صحابہ اور ازواج رسول کے ساتھ رضی اللہ لگانا بدعت ہے

محمد بن عبدالوہاب کے ایک نواسے نے ابن تیمیہ کی ایک کتاب کے شرح میں اعتراف کیا ہے کہ:
 "صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے لیے ’رضی اللہ عنہ‘ کہنا نہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رائج تھا، نہ ہی ابوبکر، عمر یا عثمان کے دورِ خلافت میں۔ بلکہ بعض تابعین نے بعد میں اسے دین میں داخل کیا تاکہ شیعوں، خوارج اور نواصب کے مقابلے میں اہلِ سنت کا ایک شعار (نعرہ یا علامت) بن جائے۔”

 اللآلئ البهية في شرح العقيدة الواسطية، صالح بن عبدالعزيز آل الشيخ، جلد 2، صفحہ 410

樂 سوال:
❓ جب آپ اہلِ بیت کے دشمنوں کے نام ذکر کرتے ہیں تو ان پر ترضی (یعنی "رضی اللہ عنہ” کہنا) کیوں کرتے ہیں؟
❓ عائشہ، عمر، ابوبکر، معاویہ، یزید، حرملہ اور شمر جیسے لوگوں کے بعد "رضی اللہ عنہ” کہنا کس دلیل پر ہے؟
حالانکہ آپ کے اپنے علما کے مطابق اس کا کوئی علمی یا شرعی پس منظر موجود نہیں۔
❓ شیعوں کے خلاف آپ کی دشمنی اتنی کیوں ہے کہ آپ دینِ خدا میں بدعت تک ایجاد کرنے کو تیار ہیں؟
اور ان لوگوں کے ناموں کو مقدس سمجھتے ہیں، حالانکہ آپ عصمت (گناہ سے پاک ہونے) کے عقیدے کو تسلیم نہیں کرتے۔

چنانچہ خود آپ کے مفتی "ابن باز” کہتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے نزدیک کوئی شخصیت "مقدس” نہیں:


 فإننا معاشر المسلمین لا نقدس الشخصیات، ولا ننساق وراء التیارات

(یعنی: ہم مسلمان کسی شخصیت کو مقدس نہیں مانتے، اور نہ ہی کسی دھارے یا گروہ کے پیچھے چلتے ہیں)

 اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

 الكتاب: الإمام محمد بن عبد الوهاب دعوته وسيرته
المؤلف: عبد العزيز بن عبد الله بن باز (ت ١٤٢٠هـ)
الناشر: الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد إدارة الطبع والترجمة
الطبعة: الثانية، ١٤١١هـ، جلد 1، صفحہ 4
https://shamela.ws/book/30914/3