والسابقون السابقون سے مراد علی بن ابی طالب
جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر در منثور میں لکھا ہے :
وأخرج ابن أبي حاتم ، وابن مردويه ، عن ابن عباس في قوله : { وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( الواقعة : 10 ) } قال : يوشع بن نون سبق إلى موسى ومؤمن آل يس سبق إلى عيسى ، وعلي بن أبي طالب (ع) سبق إلى رسول الله (ص).
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ھے کہ آیت والسابقون السابقون میں سبقت کرنے والوں سے مراد یوشع بن نون کی سبقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف،آل یس کی سبقت حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف اور حضرت علی علیہ السلام کی سبقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سبقت مراد ہے ۔
– …. وأخرج ابن مردويه ، عن ابن عباس في قوله : { وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( الواقعة : 10 ) } قال : نزلت في حزقيل مؤمن آل فرعون وحبيب النجار الذى ذكرني يس ، وعلي ابن أبي طالب (ع)وكل رجل منهم سابق أمته ، وعلي (ع) أفضلهم سبقا.
ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ والسابقون السابقون سے مراد حضرت حزقیل مومن آل فرعون،حبیب نجار جس کا تذکرہ سوری یس میں موجود ہے اور علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ۔ ان میں سے ہر اپنی امت میں سبقت کرنے والا ہے اور علی علیہ السلام ان سب سے افضل ہیں ۔
