ہماری اسناد سے شیخ ابو جعفر محمد بن بن جریر طبری سے ۔
[فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم- معرفة نهج الحلال من علم النجوم، حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين،تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق،ناشر: دار الذخائر،تاريخ نشر: 1368 ه ق،نوبت چاپ: اول،مكان چاپ: قم- ايران ،ص 239]
https://ar.lib.eshia.ir/71550/1/239




کتاب(دلائل الامامہ) دو جلدوں پر مشتمل تھی دونوں جلدیں سید علیہ الرحمہ کے پاس موجود تھی فرماتے ہیں :
ورأيت في المجلد الأول من دلائل الإمامة لمحمد بن جرير بن رستم الطبري عند ذكره للاسراء بالنبي صلى الله عليه وآله.
میں نے محمد بن جریر بن رستم طبری کی کتاب دلائل الامامہ کی پہلی جلد میں دیکھا۔
[إقبال الأعمال، المؤلف: السيد رضي الدين علي بن موسى جعفر بن طاووس المحقق: جواد القيومي الأصفهاني الناشر: مكتب الاعلام الاسلامي طبع على مطابع: مكتب الاعلام الاسلامي الطبعة: الأولى تاريخ النشر: رجب 1414 ه ق طبع منه: 3000 نسخة جميع الحقوق محفوظة للناشر – قم: شارع الشهداء ، ج1 ص 36]




مگر افسوس ہم تک کتاب ناقص پہنچی پہلا جز مفقود ہے یہی سبب ہے کہ موجودہ جلد میں نہ مؤلف کا مقدمہ ہے اور نہ ہی کتاب کی سند ہے ۔
مگر چونکہ ابن طاوس علیہ الرحمہ نے جو احادیث مذکورہ کتاب سے اپنی کتب میں نقل کی ہیں وہ موجودہ ناقص نسخے میں موجود ہیں جو کتاب پر اعتماد کے لئے کافی ہیں ۔
مجھے اس کتاب کے دو خطی نسخوں کا علم ہے ،پہلا نسخہ مشہد مقدس حرم امام رضا علیہ السلام کے کتب خانہ میں 7655 نمبر ہے مگر اس پر تاریخ موجود نہیں ہے اور دوسرا نسخہ سید مرعشی علیہ الرحمہ کے کتب خانے میں قم مقدس میں 2974 نمبر ہے اس پر تاریخ کتاب 12 ربیع الثانی سن 1319 ہجری درج ہے یہ نسخہ سن 1092 ہجری کے کتابت ہوئے نسخے سے استنساخ کیا گیا ہے ۔
علامہ مجلسی و ہاشم بحرانی علیہما الرحمہ نے اپنی تالیفات میں دلائل سے مطالب نقل کے ہیں ۔
چونکہ کتاب ابن طاووس علیہ الرحمہ (وفات 664 ہجری) تک با سند نقل ہوئی سید علیہ الرحمہ نے اس پر اعتماد کیا اور اس سے اپنی کتب میں احادیث نقل کی ہیں اہل علم سے یہ مخفی نہیں کہ سید علیہ الرحمہ کے بعد کا دور تدوین کا دور نہیں تھا بلکہ اس دور میں کتابوں کو با سند روایات کرنے کی بھی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی، چنانچہ کتابیں اپنے مولفین و مصنفین سے ثابت ہو چکی تھیں لہذا ان میں تحریف کا ایسا اندیشہ نہیں تھا جیسا پہلے ادوار میں تھا اور چونکہ کتاب کا پہلا جز مفقود ہے لہذا سند کتاب کا ہم تک نہ پہنچنا کتاب کو مشکوک نہیں بناتا، پس ابن غضائری سے منسوب کتاب کو تسلیم کرنے والوں کو تو کتاب دلائل الامامہ کو بدرجہ اولی معتبر تسلیم کرنا چاہتے۔
ابو جعفر محمد بن جرير طبری علیہ الرحمہ صحیح سند سے امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:
حدثني أبو الحسين عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ بْنِ مُوسَي التَّلَّعُكْبَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هَمَّامٍ عَنْ أَحْمَدَ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نَجْرَانَ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَال
وَلَدَتْ فَاطِمَةُ (عَلَيْهَا السَّلَامُ) فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ، يَوْمَ الْعِشْرِينَ مِنْهُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَ أَرْبَعِينَ مِنْ مَوْلِدِ النَّبِيِّ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ).وَ أَقَامَتْ بِمَكَّةَ ثَمَانَ سِنِينَ، وَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهَا خَمْسَةً وَ سَبْعِينَ يَوْماً.َ قُبِضَتْ فَاطِمَةُ عليها السلام فِي جُمَادَي الْآخِرَةِ يَوْمَ الثَّلَاثَاءِ لِثَلَاثٍ خَلَوْنَ مِنْهُ سَنَةَ إِحْدَي عَشْرَةَ مِنَ الْهِجْرَةِ وَ كَانَ سَبَبُ وَفَاتِهَا أَنَّ قُنْفُذاً مَوْلَي عُمَرَ لَكَزَهَا بِنَعْلِ السَّيْفِ بِأَمْرِهِ فَأَسْقَطَتْ مُحَسِّناً وَ مَرِضَتْ مِنْ ذَلِكَ مَرَضاً شَدِيداً وَ لَمْ تَدَعْ أَحَداً مِمَّنْ آذَاهَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا وَ كَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله سَأَلَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَنْ يَشْفَعَ لَهُمَا إِلَيْهَا فَسَأَلَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهَا قَالا لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَتْ بِخَيْرٍ بِحَمْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَتْ لَهُمَا مَا سَمِعْتُمَا النَّبِيَّ يَقُولُ فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَي اللَّهَ قَالا: بَلَي. قَالَتْ: فَوَ اللَّهِ لَقَدْ آذَيْتُمَانِي قَالَ فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهَا عليه السلام وَ هِيَ سَاخِطَةٌ عَلَيْهِمَا.
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت بیس جمادی الثانی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کے پینتالیس سال بعد ہوئی آپ سلام اللہ علیہا آٹھ سال مکہ مکرمہ میں قیام پذیر رہیں و مدینہ منورہ میں دس سال اور اپنے والد کی وفات کے بعد پچھتر روز (زندہ رہیں)۔ بروز منگل تین جمادی الثانی سن گیارہ ہجری میں دنیا کو الوداع کہا آپ کی رحلت کا سبب وہ تلوار کے دستہ کی وہ ضربت تھی جو عمر کے غلام قنفذ( لعنۃ اللہ علیہ ) نے اس کے حکم سے ماری تھی جس کی وجہ سے محسن علیہ السلام سقط ہو گئے اور اس آپ شدید مریض ہو گئیں چنانچہ جنہوں نے آپ کو اذیت دی تھی ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی ،اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے دو افراد نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کے آپ ان سلام اللہ علیہا سے ہمیں (ملاقات) کی اجازت دلا دیں چنانچہ جب وہ دونوں وارد ہوئے تو کہا ائے دختر رسول اللہ آپ کیسی ہیں۔ آپ نے فرمایا الحمدللہ خیر سے ہوں پھر ان دونوں سے فرمایا کیا تم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ فاطمہ میرا ٹکڑہ ہے جس نے انہیں اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی ؟دونوں نے کہا کیوں نہیں ۔
پس آپ نے فرمایا اللہ کی قسم تم دونوں نے مجھے اذیت دی پس وہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے اس حالت میں کہ آپ سلام اللہ علیہا ان دونوں سے ناراض تھیں۔
[دلائل الإمامة المؤلف: المحدث الشيخ أبو جعفر محمد بن جرير بن رستم الطبري الصغير تحقيق: قسم الدراسات الإسلامية – مؤسسة البعثة – قم صف الحروف: القسم الكومبيوتري لمؤسسة البعثة – قم – هاتف: 30034 الطبعة: الأولى 1413 ص 134/135]





سند میں سب راوی معتبر ہیں کسی ایک پر بھی نعوذبااللہ حدیث گڑھنے کا الزام نہیں ایک بھی مجہول نہیں بلکہ سب کے سب مومن قابل اعتماد ہیں۔
بعض افراد نے شیخ ابو حسین محمد بن ہارون تلعکبری علیہ الرحمہ کے حالات معلوم نہ ہونے کے سبب ان کو مجہول خیال کر لیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ متقدمین کے نزدیک معتبر شخصیت کے طور پر معروف تھے آپ کے اہل بیت علیہم السلام سے محبت و ان کی احادیث سے معرفت کے متعلق دعاؤں و زیارات کا مجموعہ کتابی شکل میں موجود ہے اور الحمدللہ وہ ہم تک پہنچا بھی ہے، نجف اشرف میں اس کا خطی نسخہ موجود ہے ،آپ نجاشی علیہ الرحمہ کے ہم عصر تھے اس کے بعد بھی نجاشی علیہ الرحمہ نے آپ سے علمی استفادہ کیا آپ کے قول پر اعتماد کیا اور آپ کے لئے اللہ سبحانہ و تعالٰی سے رحمت کے طلب گار ہوئے ۔
چنانچہ شیخ نجاشی أحمد بن محمد بن الربيع الأقرع الكندي کے حالات میں لکھتے ہیں :
قال أبو الحسين محمد بن هارون بن موسى رحمه الله: قال أبي: قال أبو علي بن همام حدثنا عبد الله بن العلاء قال: كان أحمد بن محمد بن الربيع عالما بالرجال.
ابو حسين محمد بن ہارون بن موسی (اللہ کی ان پر رحمت ہو) نے کہا کہ ابو علی بن ہمام نے کہا ہم سے عبداللہ بن علاء نے بیان کیا کہ احمد بن محمد بن ربیع علم رجال کے عالم تھے۔
[رجال النجاشي، تألیف:أبي العبّاس أحمد بن علي النجاشي،المحقق:السيّد موسى الشبيري الزنجاني،المترجم:الموضوع : رجال الحديث،الناشر:مؤسسة النشر الإسلام، ص 79]




جبکہ نجاشی علیہ الرحمہ اپنے نزدیک ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے تھے چنانچہ أحمد بن محمد بن عبيد الله بن الحسن بن عياش بن إبراهيم بن أيوبالجوهري علیہ الرحمہ کے حالات میں لکھتے ہیں:
رأيت هذا الشيخ، وكان صديقا لي ولوالدي، وسمعت منه شيئا كثيرا، و رأيت شيوخنا يضعفونه، فلم أرو عنه شيئا وتجنبته، وكان من أهل العلم والأدب القوي وطيب الشعر وحسن الخط، رحمه الله وسامحه،
میں نے ان شیخ کو دیکھا ہے وہ میرے اور میرے والد کے دوستوں میں سے اور ان سے میں نے بہت سی چیزیں سنیں اور میں نے دیکھا کہ ہمارے اساتذہ ان کی تضعیف کرتے تھے تو میں نے ان سے کچھ بھی روایت نہیں کیا اور ان سے دوری کی اور وہ اہل علم میں سے تھے مضبوط ادیب تھے اچھے شاعر خوبصورت دستخط والے تھے اللہ کی ان پر رحمت ہو اور وہ ان سے درگزر فرمائیے ۔
[رجال نجاشی، المؤلف: الشيخ أبى العباس أحمد بن علي النجاشي التحقيق: الحجة السيد موسى الشبيري الزنجاني الناشر: مؤسسة النشر الاسلامي التابعة لجماعة المدرسين ب (قم المشرفة) ، ص 85]





پس واضح ہوا ابو حسین علیہ الرحمہ نجاشی علیہ الرحمہ کے نزدیک ثقہ قابل اعتماد افراد میں سے تھے۔
نیز سید ابن طاووس علیہ الرحمہ نے آپ کو بڑے اچھے القاب سے یاد کیا نیز آپ کے لئے اللہ سبحانہ و تعالٰی سے دعا کے بھی طالب ہوئے چنانچہ آپ کی کتاب سے دعا نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
كتبته من مجموع بخط الشيخ الجليل أبي الحسين محمد بن هارون التلعكبري أدام الله تأييده.
اس کو میں نے اس مجموعے سے لکھا جو جلیل القدر شیخ ابو حسین محمد بن ہارون تلعکبری اللہ ان کی حمایت جاری رکھے کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے ۔
مهج الدعوات و منهج العبادات, موضوع: منابع فقه( ادعيه و اعمال)
نويسنده: حلّى، سيد ابن طاووس، رضى الدين، على
تاريخ وفات مؤلف: 664 ه ق ,ناشر: دار الذخائر
تاريخ نشر: 1411 ه ق ,نوبت چاپ: اول
مكان چاپ: قم- ايران, ص 184




اگر آپ کی وثاقت کی کوئی اور دلیل بھی نہ ہوتی تو سید علیہ الرحمہ کی یہ عبارت ہی کافی تھی۔
ابن سنان سے مراد عبداللہ بن سنان رحمۃ اللہ علیہ ہیں جیسا کہ مؤلف نے کتاب میں ہی دوسری اسناد میں تصریح کی ہے۔
الحمدللہ کتاب ثابت ہے اور سند صحیح ہے۔


