رد شبھہ-حضرت فاطمہ زہرا (ص) حضرت علی(ع)سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تھیں

روایت : فلما أراد أن يزوجها من علي أسر إليها فقالت : يارسول الله أنت أولى بما ترى غير أن نساء قريش تحدثني عنه أنه رجل دحداح البطن ، طويل الذراعين ، ضخم الكراديس ، أنزع عظيم العينين والسكنة [ مشاشار كمشاشير البعير [١] ] ضاحك السن ، لا مال له.
https://lib.eshia.ir/11008/43/99
جواب:
یہ روایت معتبر ہے، اگرچہ مرفوع ہے۔ حضرت زہراؑ نے امیر المؤمنینؑ کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی تھیں، انہیں اس لیے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان باتوں کا ردّ ہو، اور امیر المؤمنینؑ کے فضائل و مناقب ثابت اور واضح ہوں۔ اس پورے واقعے کو ایک روایتی قالب میں پیش کیا گیا ہے، جسے آنے والی نسلیں نقل کرتی رہیں۔ یہ دراصل تمثیل اور تصویر کشی کے انداز میں بیان ہے۔ اصل مقصد وہ مضمون ہے جو روایت کے اگلے حصے میں آیا ہے، اور وہ یہ ہے:
رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہؑ سے فرمایا:
’’اے فاطمہ! کیا تم نہیں جانتیں کہ اللہ نے دنیا کی طرف توجہ فرمائی اور تمام عالم کے مردوں میں سے مجھے نبی کے طور پر منتخب فرمایا۔ پھر دوسری مرتبہ توجہ فرمائی اور تمام عالم کے مردوں میں سے علی کو میرے وصی کے طور پر منتخب فرمایا۔ پھر توجہ فرمائی اور تمہیں تمام عالم کی عورتوں میں سے منتخب فرمایا۔
اے فاطمہ! جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو میں نے بیت المقدس کی ایک چٹان پر لکھا ہوا دیکھا:
’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں، میں نے اپنے وزیر کے ذریعے ان کی تائید کی اور اپنے وزیر کے ذریعے ان کی مدد کی۔‘
میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا: ’میرا وزیر کون ہے؟‘
انہوں نے کہا: ’علی بن ابی طالب۔‘
پھر جب میں سدرة المنتہیٰ تک پہنچا تو میں نے وہاں لکھا ہوا دیکھا:
’بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد میرے حبیب اور میری مخلوق میں میرے برگزیدہ ہیں۔ میں نے اپنے وزیر کے ذریعے ان کی تائید کی اور اپنے وزیر کے ذریعے ان کی مدد کی۔‘
میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا: ’میرا وزیر کون ہے؟‘
انہوں نے کہا: ’علی بن ابی طالب۔‘
پھر جب میں سدرة المنتہیٰ سے آگے گزرا اور پروردگارِ عالم کے عرش تک پہنچا تو میں نے عرش کے ہر ستون پر لکھا ہوا دیکھا:
’میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد میرے حبیب ہیں، میں نے اپنے وزیر کے ذریعے ان کی تائید کی اور اپنے وزیر کے ذریعے ان کی مدد کی۔‘
پھر جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جنت میں طوبیٰ کا درخت دیکھا، جس کی جڑ علی کے گھر میں ہے۔ جنت میں کوئی محل یا گھر ایسا نہیں جس میں اس درخت کی کوئی شاخ نہ ہو۔
اس درخت کی بلندی پر سندس اور استبرق کے ریشمی لباسوں کے صندوق ہیں۔ ایک مومن بندے کے لیے ایک ہزار ہزار، یعنی دس لاکھ صندوق ہوں گے، اور ہر صندوق میں ایک لاکھ جوڑے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی لباس دوسرے لباس کے مشابہ نہیں ہوگا بلکہ مختلف رنگوں کے ہوں گے۔ یہی اہلِ جنت کے لباس ہیں۔
اس درخت کے درمیان ایسا پھیلا ہوا سایہ ہے جو آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ سوار اس سائے میں سو سال تک سفر کرتا رہے گا مگر اسے پار نہیں کر سکے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’اور پھیلا ہوا سایہ۔‘
اس درخت کے نیچے اہلِ جنت کے پھل اور کھانے ہیں، جو ان کے گھروں میں جھکے ہوئے اور آسانی سے دستیاب ہوں گے۔ اس کی ایک شاخ میں سو قسم کے پھل ہوں گے؛ ان میں کچھ وہ ہوں گے جنہیں تم نے دنیا میں دیکھا ہے اور کچھ وہ جنہیں نہ تم نے دیکھا، نہ ان کے بارے میں سنا ہے۔ ان جیسی کوئی چیز نہ ہوگی۔
جب اس درخت سے کوئی پھل توڑا جائے گا تو اس کی جگہ دوسرا پھل پیدا ہوجائے گا۔ نہ وہ پھل ختم ہوں گے اور نہ ان سے کسی کو روکا جائے گا۔
اس درخت کی جڑ میں ایک نہر جاری ہوگی، جس سے چار نہریں پھوٹیں گی: ایک ایسے پانی کی نہر جس میں کوئی تغیر نہ آیا ہوگا، ایک دودھ کی نہر جس کا ذائقہ نہیں بدلا ہوگا، ایک شراب کی نہر جو پینے والوں کے لیے لذت بخش ہوگی، اور ایک خالص شہد کی نہر۔
اے فاطمہ! اللہ نے علی کو آخرت میں سات خصوصیات عطا فرمائی ہیں:
1۔وہ سب سے پہلے شخص ہوں گے جو میرے ساتھ قبر سے باہر آئیں گے۔
2۔وہ سب سے پہلے شخص ہوں گے جو میرے ساتھ صراط پر کھڑے ہوں گے، اور جہنم سے کہیں گے: ’اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو۔‘
3۔جب مجھے لباس پہنایا جائے گا تو وہ سب سے پہلے لباس پہننے والے ہوں گے۔
4۔وہ سب سے پہلے میرے ساتھ عرش کے دائیں جانب کھڑے ہوں گے۔
5۔وہ سب سے پہلے میرے ساتھ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
6۔وہ سب سے پہلے میرے ساتھ علیین میں سکونت اختیار کریں گے۔
7۔وہ سب سے پہلے میرے ساتھ مہر لگی ہوئی شراب پئیں گے، جس کی مہر مشک کی ہوگی۔ اور اسی کے حصول میں کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے۔
اے فاطمہ! یہ وہ چیزیں ہیں جو اللہ نے علی کو آخرت میں عطا فرمائی ہیں اور ان کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبکہ دنیا میں ان کے پاس مال نہیں تھا۔
جہاں تک تمہاری یہ بات ہے کہ وہ ’بطین‘ یعنی بڑے پیٹ والے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علم سے بھرپور ہیں؛ اللہ نے انہیں یہ علم خصوصی طور پر عطا کیا اور میری امت میں انہیں یہ فضیلت دے کر عزت بخشی۔
اور جہاں تک تم نے کہا کہ وہ ’أنزع، عظیم العینین‘ یعنی کشادہ پیشانی اور بڑی آنکھوں والے ہیں، تو اللہ نے انہیں حضرت آدمؑ کی صفت و ساخت پر پیدا فرمایا ہے۔
اور جہاں تک ان کے لمبے ہاتھوں کا تعلق ہے، تو اللہ نے ان کے ہاتھ اس لیے لمبے کیے کہ وہ ان کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کو قتل کریں۔ انہی کے ذریعے اللہ دین کو غالب کرے گا، اگرچہ مشرکوں کو یہ ناگوار ہو۔
انہی کے ذریعے اللہ فتوحات عطا کرے گا۔ وہ مشرکین سے قرآن کے نزول کے مطابق جنگ کریں گے، اور اہلِ بغاوت، عہد شکنی اور فسق و فجور پر مشتمل منافقین سے قرآن کی تاویل کے مطابق جنگ کریں گے۔
اور اللہ ان کے صلب سے جنت کے جوانوں کے دونوں سرداروں کو پیدا کرے گا، اور انہی دونوں کے ذریعے اپنے عرش کو زینت دے گا۔
اے فاطمہ! اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا، اس کی اولاد اسی کے صلب سے قرار دی، لیکن میری اولاد علی کے صلب سے قرار دی۔ اگر علی نہ ہوتے تو میری کوئی اولاد نہ ہوتی۔
اس پر حضرت فاطمہؑ نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ! میں روئے زمین کے لوگوں میں علی کے مقابلے میں کسی دوسرے شخص کو اختیار نہیں کروں گی۔‘‘
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح علیؑ سے کردیا۔‘‘
(تفسیر قمی، جلد 2، صفحہ 336)
روایت میں مذکور صفات میں کوئی عیب نہیں ہے، جیسا کہ جاہل لوگ گمان کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض صفات خود رسول اللہ ﷺ کے لیے بھی بیان ہوئی ہیں، حتیٰ کہ اہلِ خلاف کے بعض مصادر میں بھی ان کا ذکر موجود ہے۔
چنانچہ ترمذی نے روایت کیا ہے:
لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطويل ولا بالقصير، شثن الكفين والقدمين، ضخم الرأس، ضخم الكراديس
’’رسول اللہ ﷺ نہ بہت زیادہ لمبے قد کے تھے اور نہ پست قد؛ آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں مضبوط اور قدرے موٹے تھے، آپ کا سر بڑا تھا اور آپ کے جسم کے جوڑوں کی ہڈیاں بڑی تھیں۔‘‘
الكتاب: الجامع الكبير (سنن الترمذي)
المؤلف: أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي (ت ٢٧٩ هـ)
حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: بشار عواد معروف
الناشر: دار الغرب الإسلامي – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٩٩٦ م ،ج 6 ص 26



Post Comment