عمر بن خطاب نے متعہ کو حرام کیا – امام طحاوی
یہ عمر بن خطاب کی بدعتوں میں سے ایک بدعت تھی کہ متعہ کو حرام قرار دیا۔ افسوس کہ انہوں نے اس سنتِ رسول اللہ ﷺ کو ختم کر دیا اور اسے حرام قرار دیا۔
طحاوی (اہلِ سنت کے مشہور عالم) اپنی کتاب "شرح معانی الآثار” میں صحیح سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں:
عن ابن عباس قال:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا کَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلَّا رَحْمَةً رَحِمَ اللهُ بِهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ , وَلَوْلَا نَهْیُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْهَا مَا زَنَى إِلَّا شَقِیٌّ
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"متعہ، ایک رحمت تھی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحم فرمایا۔ اور اگر عمر بن خطاب اس سے منع نہ کرتے، تو اس امت میں کوئی شخص زنا نہ کرتا، سوائے بدبخت کے۔”
(شرح معانی الآثار، جلد 3، صفحہ 26، طبع عالم الکتب)



اسی طرح محقق ابن شَبَّه نُمَیری (محقق کتاب: اخبار المدینة النبویة) نے اس روایت کے مشابہ ایک روایت نقل کی ہے اور اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے: ✅
اسناده صحیح
(تاریخ المدینة النبویة، جلد 2، صفحہ 286، طبع دار العلیان)

