عمر بن خطاب کا نماز کی حالت میں شرم گاہ کو چھونا
عمر نماز جماعت میں اپنے جنسی عضو کو چھو بیٹھا‼️
◀️ بیہقی نے اپنی کتاب «معرفة السنن والآثار» میں معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت نقل کی ہے:
1038 – قال: وأخبرنا مسلم، وسعيد، عن ابن جريج، عن ابن أبي مليكة، أن عمر بن الخطاب، بينا هو يؤم الناس أحسبه، قال: قد صلى ركعة أو أكثر [ص:393] إذ زلت يده على ذكره فأشار إلى الناس: أن امكثوا، ثم خرج فتوضأ ثم رجع فأتم بهم ما بقي من الصلاة .
(حدیث نمبر 1038)
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں:
“ایک دن عمر بن خطاب نماز جماعت پڑھا رہے تھے — میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک یا اس سے زیادہ رکعت پڑھ لی تھی — کہ اچانک ان کا ہاتھ ان کے شرم گاہ پر جا لگا۔
پھر انہوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ رک جائیں (انتظار کریں)،
پھر وہ نماز سے نکل گئے، وضو کیا، اور واپس آکر باقی نماز ان کے ساتھ مکمل کی۔”
معرفة السنن والآثار للبيهقي، ج 1، ص 392، حدیث 1038
http://shamela.ws/browse.php/book-2863#page-348






روایت کے تمام راوی بخاری اور مسلم کے ثقہ راوی ہی،
اس لیے اہلِ سنت کے معیار کے مطابق روایت بالکل صحیح ہے۔
✅ تاہم مزید اطمینان کے لیے ہر راوی کی رجالی حیثیت بھی درج کی جاتی ہے:
2/1 ) مسلم بن خالد بن سعيد الزنجي : صدوق كثير الأوهام .
http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=7465
2/2 ) سعيد بن سالم الكوفي : صدوق حسن الحديث .
http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=3332
2 ) عبد الملك بن عبد العزيز (ابن جريج) : ثقة .
http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5223
3 ) عبد الله بن أبي مليكة القرشي : ثقة .
http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=4932
4 ) عمر بن الخطاب العدوي : صحابي .
http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5913
مسلم اور سعید دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے،
اور چونکہ ان میں سے ہر ایک اہلِ سنت کے نزدیک ثقہ ہے،
لہٰذا یہ روایت بخاری و مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔
حیرت کی بات ہے!
ایک شخص نماز جیسی حالت میں بھی اپنی شہوت پر قابو نہ رکھ سکا،
اور افسوس کہ اہلِ سنت نے ایسے انسان کو رسولِ خدا ﷺ کے مقام و منصب پر بٹھا دیا!

