بعض علماء نواصب کے نزدیک شراب پاک ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ اہلِ سنت کے بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ شراب نجس (ناپاک) نہیں بلکہ طاہر (پاک) ہے؟
اہلِ سنت کے علما جیسے البانی (جنہیں "ناصر السنّة” کہا جاتا ہے)، نواب صدیق حسن خان اور وحید الزمان نے صراحت سے لکھا ہے کہ شراب نجس نہیں بلکہ پاک ہے۔
حالانکہ قرآن و سنت سے شراب کی حرمت اور نجاست دونوں ثابت ہیں۔
نواب صدیق حسن خان نے اپنی کتاب الروضۃ الندیہ شرح درر البهیه میں لکھا ہے:
فتحریم الخمر والميتة والدم لا يدل على نجاسة ذلك.
> “شراب، مردار اور خون کی حرمت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ چیزیں ناپاک بھی ہیں۔”
الروضة الندية شرح درر البهية،صديق حسن خان،صفحه86

البانی نے اپنی کتاب تمام المنّة فی التعلیق على فقه السنّة میں لکھا ہے:
> “راجح (زیادہ درست) قول یہ ہے کہ شراب پاک ہے۔”
تمام المنّة فی التعلیق على فقه السنّة، صفحہ 55

اور وحید الزمان نے اپنی کتاب انزل الابرار من فقه النبی میں لکھا ہے:
الصحيح ان الخمر ليس بنجس۔
> “صحیح بات یہ ہے کہ شراب نجس نہیں ہے۔”
انزل الابرار من فقه النبی، صفحہ 9




