اثبات کفر یزید – الباغوني الشافعي

اہلِ سنت کے علماء کے کلام میں یزید کا کفر
ابن قفطی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:

وَقَالَ ابْنُ الْقِفْطِيِّ فِي تَارِيخِهِ: إِنَّ السَّبْيَ لَمَّا وَرَدَ عَلَى يَزِيدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، خَرَجَ لِتَلَقِّيهِ، فَلَقِيَ الْأَطْفَالَ وَالنِّسَاءَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، وَالرُّءُوسُ عَلَى أَسِنَّةِ الرِّمَاحِ، وَقَدْ أَشْرَفُوا عَلَى ثَنِيَّةِ الْعُقَابِ، فَلَمَّا رَآهُمْ أَنْشَدَ:
لَمَّا بَدَتْ تِلْكَ الْحُمُولُ وَأَشْرَقَتْ
تِلْكَ الرُّءُوسُ عَلَى رُبَى جَيْرُونَ
نَعَبَ الْغُرَابُ فَقُلْتُ: قُلْ أَوْ لَا تَقُلْ
فَقَدِ اقْتَضَيْتُ مِنَ الرَّسُولِ دُيُونِي

"جب اہلِ بیتؑ کے قیدی یزید بن معاویہ کے پاس لائے گئے تو وہ ان کے استقبال کے لیے نکلا۔ اس نے حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کی اولاد میں سے بچوں اور خواتین کو دیکھا، جبکہ شہداء کے سر نیزوں کی انیوں پر بلند تھے، اور وہ ثنیۃ العقاب کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ جب یزید نے انہیں دیکھا تو اس نے یہ اشعار پڑھے:
جب وہ سواریاں نمودار ہوئیں،
اور وہ سر جیرون کی بلند زمین پر نمایاں ہوئے،
تو کوّا بولا، میں نے کہا: تو بول یا نہ بول،
میں نے تو رسول سے اپنے قرض وصول کر لیے۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے امام حسینؑ کو ان لوگوں کے بدلے قتل کیا جنہیں رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قتل کیا تھا، جیسے اس کے دادا عتبہ اور اس کے دیگر آباء و اجداد۔
اور جو شخص اس قسم کی بات کہے، وہ اسلام سے بری ہے، اور اس کے کفر میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ: جواہر المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب، جلد 2، صفحات 300–301، مجمع احیاء الثقافة الإسلامیة۔

اہلِ سنت کے علماء کے کلام میں یزید کا کفر

الباعونی( کتاب کے مصنف)لکھتے ہیں:
"اور میرا گمان نہیں کہ جس شخص نے اس (فعل) کو حلال سمجھا اور اہلِ بیتِ نبویؐ کے ساتھ ایسا طرزِ عمل اختیار کیا، اس نے اسلام کی خوشبو تک سونگھی ہو، یا حضرت محمد ﷺ پر ایمان لایا ہو، یا ایمان کی مٹھاس اس کے دل میں رچی بسی ہو۔ اور نہ ہی وہ اپنے رب پر، ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی، ایمان رکھتا تھا، حالانکہ قیامت کے دن سب اسی کے سامنے جمع کیے جائیں گے اور اپنے رب ہی کی طرف انہیں لوٹ کر جانا ہے۔”



حوالہ: جواہر المطالب في مناقب علي بن أبي طالب، جلد 2، صفحہ 312، مجمع إحياء الثقافة الإسلامية۔