امام یحیی بن معین کا عورتوں کو غلط نظر سے دیکھنا

جماعت عمریہ کے حدیث کے امیر المؤمنین اور امام الحرح والتعدیل کی یہ حالت تھی کہ وہ عورتوں پر گندی نظر رکھتے تھے اور اپنی اس حرکت کا تزکرہ دوسروں سے بھی کرتے تھے

وَقالَ الحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ: سَمِعْتُ ابْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: كُنْتُ بِمِصْرَ فَرَأَيْتُ جارِيَةً بِيْعَتْ بِأَلْفِ دِينَارٍ ما رَأَيْتُ أَحْسَنَ مِنْها صَلَّى اللهُ عَلَيْها. فَقُلْتُ: يا أبا زَكَرِيَّا مِثْلُكَ يَقُولُ هذا؟ قالَ: نَعَمْ، صَلَّى اللهُ عَلَيْها وَعَلى كُلِّ مَلِيحٍ.

اردو ترجمہ

اور حسین بن فہم کہتے ہیں: میں نے ابنِ معین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں مصر میں تھا تو ایک لونڈی دیکھی جو ایک ہزار دینار میں فروخت ہوئی تھی، میں نے اس سے زیادہ حسین (خوبصورت) کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ میں نے (تعجب سے) کہا: اے ابو زکریا! آپ جیسے بزرگ یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ اس پر اور ہر خوبصورت پر رحمت کرے۔

تاریخ الاسلام ج 5 ص 969

https://shamela.ws/book/35100/5617