صحيح بخاری کا  ایک کذاب و وضاع راوی

ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ، ﻭﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺧﻴﺮ ﺧﻠﻘﻪ ﻭﺃﻓﻀﻞ ﺑﺮﻳﺘﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻋﺘﺮﺗﻪ ﺍﻟﻄﺎﻫﺮﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻠﻌﻦ الدائم ﻋﻠﻰ ﺃعدﺍﺋﻬﻢ ﺃﺟﻤﻌﻴﻦ ﺇﻟﻰ يوم الدين

صحيح بخاری کا ایک کذاب و وضاع راوی

غلام مصطفی ظہیر امن پوری ناصبی کی جہالت اور فریب

تحریر : سید ابو هشام نجفی

ترتیب:علی ناصر

ShiaFaith.Org

دفاع بخاری میں اگر ناصبیوں کے جھوٹ و فریب کی فہرست تیار کی جائے تو خود صحیح بخاری سے بھی زخیم ہو جائے ۔ناصبیوں کی طرف سے جو غلط دعوے اس کتاب کے لیے کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک دعوٰی یہ بھی ہے کہ بخاری کے تمام راوی ثقہ یا صدوق ہیں ۔اس میں کسی کذاب یا وضاع سے روایت نہیں لی گئی ہے، مگر یہ بھی فقط دعوٰی ہے اس کے برخلاف بخاری میں کذاب راویوں کی سیکڑوں روایات موجود ہیں، یہاں ہم فقط ایک راوی کی نشاندہی کریں گے۔ چند سال پہلے غلام مصطفی امن پوری ناصبی اور اس کا شاگرد ابو یحیی نورپوری ہم سے اسی موضوع پر مناظرہ سے عمرہ کا بہانہ بنا کر فرار کر گئے تھے۔اس سبب امن پوری ناصبی کا ذکر خاص طور پر کیا ہے ۔

بخاری روایت کرتا ہے :

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایک شخص نے جس کا نام نہیں بتایا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ   میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی ( جنگ جمل و صفین میں ) مدد کرنی چاہتا ہوں، انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا، مقتول نے کیا کیا ( کہ وہ بھی ناری ہو گیا ) ؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔ حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی، میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں، ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب، یونس، ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا، ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا، پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے۔

https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-bukhari-7083

سند میں حماد نے اپنے جس شیخ کا نام چھپا دیا اس کے نام کو ابن حجر نے اجاگر کر دیا چناچہ اپنی شرح میں لکھتا ہے کہ وہ معتزلہ کا شیخ عمرو بن عبید ہے۔

"قَوْلُهُ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ هُوَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ شَيْخُ الْمُعْتَزِلَةِ”

https://shamela.ws/book/1673/7463

بخاری کے اس راوی عمرو بن عبید کے فضائل و مناقب امن پوری ناصبی کی زبانی نقل کئے دیتے ہیں تاکہ معلوم ہو یہ ناصبی بخاری سے کتنا آشنا ہے بخاری کے دفاع میں اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے:

امام اہلسنت نعیم بن حماد الخزاعی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک سے پوچھا کہ محدثین کرام نے عمرو بن عبید کو کس وجہ سے متروک قرار دیا ہے تو امام صاحب نے فرمایا:عمرو بن عبید عقیدہ قدر کا داعی تھا۔

مقدمة الجرح والتعديل لان ابي حاتم : 273 وسنده :حسن

اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ جب (داعی الیٰ البدعۃ)کی روایت قابل قبول ہے تو عمرو بن عبید کو داعی الیٰ القدر ہونے کی بنا پر متروک کیوں قرار دیا گیا؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ عمرو بن عبید پر محدثین کرام کی جروح یہ بتاتی ہیں کہ یہ "کذاب” اور "وضاع” بھی تھا۔یقیناً یہ اپنی بدعت کے لئے جھوٹ بولنا اور حدیثیں گھڑنا روا سمجھتا ہوگا۔گویا اسکی اپنی بدعت کی طرف دعوت جھوٹ اور وضع حدیث سے مرکب تھی۔ایسی مرکب دعوت راوی کو ناقبل اعتبار اور ساقط العدالت بنا دیتی ہے۔لھذا محدثین کرام نے اسے متروک قرار دیا ۔

صحیحین میں بدعتی راوی : غلام مصطفے ظہیر امن پوری

ﻣﺎﮨﻨﺎﻣﮧ ﺍﻟﺴﻨﮧ، ﺷﻤﺎﺭﮦ ﻧﻤﺒﺮ 68-67

http://mazameen.ahlesunnatpk.com/%D8%B5%D8%AD%DB%8C%D8%AD%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%AF%D8%B9%D8%AA%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%8C-%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C-%D8%B8%DB%81%DB%8C%D8%B1/

الحمدللہ! ناصبی نے خود اعتراف کیا کہ بخاری کا راوی عمرو بن عبید نہ فقط بدعتی تھا بلکہ ائمہ کے نزدیک کذاب و وضاع بھی تھا۔

ممکن ہے ناصبی اس کی یہ توجیہ کریں کہ بخاری نے متابعت میں اس سے روایت لی لہذا اس کے دوسرے طرق بھی موجود ہیں تو بخاری پر اعتراض بے جا ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً روایت کا مرکزی راوی ابوبکرہ ہی اللہ سبحانہ تعالی و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک کذاب ہے (اس کی تفصیل ہمارے ایک مضمون میں موجود ہے )ثانیا بخاری نے یہ شرط اپنی کسی کتاب میں بیان کی ہے کہ ہم اپنی صحیح میں شواہد و متابعت میں ضعیف راویوں سے بھی روایت لیں گے؟

کیا ناصبیوں کے یہاں ثقہ راویوں کا قحط تھا جو بخاری کو کذاب وضاع راویوں سے شواہد و متابعات میں روایت لینی پڑی؟

کیا بخاری نے تمام ابواب میں استدلال والی روایت کے بعد متابعت و شواہد والی روایت نقل کی ہیں؟ جواب نفی میں ہے ،تو پھر آخر کیا ضرورت پیش آئی کے بعض ابواب میں ثقہ کی روایات ہوتے ہوئے بھی ضعیف ترین راویوں سے بھی متابعت و شواہد نقل کرنے پڑے ؟ثقہ کی روایت ضعیف ترین راویوں کی متابعت و شواہد کی محتاج ہے؟ اگر نہیں تو پھر بخاری نے ضعیف ترین راویوں کے بدلے ثقہ راویوں کی روایت پر ہی اکتفا کیوں نہیں کیا؟

امن پوری تلاش کرتے کرتے جہنم واصل ہو جائے گا مگر بخاری کی کسی بھی کتاب سے یہ شرط نہیں دکھا اسکتا جس کا ادعی اس نے کیا ہے۔

بلکہ ابن قیسرانی(أبو الفضل محمد بن طاهر بن علي بن أحمد المقدسي الشيباني، المعروف بابن القيسراني) کا تمانچہ اس منافق کی منحوس صورت پر لگاتے چلیں چنانچہ جوزقانی اپنی کتاب (شروط الائمہ الستہ ) میں بخاری و مسلم کی شروطا کا موازنہ کرتے ہوئے حماد بن ابی سلمہ کے متعلق لکھا ہے بل استشهد به في مواضع؛ ليبين أنَّه ثقة

اس سے سے شواہد میں نقل کیا ہے تاکہ واضح کر سکے کہ وہ ثقہ ہے ۔

https://www.bukhari-pedia.net/book/shorot_6/2

پس معلوم ہوا بخاری کسی راوی سے شواہد میں اس سبب سے نقل کرتا ہے تاکہ اس کی توثیق واضح کر سکے ۔

معلوم ہوا بخاری نے عمرو بن عبید کی توثیق ظاہر کرنے کے لئے اس سے روایت لی اور اس پر ہوئے تمام اعتراضات و جرح کو مردود سمجھا، گویا وہ بخاری کے نزدیک دودھ کا دھلا ثقہ راوی تھا، جسے امن پوری کذاب و وضاع کہہ رہا ہے۔