عمر بن خطاب کا باحجاب عورتوں کو کوڑے مارنا

✅ عمر بن خطاب اور محجّبہ عورتوں کو مارنا؟

🖇 کیا یہ بات درست نہیں کہ اسلام کا حکم ہے کہ عورتیں پردہ اختیار کریں اور یہ کہ شریعتِ اسلامیہ میں عورتوں کے لئے ایک مخصوص قانون حجاب ہے؟

اگر ایسا ہے تو پھر کیوں اہلِ سنت کے خلیفہ، جو خود کو رسول اللہ ﷺ کا جانشین کہتا ہے، اُن عورت کو جو باپردہ ہیں مارتا ہے؟

کیوں خلیفہ اپنی باندیوں کو حجاب اُتارنے کا حکم دیتا تھا؟

🔻سرخسی، جو حنفی مذہب کے مشہور علما میں سے ہیں، اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:

🔸  عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – إذَا رَأَى أَمَةً مُتَقَنِّعَةً عَلَاهَا بِالدُّرَّةِ وَقَالَ: أَلْقِ عَنْك الْخِمَارَ يَا دِفَارِ وَقَالَ عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – إنَّ الْأَمَةَ أَلْقَتْ قُرُونَهَا مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ أَيْ لَا تَتَقَنَّعُ قَالَ أَنَسٌ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: كُنَّ جِوَارِي عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – يَخْدُمْنَ الضِّيفَانَ كَاشِفَاتِ الرُّءُوسِ مُضْطَرِبَاتِ الْبَدَنِ وَلِأَنَّ الْأَمَةَ تَحْتَاجُ إلَى الْخُرُوجِ لِحَوَائِجِ مَوْلَاهَا وَإِنَّمَا تَخْرُجُ فِي ثِيَابِ مِهْنَتِهَا وَحَالُهَا مَعَ جَمِيعِ الرِّجَالِ فِي مَعْنَى الْبَلْوَى بِالنَّظَرِ وَالْمَسِّ كَحَالِ الرَّجُلِ فِي ذَوَاتِ مَحَارِمِهِ.

🔸”عمر رضی اللہ عنہ جب کسی باندی کو دیکھتے کہ وہ نقاب یا روسری اوڑھے ہوئے ہے تو اُس پر درّہ مارتے اور کہتے:

‘اے بدبو دار! اپنی اوڑھنی اتار دو۔’

اور فرماتے تھے: ‘باندی کو چاہئے کہ اپنے گیسو دیوار کے پیچھے نہ ڈالے (یعنی نقاب نہ کرے)۔’

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ‘عمر رضی اللہ عنہ کی باندیاں مہمانوں کی خدمت کرتی تھیں اس حالت میں کہ ان کے سر ننگے ہوتے اور بدن ہلتا رہتا، اور وہ عام کام کے کپڑوں میں باہر نکلا کرتی تھیں تاکہ اپنے مالک کا کام کریں، اور لوگوں کا ان کے ساتھ نظر و لمس کے معاملے میں وہی حال تھا جیسا کہ محارم کے ساتھ ہوتا ہے، صرف پشت اور پیٹ کو دیکھنے کی ممانعت تھی، جیسا کہ محارم کے بارے میں بھی یہی حکم ہے’۔”

📚 المبسوط، ج 10، ص 151،مصنف: محمد بن احمد بن ابی سهل شمس الأئمہ السرخسی (متوفی 483ھ)، ناشر: دارالمعرفہ – بیروت، سن اشاعت: 1414ھ / 1993م، مجموعہ: 30 جلدیں

🌐 http://lib.efatwa.ir/43796/10/151

🌐http://shamela.ws/browse.php/book-5423/page-1813#page-2156

⭕️ باحجاب خواتین کے متعلق عمر بن خطاب کا کفر آمیز عقیدہ:

🔻محمد ناصر الألبانی، جسے وہابی لوگ “بخاریِ دوراں” کہتے ہیں، اپنی کتاب إرواء الغلیل میں اس بارے میں لکھتے ہیں:

🔵1796. قال ابن المنذر: ثبت «أن عمر قال لأمة رآها متقنعة: اكشفي رأسك ولا تشبهي بالحرائر وضربها بالدرة »

صحيح. أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف ( 2 / 82 / 1 ) .

🔵1796. ابن منذر نے کہا:

"یہ بات ثابت ہے کہ عمر نے ایک باندی سے کہا جو مقنعہ اوڑھے ہوئے تھی:

‘اپنا سر کھول دو اور خود کو آزاد عورتوں سے مشابہ نہ کرو’ اور اُس کو درّہ مارا۔”

📍یہ روایت ابن ابی شیبہ نے مصنف (2/82/1) میں نقل کی ہے اور یہ صحیح ہے۔

🔻مزید لکھتے ہیں:

🔷حدثنا وكيع، قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال: ” رأى عمر أمة لنا مقنعة، فضربها وقال: لا تشبهين بالحرائر ".👈🏻 قلت: وهذا إسناد صحيح.

🔷”ہمیں وکیع نے حدیث سنائی، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس سے، کہا:

عمر نے ہماری ایک باندی کو دیکھا جو مقنعہ اوڑھے ہوئے تھی، تو اسے مارا اور کہا: خود کو آزاد عورتوں کے ساتھ مشابہ نہ کرو۔”

📍میں (البانی) کہتا ہوں: اسناد صحیح ہے۔

🔻نیز لکھتے ہیں:

🔹حدثنا علي بن مسهر عن المختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال: ” دخلت على عمر بن الخطاب أمة قد كان يعرفها لبعض المهاجرين أو، الأنصار، وعليها جلباب متقنعة به، فسألها: عتقت؟ قالت: لا: قال: فما بال الجلباب؟! ضعيه عن رأسك، إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين، فتلكأت، فقام إليها بالدرة، فضرب بها رأسها حتى ألقته عن رأسها ".👈🏻 قلت: وهذا سند صحيح على شرط مسلم

🔹”ہمیں علی بن مسہر نے حدیث سنائی، انہوں نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے انس بن مالک سے کہا:

‘میں نے دیکھا کہ ایک باندی، جو مہاجرین یا انصار میں سے کسی کی تھی، جلباب اوڑھے ہوئے عمر کے پاس آئی۔ عمر نے پوچھا: کیا تم آزاد ہو گئی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ عمر نے کہا: تو پھر یہ جلباب کیا ہے؟! اسے اپنے سر سے اتار دو؛ یہ تو صرف مؤمن عورتوں کی آزاد خواتین کے لئے ہے۔

وہ (باندی) تھوڑا سا رکی تو عمر اپنی جگہ سے اٹھے اور درّہ لے کر اس کے سر پر مارا یہاں تک کہ اس نے وہ (اوڑھنی) اتار دی’۔”

📍میں (البانی) کہتا ہوں: یہ سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

📚 إرواء الغلیل فی تخریج أحادیث منار السبیل، ج 6، ص 203–204

مصنف: محمد ناصر الدین الألبانی (متوفی 1420ھ)، ناشر: المکتب الاسلامی – بیروت، ط2، 1405ھ / 1985م، 9 جلدیں

http://shamela.ws/browse.php/book-22592/page-2084

♻️ فیصلہ بیدار ضمیروں پر ہے:

کیا ایسا شخص رسول اللہ ﷺ کا جانشین بننے کے قابل ہے؟

جو اسلام کے قوانین کو توڑتا ہو؟

کون سا عقل مند اور منصف خلفا کی سنت کو رسول اللہ ﷺ کی سنت پر ترجیح دے سکتا ہے؟