یحیی بن اکثم اہلسنت عالم دین لواط کا عادی
❌ یحییٰ بن اکثم اہلِ سنت کے فقہا میں سے ایک تھا اور بچہ بازی کرتا تھا۔
وہ اہل بیت علیہم السلام کا دشمن تھا اور امام جواد علیہ السلام کے ساتھ اس کی مناظرے مشہور ہیں۔ وہ اہل سنت کے اماموں اور بلند مرتبہ علما میں شمار ہوتا ہے۔ ابن کثیر اس کے بارے میں کہتا ہے:
🔹 «كان يحيى بن أَكْثَمَ من أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وعُلَماءِ النَّاسِ ومنَ المُعَظَّمِينَ للفِقْهِ.»
"یحییٰ بن اکثم اہل سنت کے اماموں، عوام کے علما اور فقہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا۔”
📚البدایة والنهایة، ج 10، ص 348
ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلاء کے حاشیے میں ابن کثیر سے یہی نقل کیا ہے کہ یحییٰ بن اکثم اہل سنت کے اماموں، عوام کے علما اور فقہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا۔
📚سیر اعلام النبلاء، ج12، ص10



—
ثعالبی کی نسبت (لواط کے بارے میں):
یہ شخص لواط کا مرتکب تھا۔ ثعالبی، جو اہل سنت کا عالم ہے، نے القاب پر ایک کتاب لکھی ہے اور اس میں لواط کے حوالے سے سب سے زیادہ مشہور شخص یحییٰ بن اکثم کو قرار دیا ہے اور کہتا ہے:
«لِوَاطُ يَحْيَى بْنِ أَكْثَمَ! أَصْلُهُ مِنْ مَرْوٍ، فَاتَّصَلَ بِالْمَأْمُونِ أَيَّامَ مَقَامِهِ بِهَا، فَاخْتَصَّ بِهِ، وَاسْتَوْلَى عَلَى قَلْبِهِ، وَصَحِبَهُ إِلَى بَغْدَادَ، وَمَحَلُّهُ مِنْهُ مَحَلُّ الْأَقَارِبِ أَوْ أَقْرَبُ، وَكَانَ مُتَقَدِّمًا فِي الْفِقْهِ وَآدَابِ الْقُضَاةِ، حَسَنَ الْعِشْرَةِ، عَذْبَ اللِّسَانِ، وَافِرَ الْحَظِّ مِنَ الْجِدِّ وَالْهَزْلِ، وَلَّاهُ الْمَأْمُونُ قَاضِيَ الْقُضَاةِ، وَأَمَرَ أَلَّا يُحْجَبَ عَنْهُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا، وَأَفْضَى إِلَيْهِ بِأَسْرَارِهِ، وَشَاوَرَهُ فِي مُهِمَّاتِهِ.»
"یحییٰ بن اکثم لواط کا مشہور شخص ہے۔ وہ مرو کا رہنے والا تھا اور مامون کے زمانے میں اس سے جُڑ گیا اور اس کا دل جیت لیا۔ پھر اس کے ساتھ بغداد آیا اور مامون کے قریبی ترین افراد میں شمار ہوا۔ وہ فقہ اور آداب قضاوت میں مشہور تھا، خوش مزاج اور خوش گفتار تھا، مذاق اور سنجیدگی دونوں میں ماہر تھا۔ مامون نے اسے قاضی القضاة مقرر کیا اور حکم دیا کہ دن رات میں جب چاہے وہ اس کے پاس آ سکتا ہے، اس کے ساتھ راز کی باتیں کرتا اور اہم امور میں اس سے مشورہ لیتا تھا۔”


🔺 «وَكَانَ يَحْيَى أَلْوَطَ مِنْ ثَفَرٍ وَمِنْ قَوْمِ لُوطٍ.»
"یحییٰ بن اکثم قومِ لوط کے لوگوں سے بھی زیادہ اس کام میں تھا۔”


نوجوانوں کو دیکھ کر کیفیت:
«وَكَانَ إِذَا رَأَى غُلَامًا يُفْسِدُهُ وَقَعَتْ عَلَيْهِ الرَّعْدَةُ، وَسَالَ لُعَابُهُ، وَبَرَقَ بَصَرُهُ! وَكَانَ لَا يَسْتَخْدِمُ فِي دَارِهِ إِلَّا الْمُرْدَ الْمِلَاحَ، وَيَقُولُ: قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى أَهْلَ جَنَّتِهِ بِأَنْ أَطَافَ عَلَيْهِمُ الْغِلْمَانُ فِي حَالِ رِضَاهُ عَنْهُمْ لِفَضْلِهِمْ عَلَى الْجَوَارِي، فَمَا بَالِي لَا أَطْلُبُ هَذِهِ الزُّلْفَى وَالْكَرَامَةَ فِي دَارِ الدُّنْيَا مَعَهُمْ؟»
"جب وہ کسی لڑکے کو دیکھتا جسے وہ بگاڑ سکتا تو اس پر کپکپی طاری ہو جاتی، اس کے منہ سے رال بہنے لگتی اور آنکھوں میں چمک آ جاتی۔ وہ اپنے گھر میں صرف خوش شکل نوجوانوں کو نوکری پر رکھتا اور کہتا تھا: اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کو اپنی رضا کی حالت میں خوش شکل لڑکے دیے ہیں جو ان پر گردش کرتے ہیں کیونکہ وہ لڑکیاں سے بہتر ہیں؛ تو پھر میں کیوں نہ دنیا میں یہ قربت اور کرامت حاصل کروں!”



مامون کے سامنے واقعہ:
«وَيُحْكَى أَنَّ الْمَأْمُونَ نَظَرَ يَوْمًا إِلَى يَحْيَى فِي مَجْلِسِهِ وَهُوَ يُحِدُّ النَّظَرَ إِلَى ابْنِ أَخِيهِ الْوَاثِقِ وَهُوَ إِذْ ذَاكَ أَمْرَدُ تَأْكُلُهُ الْعَيْنُ، فَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ وَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا. فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ الْكَلْبَ لَا يَأْكُلُ النَّارَ.»
"روایت ہے کہ ایک دن مامون نے دیکھا کہ یحییٰ اپنے دربار میں بیٹھا ہے اور مامون کے بھتیجے واثق کو گھور رہا ہے جو اس وقت خوبصورت اور بغیر داڑھی کا نوجوان تھا۔ مامون نے ہنس کر کہا: اے ابو محمد، ہمارے بجائے ادھر اُدھر دیکھو۔ اس پر یحییٰ نے جواب دیا: اے امیرالمؤمنین! کتا آگ نہیں کھا سکتا۔”
📚ثمار القلوب فی المضاف والمنسوب ج1 ص157 ش221


—
ابو حنیفہ کے بارے میں اسماعیل بن حماد کا جملہ:
«وَسَمِعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ يَوْمًا يَغُضُّ مِنْ جَدِّهِ فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا جَزَاؤُهُ مِنْكَ؟ قَالَ: حِينَ فَعَلَ مَاذَا؟ قَالَ: حِينَ أَبَاحَ الْمُسْكِرَ وَدَرَأَ الْحَدَّ عَنِ اللُّوطِيِّ.»
"ایک دن اسماعیل (ابو حنیفہ کا نواسہ) نے سنا کہ یحییٰ بن اکثم اس کے دادا کی برائی کر رہا ہے تو اس نے کہا: کیا یہی آپ کا میرے دادا کے ساتھ سلوک ہے؟ (یحییٰ نے کہا:) اس نے کیا کیا؟ اسماعیل نے کہا: اس نے شراب کو حلال کیا اور لواط کرنے والے پر حد ختم کی۔”
📚ثمار القلوب فی المضاف والمنسوب ج1 ص158 ش221

نوجوان کے آنے پر جواب دینے سے عاجز ہونا:
«مَضَيْتُ أَنَا وَدَاوُدُ الْأَصْبَهَانِيُّ إِلَى يَحْيَى بْنِ أَكْثَمَ، وَمَعَنَا عَشْرَةُ مَسَائِلَ، فَأَجَابَ فِي خَمْسَةٍ مِنْهَا أَحْسَنَ جَوَابٍ. وَدَخَلَ غُلَامٌ مَلِيحٌ، فَلَمَّا رَآهُ اضْطَرَبَ، فَلَمْ يَقْدِرْ يَجِيءْ وَلَا يَذْهَبْ فِي مَسْأَلَةٍ. فَقَالَ دَاوُدُ: قُمْ، اخْتَلَطَ الرَّجُلُ.»
"میں اور داود اصفہانی یحییٰ بن اکثم کے پاس گئے اور ہمارے ساتھ دس مسائل تھے۔ اس نے ان میں سے پانچ کا بہت اچھا جواب دیا۔ اسی دوران ایک خوش شکل نوجوان اندر آیا۔ جب یحییٰ کی نظر اس پر پڑی تو اس کا حال بگڑ گیا اور وہ نہ آ جا سکا اور نہ کسی سوال کا جواب دے سکا۔ داود نے کہا: اُٹھو، یہ آدمی پاگل ہو گیا ہے!”
📚سیر أعلام النبلاء ج12 ص10؛ تهذیب التهذیب ج11 ص160؛ تاریخ مدینة دمشق ج64 ص83
—


