اسماعیلیہ اور زیدیہ بھی ناصبی ہیں – امام جواد علیہ السلام
بوہرہ اسماعیلی فرقوں میں سے ایک گمراہ اور منحرف جماعت ہے جو اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرتی ہے۔
کشی نے اپنی کتاب رجال کشی میں اپنی سند سے ابن ابی عمیر کے ذریعے روایت نقل کی ہے:
"سألت محمد بن علي الرضا (عليهما السلام) عن هذه الاية "وجوه يومئذ خاشعة عاملة ناصبة” قال: وردت في النصاب، والزيدية والواقفية من النصاب”.
"میں نے محمد بن علی الرضا (علیہما السلام) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا:
﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ﴾
تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ آیت ناصبیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ، زیدی اور واقفی بھی نواصب ہیں۔”
✍ الحدائق الناضرة، محقق بحرانی، جلد ۵، صفحہ ۱۸۹
https://ar.lib.eshia.ir/10013/5/189
(یعنی امام جواد علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سب — زیدی اور واقفی — نواصب ہیں۔)
▫️یعنی شیعہ صرف اثنا عشریہ ہیں۔
کیسے ممکن ہے کہ اسماعیلی یا زیدی کو شیعہ کہا جائے جبکہ وہ تمام ائمہ علیہم السلام کی ولایت پر ایمان نہیں رکھتے؟
اور اسماعیلیوں کی دشمنی ہمارے امام اور مولا امام موسیٰ بن جعفر کاظم علیہ السلام کے ساتھ اتنی واضح ہے جیسے دن میں سورج اور رات میں چودہویں کا چاند واضح ہوتا ہے ، جسے دو آنکھوں والا انسان چھپا نہیں سکتا۔
میرزا حسین نوری طبرسی فرماتے ہیں:
وفي عصرنا هذا يأتون من هذه الطائفة من بلاد الهند إلى زيارة أمير المؤمنين ، وأبي عبد الله عليهماالسلام ، وينزلون بغداد ، ويسيرون منه الى كربلاء ولا يمرّون الى بلد الكاظم عليهالسلام ، بل تواتر عنهم أنّ طاغوتهم حرّم عليهم النظر الى قبّته المباركة من بعيد ، بل حدّثني جماعة أنّهم يسبّونه نعوذ بالله من الخسران.
"ہمارے زمانے میں اس فرقہ (بوہرہ اسماعیلیہ) کے پیروکار ہندوستان سے آ کر امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو جاتے ہیں۔
یہ بغداد میں اترتے ہیں اور وہاں سے کربلا جاتے ہیں، لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے شہر (کاظمین) نہیں جاتے۔
بلکہ ان کے بارے میں تواتر سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے سردار نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ امام کاظم علیہ السلام کے روضہ مبارکہ کی طرف دور سے بھی نہ دیکھیں۔
بلکہ کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ (العیاذ باللہ) امام کاظم علیہ السلام کو سبّ و شتم بھی کرتے ہیں۔”
✍ خاتمة المستدرك، حصہ ۱، صفحہ ۱۴۳
https://ar.lib.eshia.ir/11011/1/143


