صحیح بخاری کی باطل روایات-عائشہ سے مجاہد کی منقطع روایت
فہرست:
ناصبیوں نے اہل بیت علیہم السلام کے فضائل و مناقب کو پوشیدہ رکھنے کے لئے مختلف اصول وضع کئے ہیں اور صاف ستھری سندوں میں بھی کوئی نہ کوئی عیب نکالنے کی ناکام کوشش کرتے ہی رہتے ہیں۔
مگر جب بات بخاری کی روایات کی آجائے تو یہ گروہ اپنے ہی بنائے ہوئے تمام اصول اپنے ہی قدموں سے روند ڈالتے ہیں۔
ایک طرف تو یہ گروہ سند حدیث کو دین میں شمار کرتا ہے چنانچہ مسلم نے اپنی فرضی صحیح کے مقدمے میں باب باندھا ہے :
سند کی اہمیت:
"بَابُ في أَنَّ الْإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ وأن الرواية لا تكون إلا عن الثقات وأن جرح الرواة بما هو فيهم جائز بل واجب وأنه ليس من الغيبة المحرمة بل من الذب عن الشريعة المكرمة”۔
باب : اسناد دین میں سے ہے،اور روایت صرف معتبر سے ہوگی،اور راویوں پر تنقید کرنا جائزہے بلکہ واجب ہے ،یہ غیبت محرمہ نہیں ہے ،بلکہ یہ شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ هِشَامٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ»
محمد بن سیرین نے کہا کہ یہ علم دین ہے تو دیکھو کس شخص سے تم دین حاصل کرتے ہو (یعنی ہر شخص کا اس میں اعتبار نا کرو جو سچا د،دیندار اور معتبر ہو اسی سے علم دین حاصل کرنا ضروری ہے)۔




وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»
عبداللہ بن مبارک کہتا تھا:اسناد،دین میں داخل ہے اور اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہ ڈالتا۔
وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: «بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ» يَعْنِي الْإِسْنَادَ
عبداللہ بن مبارک نے کہا:ہمارے اور لوگوں کے درمیان پائے ہیں یعنی اسناد(جیسے جانور بغیر پاوں کے تھم نہیں ہو سکتے ویسے ہی حدیث بغیر سند کے جم نہیں سکتی)۔
وقَالَ مُحَمَّدٌ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَى الطَّالْقَانِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ «إِنَّ مِنَ الْبِرِّ بَعْدَ الْبِرِّ أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْكَ مَعَ صَلَاتِكَ، وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِكَ». قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، عَمَّنْ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ فَقَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ قَالَ؟ قُلْتُ: عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ قَالَ؟ ” قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ۔
ابو اسحاق (ابراہیم بن عیسیٰ)نے کہا:میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا :ائے عبدالرحمٰن !یہ حدیث کیسی ہے جو روایت کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے "نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو نماز پڑھے اپنے ماں باپ کے لئے اپنی نماز کے بعد اور روزہ رکھے ان کے لئے اپنے روزے کے ساتھ "۔اس نے کہا:ائے ابو اسحاق یہ حدیث کون روایت کرتا ہے ؟میں نے کہا شہاب بن خراس ۔ا س نے کہا وہ تو ثقہ ہے،پھر اس نے کہا :وہ کس سے روایت کرتا ہے ؟میں نے کہا:حجاج بن دینار سے ۔اس نے کہا :وہ بھی ثقہ ہے ،پھر اس نے کہا :وہ کس سے روایت کرتا ہے؟میں نے کہا:وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا۔عبداللہ نے کہا:ائے ابو اسحاق!ابھی تو حجاج سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اتنے بڑے بڑے جنگل باقی ہیں کہ ان کے طئے کرنے کے لئے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں ،البتہ صدقہ دینے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔





6 بَابُ الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الْأَخْبَارِ وَقَوْلُ الْأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
وَقَالَ مُحَمَّدٌ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهُ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ: «دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبَّ السَّلَفَ»
باب : حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں کیونکہ دین کی ضرورت ہے جیسے گواہوں کا حال بیان کرنا درست ہے اور حدیث کے اماموں نے ایسا کہا ہے۔
۳۳:عبداللہ بن مبارک لوگوں کے سامنے کہتے تھے کہ چھوڑ دو روایت کرنا عمرو بن ثابت سے کیونکہ وہ سلف کو گالیاں دیتا تھا۔




عبد الفتاح أبو غدہ نے بھی ابن مبارک کا قول نقل کیا ہے :
"ﻣﺜﻞ ﺍﻟﺬﯼ ﯾﻄﻠﺐ ﺍٔﻣﺮ ﺩينه ﺑﻼ ﺍﺳﻨﺎﺩ ﮐﻤﺜﻞ ﺍﻟﺬﯼ ﯾﺮﺗﻘﯽ ﺍﻟﺴﻄﺢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻠﻢ”۔
جو شخص اپنے دین کو بغیر سند کے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ایسے شخص کی مانند ہے جو بغیر کسی سیڑھی کے چھت پر چڑھنا چاہتا ہے۔
الإسناد من الدين وصفحة مشرقة من تاريخ سماع الحديث عند المحدثين,دار البشائر الاسلامية,الطبعة الثالثة – 1435ه 2014م, ص 19




اگر سند کی اہمیت پر کتب نواصب سے اقوال نقل کئے جائیں تو کتاب مرتب ہو جائے ہم اختصار کے سبب ان ہی چند اقوال پر اکتفا کرتے ہیں۔
ایک طرف تو سند کو دین میں شمار کرنا اور دوسری طرف بے سند روایات کو بھی دین شمار کرنا بلکہ ان بے سند روایات کے منکر کو منکر حدیث، ملحد، وغیرہ وغیرہ القاب سے نوازنا یہ اس گروہ کے ذہنی مریض اور اندھے مقلد ہونے کی دلیل ہے۔
ایسی ہی دو روایات کا ذکر اس مختصر مضمون میں کیا گیا ہے جو بے سند ہیں مگر ناصبیوں کے یہاں دین میں شمار ہوتی ہیں، ان کا منکر، منکر حدیث، ملحد وغیرہ کے القابات سے نوازا جاتا ہے ۔
صحیح بخاری کی منقطع روایت:
بخاری روایت کرتا ہے :
1393 – حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا» وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ القُدُّوسِ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، وَابْنُ عَرْعَرَةَ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ،اس نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا،اس سے اعمش نے بیان کیا،ان سے مجاہد نے بیان کیا اور اس نے عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں کو گالیاں مت دو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا ۔اس روایت کی متابعت علی بن جعد ،محمد بن عروہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔
ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ،97 ﺑَﺎﺏُ ﻣَﺎ ﻳُﻨْﻬَﻰ ﻣِﻦْ ﺳَﺐِّ ﺍﻷَﻣْﻮَﺍﺕِ ،حدیث نمبر 1393




اسی روایت کو مقرر نقل کیا ہے:
6516 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا»
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ،کہا ہم کو شعبہ نب حجاج نے خبر دی،انہیں اعمش نے،انہیں مجاہد نے اور ان سے عائشہ نے بیان کیاکہ بنی کریم ؐ نے فرمایا:”جو لوگ مر گئے ہیں ان کو گالیاں مت دو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں،انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا”۔
ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟﺮِّﻗَﺎﻕِ،42 ﺑَﺎﺏُ ﺳَﻜَﺮَﺍﺕِ ﺍﻟْﻤَﻮْﺕِ ،حدیث نمبر 6516




مجاہد نے عائشہ سے نہیں سنا:
جیسا کہ سند میں ذکر ہے عائشہ سے روایت کرنے والا مجاہد ہے ،ہمارے علم میں اس روایت کو مجاہد کے علاوہ کسی نے بھی عائشہ سے روایت نہیں کیا، اور مجاہد نے عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا اس امر کی وضاحت ائمہ اہل سنت نے کی ہے جو علم علل حدیث میں اپنی مثال آپ سمجھے جاتے ہیں۔
قال الدوري سمعت يحيى يقول قال يحيى بن سعيد القطان لم يسمع مجاهد من عائشة، قال ابو حاتم الرازي سمعت يحيى بن معين يقول لم يسمع مجاهد من عائشة
دوری نے کہا میں نے یحیی بن معین سے سنا اس نے کہا کہ یحیی بن سعید قطان نے کہا مجاہد نے عائشہ سے نہیں سنا۔
ابو حاتم رازی نے کہا میں نے یحیی بن معین سے سنا اس نے کہا کہ مجاہد نے عائشہ سے نہیں سنا۔
الكتاب : موسوعة أقوال يحيى بن معين في رجال الحديث وعلله
جمعها وحققها : الدكتور بشار عواد معروف ، وجهاد محمود محمد خليل، و محمود محمد خليل,الطبعة : الأولى ، 1430 هـ ,الناشر : دار الغرب الإسلامي,ج 4 ص 128

علائ لکتھا ہے:
٧٣٦ – مجاهد بن جبر أحد أئمة التابعين قال يحيى بن سعيد لم يسمع مجاهد من عائشة رضي الله عنها وسمعت شعبة ينكر أن يكون سمع منها وتبعهما على ذلك يحيى بن معين وأبو حاتم الرازي
یحیی بن سعید نے کہا مجاہد نے عائشہ سے نہیں سنا، اور میں نے شعبہ سے سنا کہ وہ (مجاہد کی عائشہ سے سماعت کا ) منکر تھا اور ان دونوں کی متابعت یحیی بن معین و ابو حاتم رازی نے کی ہے .
الكتاب: جامع التحصيل في أحكام المراسيل
المؤلف: صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (ت ٧٦١ هـ)
المحقق: حمدي عبد المجيد السلفي [ت ١٤٣٣ هـ]
الناشر: عالم الكتب – بيروت
الطبعة: الثانية، ١٤٠٧ – ١٩٨٦, ص 273
https://shamela.ws/book/25864/920



خلاصہ یہ کہ، ابن قطان، شعبہ، ابن معین، ابو حاتم رازی کی تحقیق کے مطابق مجاہد نے عائشہ سے حدیث کی سماعت نہیں کی مجاہد و عائشہ کے درمیان واسطہ ہے جس کا علم نہیں اس صورت میں یہ روایات منقطع ہیں جن سے استدلال باطل ہے، اب یا تو یہ کہ بخاری کو علت کا علم نہیں تھا جو اس نے منقطع روایات کو متصل سمجھ لیا ،سوال پیدا ہوتا ہے کہ جسے خود اپنی نقل کردہ روایات کا ہی علم نہ ہو اس کی تصحیح کا کیا اعتبار، یا یہ کہ سند کے منقطع ہونے کا علم تھا مگر اس کو مخفی کر کے خیانت کا مرتکب ہوا۔
بہر حال دونوں روایات باطل و مردود ہیں ۔



Post Comment