خوف ابنیاء اور اولیاء خدا کی سنت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشرکین مکہ سے اپنی جان کی خوف سے غیبت اور ہجرت:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «وَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللهِ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ فَمَكَرَتْ بِهِ وَأَرَادُوا بِهِ مَا أَرَادُوا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَبِيتَ فِي مَكَانَهُ الَّذِي كَانَ يَبِيتُ فِيهِ، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وآله وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَبِيتَ عَلَى فِرَاشِهِ، وَيَتَسَجَّى بِبُرْدٍ لَهُ أَخْضَرَ فَفَعَلَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ وَهُمْ عَلَى بَابِهِ وَخَرَجَ مَعَهُ بِحَفْنَةٍ مِنْ تُرَابٍ فَجَعَلَ يَذَرُّهَا عَلَى رؤوسهم، وَأَخَذَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَبْصَارِهِمْ عَنْ نَبِيِّهِ وَهُوَ يَقْرَأُ: يَس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ- إِلَى قَوْلِهِ- فَأَغْشَيْناهُمْ [ (٩) ] فَهُمْ لا يُبْصِرُونَ [ (١٠) ] وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَا يُؤَكِّدُ هٰذَا.(سیرت ابن ھشام میں)
🌼 اردو ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ اللہ کے حکم کے انتظار میں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جب قریش جمع ہوئے اور انہوں نے آپ کے خلاف سازش کی اور جو کرنا چاہتے تھے وہ کرنے کا ارادہ کیا، تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور آپ کو حکم دیا کہ آپ اس جگہ رات نہ گزاریں جہاں آپ پہلے گزارتے تھے۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالبؑ کو بلایا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر سو جائیں، اور آپ کی سبز چادر اوڑھ لیں، پس انہوں نے ایسا ہی کیا۔
پھر رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کے پاس سے نکلے جبکہ وہ آپ کے دروازے پر تھے، اور آپ کے ہاتھ میں مٹی کی ایک مٹھی تھی، جسے آپ نے ان کے سروں پر ڈالا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو اپنے نبی سے پھیر دیا، جبکہ آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے:
“یس، اور قرآنِ حکیم کی قسم… یہاں تک کہ (یہ فرمان) ‘پھر ہم نے ان پر پردہ ڈال دیا، پس وہ نہیں دیکھتے’ تک۔”
الكتاب: دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة
المؤلف: أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي (٣٨٤ – ٤٥٨ هـ)
وثق أصوله وخرج حديثه وعلق عليه: د عبد المعطي قلعجي
الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان
الطبعة: الأولى، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م، ج 2 ص 470
https://shamela.ws/book/7478/991#p1




حضرت موسی علیہ السلام کو دشمن سے اپنی جان کا خوف:
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورہ طہ کی آیت جس میں پروردار عالم نے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام علیہ السلام سے کہا کہ مت ڈرو ،جب پروردگار عالم نے ان سے کہا تھا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جاو وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔
لکھتے ہیں:
{ قَالَ لَا تَخَافَاۤۖ إِنَّنِی مَعَكُمَاۤ أَسۡمَعُ وَأَرَىٰ }
[Surah Ṭā-Hā: 46]
وَهَذِهِ الْآيَةُ تَرُدُّ عَلَى مَنْ قَالَ: إِنَّهُ لَا يَخَافُ؛
وَالْخَوْفُ مِنَ الْأَعْدَاءِ سُنَّةُ اللَّهِ فِي أَنْبِيَائِهِ وَأَوْلِيَائِهِ
مَعَ مَعْرِفَتِهِمْ بِهِ وَثِقَتِهِمْ.
🌿 اردو ترجمہ:
اور یہ آیت اس شخص کی بات کو رد کرتی ہے جو کہتا ہے کہ (نبی یا ولی کو) خوف نہیں ہوتا۔
حالانکہ دشمنوں سے خوف ہونا اللہ کی سنت ہے، جو اس کے انبیاء اور اولیاء میں جاری رہی ہے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ کو پہچانتے ہیں اور اس پر مکمل بھروسا رکھتے ہیں۔
الكتاب: الجامع لأحكام القرآن
المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن أحمد الأنصاري القرطبي
تحقيق: أحمد البردوني وإبراهيم أطفيش
الناشر: دار الكتب المصرية – القاهرة
الطبعة: الثانية، ١٣٨٤ هـ – ١٩٦٤ م،ج 11 ص 202
https://shamela.ws/book/20855/4341





مرکز فتوی اسلام ویب(islamweb): حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون سے خوف تھا
جَاءَ فِي مَرْكَزِ الْفَتْوَى رَقْمُ الْفَتْوَى: ٦٣٤٧٤:
«وَسَبَبُ خَوْفِ مُوسَىٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ فِرْعَوْنَ أَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ يُرِيدُونَ قَتْلَهُ عُقُوبَةً عَلَىٰ قَتْلِهِ لِلْقِبْطِيِّ.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
﴿وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ﴾
[القصص: ٢٠–٢١]
🌙 اردو ترجمہ:
فتویٰ مرکز میں فتویٰ نمبر 63474 میں آیا ہے:
"حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے جو خوف تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ فرعون اور اس کے درباری انہیں قبطی کو قتل کرنے کی سزا کے طور پر قتل کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
‘اور شہر کے آخری حصے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے موسیٰ! بے شک سردار تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر دیں، پس تم یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ پھر موسیٰ وہاں سے خوف زدہ ہو کر نکلے اور ڈرتے ڈرتے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے جا رہے تھے۔’”
https://www.google.com/amp/s/www.islamweb.net/amp/ar/fatwa/63474

