نکاح متعہ کی حلیت کا اعتقاد رکھنے والے صحابہ و تابعن اور فقھا
⚠️ نکاح متعہ کی حلیت کا اعتقاد رکھنے والے صحابہ و تابعن اور فقھا:
وَقَدْ ثَبَتَ عَلَى تَحْلِيلِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ جَمَاعَةٌ مِنَ السَّلَفِ، مِنْهُمْ مِنَ الصَّحَابَةِ: أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَسَلَمَةُ وَمَعْبَدُ أَبْنَاءُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَرَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ مُدَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَمُدَّةَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ إِلَى قُرْبِ آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ.
رسولِ خدا ﷺ کے بعد بعض سلف سے اس کے حلال ہونے پر ثبوت پایا جاتا ہے، جن میں صحابہ شامل ہیں جیسے: اسماء بنت ابی بکر صدیق، جابر بن عبد اللہ، ابن مسعود، ابن عباس، معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن حریث، ابو سعید خدری، سلمہ اور معبد فرزندانِ امیہ بن خلف۔
اور جابر بن عبد اللہ نے اس کے حلال ہونے کو تمام صحابہ سے رسولِ خدا ﷺ کے زمانے میں، ابوبکر کے دور میں اور عمر کے دورِ خلافت کے آخری حصے تک روایت کیا ہے۔
المحلّى لابن حزم، ج 9، ص 519
—
⚫️ ومن التابعين طاوس وعطاء وسعيد بن جبير وسائر فقهاء مكة
اور تابعین میں طاووس، عطا، سعید بن جبیر اور مکہ کے باقی فقہاء نے بھی اسے حلال قرار دیا ہے۔
المحلّى لابن حزم، ج 9، ص 520
—
⁉️ اب مسلکِ شرالبریہ ہمیں بتائیں، کیا وہ ان صحابہ و تابعین اور فقھاء مکہ کو بھی منحرف سمجھتے ہیں؟
#متعہ


