مسلک اہلسنت میں حضرت علیؑ سے صرف صرف پچاس مسند احادیث صحیح ہیں
اہلِ سنت جو ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت کے تابع ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی اہلِ بیتؑ کے تابع ہیں تو دینِ اسلام میں پچاس سے زیادہ حلال و حرام، عبادات، احکام اور عقائد کے مسائل موجود ہیں، لہٰذا روایات کی تعداد ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے۔ جبکہ آپ کے علماء کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ سے صرف پچاس صحیح روایات موجود ہیں، حالانکہ شیعوں کے پاس امیرالمؤمنینؑ سے ہزاروں صحیح روایات موجود ہیں۔ ہمارے پاس تو صرف کتبِ اربعہ میں ہی 26 ہزار احادیث ہیں۔ دراصل ہمارے مذہب کی بنیاد ہی امیرالمؤمنینؑ کے عقائد اور روایات پر ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں اہلِ بیت کے تابع ہم ہیں، نہ کہ آپ جو صرف نعرہ لگاتے ہیں۔
ابن حزم لکھتے ہیں:
فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَعِشْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَنَتَيْنِ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَلَمْ يُفَارِقِ الْمَدِينَةَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، وَلَمْ يَحْتَجِ النَّاسُ إِلَى مَا عِنْدَهُ مِنَ الرِّوَايَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ كُلَّ مَنْ حَوَالَيْهِ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ حَدِيثٍ وَاثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا خَمْسُ مِائَةٍ وَسِتَّةٌ وَثَمَانُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، يَصِحُّ مِنْهَا نَحْوُ خَمْسِينَ، وَقَدْ عَاشَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزِيدَ مِنْ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ لِقَاءُ النَّاسِ إِيَّاهُ، وَحَاجَتُهُمْ إِلَى مَا عِنْدَهُ، لِذَهَابِ جُمْهُورِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَكَثُرَ سَمَاعُ أَهْلِ الْآفَاقِ مِنْهُ، مَرَّةً بِصِفِّينَ، وَأَعْوَامًا بِالْكُوفَةِ، وَمَرَّةً بِالْبَصْرَةِ وَالْمَدِينَةِ۔
اردو ترجمہ:
پس بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ (ص) کے بعد صرف دو سال اور چھ ماہ زندہ رہے، اور انہوں نے مدینہ سے باہر صرف حج یا عمرہ کے لیے ہی سفر کیا۔
لوگوں کو رسول اللہ (ص) سے روایت کرنے کے لیے ان کے پاس موجود علم کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ ان کے اردگرد موجود سب لوگ خود نبی کریم ﷺ کو پا چکے تھے۔
اس سب کے باوجود نبی کریم (ص) سے ان کے ذریعے ایک سو بیالیس (142) مسند احادیث مروی ہیں۔
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پانچ سو چھیاسی (586) مسند احادیث مروی ہیں، جن میں سے تقریباً پچاس صحیح ہیں۔
حالانکہ وہ رسول اللہ (ص) کے بعد تیس سال سے زیادہ زندہ رہے، اور لوگوں کی ان سے ملاقات بھی زیادہ رہی، اور لوگوں کو ان کے علم کی ضرورت بھی زیادہ تھی، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد دنیا سے جا چکی تھی۔
اور دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بھی ان سے بہت زیادہ سنا—کبھی صفین میں، کئی سال کوفہ میں، اور کبھی بصرہ اور مدینہ میں۔



اسکین کی طباعت:
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: دارالجيل – بيروت,الطبعة الثانية 1416ه-1996م ,ج 4 ص 108
مکتبہ شاملہ لائبریری :
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: مكتبة الخانجي – القاهرة,ج 4 ص 108
https://shamela.ws/book/6521/555
اس کا مطلب یہ ہے کہ امیرالمؤمنینؑ کی 500 روایات سب کی سب ضعیف ہیں!!
بخاری بھی کہتے ہیں:
٣٧٠٧ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ﵁ قَالَ: «اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ، حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ، أَوْ أَمُوتَُ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي».
فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى: أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَلَى عَلِيٍّ الْكَذِبُ.
یعنی: ابن سیرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؑ سے جو اکثر احادیث روایت کی جاتی ہیں وہ جھوٹی ہیں۔
الكتاب: صحيح البخاري
المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة ابن بردزبه البخاري الجعفي
تحقيق: جماعة من العلماء
الطبعة: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر، ١٣١١ هـ، بأمر السلطان عبد الحميد الثاني
ثم صَوّرها بعنايته: د. محمد زهير الناصر، وطبعها الطبعة الأولى ١٤٢٢ هـ لدى دار طوق النجاة – بيروت، مع إثراء الهوامش بترقيم الأحاديث لمحمد فؤاد عبد الباقي، والإحالة لبعض المراجع المهمة,ج 5 ص 19
https://shamela.ws/book/1681/5636




پس درحقیقت، ابنِ سیرین کی روایت کے مطابق تمہارے علمِ رجال کی بنیاد رکھنے والے کے نزدیک حضرت علی بن ابی طالبؑ سے منقول تمام روایات جھوٹ ہیں۔
ابن تیمیہ:
ابنِ تیمیہ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی کتب اور روایات کے بارے میں اہلِ سنت کے مذہب میں کہتا ہے:
اوّل یہ کہ اہلِ سنت کے علماء میں سے کسی نے بھی ان (روایات) کو قبول نہیں کیا۔
دوم یہ کہ اگر حضرت علی سے کوئی روایت، نقل یا کتاب منسوب بھی ہو تو وہ یا تو منسوخ ہو چکی ہے اور ختم ہو گئی ہے، یا اس کی نقل میں غلطی ہوئی ہے۔
لہٰذا اہلِ سنت کے کسی بھی فقیہ یا عالم نے دین اور روایت کو حضرت علی سے نہیں لیا؛ نہ امام ابو حنیفہ، نہ امام شافعی، نہ امام مالک، نہ امام احمد بن حنبل۔
🔹 مزید یہ کہ حضرت علی سے ایک کتاب منقول ہے جس میں ایسے مطالب ہیں جنہیں کسی بھی عالم نے قبول نہیں کیا، مثلاً:
“پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں واجب ہیں”، جبکہ یہ ان متواتر نصوص کے خلاف ہے جو نبی ﷺ سے منقول ہیں۔
👉 اسی وجہ سے جو کچھ حضرت علی سے روایت کیا گیا ہے، یا تو منسوخ ہے یا اس کی نقل میں غلطی ہوئی ہے۔👈
📚 (ترجمہ مختصر: منهاج السنة، ابن تیمیہ، ص 864)





🔸 ابنِ تیمیہ ایک اور جگہ کہتا ہے:
رافضی کہتے ہیں کہ فقہاء فقہ کے معاملے میں حضرت علی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
👉 اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کھلا جھوٹ ہے؛ چاروں ائمہ فقہ اور دیگر فقہاء میں سے کوئی بھی اپنے فقہ میں ان کی طرف رجوع نہیں کرتا۔👈
📚 (ترجمہ مختصر: منهاج السنة، ابن تیمیہ، ص 813)




👆 ابنِ تیمیہ صراحت سے کہتا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کی روایات یا تو غلط ہیں، یا سنت و قرآن اور دیگر صحابہ کے اقوال کے خلاف ہیں، یا منسوخ ہو چکی ہیں۔
لہٰذا اہلِ سنت کی کتب میں ان کی کوئی معتبر روایت موجود نہیں، اور اس نے تمام ائمہ اہلِ سنت کے نام لے کر بیان کیا کہ انہوں نے اہلِ بیت سے کچھ نہیں لیا اور انہیں چھوڑ دیا۔
درحقیقت اہلِ سنت نے اہلِ بیت کے مذہب کو ترک کر دیا ہے۔
⁉️ کیا رسولِ خدا ﷺ نے نہیں فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں؟”
کیا یہ نہیں فرمایا (مسلم کی روایت کے مطابق): “میرے بعد کتابِ خدا اور میری عترت سے تمسک کرو”؟
پھر تم نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟ تم نے اہلِ بیت کے مذہب کو کیوں چھوڑ دیا؟
حقیقت یہ ہے کہ کتابِ خدا اور اہلِ بیت کے مذہب پر عمل کرنا ایک مشکل کام ہے۔
بہت سے لوگ شافعی، مالکی، حنبلی یا کسی اور مذہب کو تو قبول کر لیتے ہیں، لیکن جب انہیں اہلِ بیت کے مذہب کی طرف بلایا جائے تو قبول نہیں کرتے۔
خدا کے لیے بتاؤ! کیا یہ انصاف ہے کہ تمام مذاہب کو مانا جائے مگر علماء کی طرف سے نبی ﷺ کی وصیت یعنی اہلِ بیت کے مذہب کو چھوڑ دیا جائے؟
اہلِ سنت کے علماء نے شرح صحیح مسلم میں کہا ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں “ثقلین” اس لیے کہا کہ جیسے دنیا جن و انس سے قائم ہے، ویسے ہی دین قرآن اور اہلِ بیت سے قائم ہے۔
قرآن پہلا ثقل ہے، سنت دوسرا، اور اہلِ بیت تیسرا (ثقلِ ثانی) ہیں۔
پناہ بخدا! یہ نبی ﷺ کی وصیت ہے، لیکن افسوس کہ تم نے اہلِ بیت کو چھوڑ دیا۔
ابنِ تیمیہ خود کہتا ہے کہ فقہاء میں سے کسی نے بھی حضرت علی کو اپنا پیشوا نہیں بنایا۔
حالانکہ تمہاری روایات میں حضرت علی کو اہلِ بیت کا سردار کہا گیا، چوتھا خلیفہ مانا گیا، لیکن اس کے باوجود تم نے ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا!
↙️ شاہ عبدالعزیز دہلوی کہتے ہیں:
حدیثِ ثقلین کے مطابق جو شخص دین اہلِ بیت کے علاوہ کسی اور سے لے، وہ گمراہ ہے اور اس کا مذہب باطل ہے۔
لیکن تم نے اہلِ بیت کے مذہب کو بھی ترک کر دیا!
🔷 اور یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ شیعہ اور سنی دونوں کے نزدیک یہ حدیث ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان سے تمسک رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت۔”

اب تحقیق یہ ہے کہ شیعہ اور سنی میں سے کون ان دونوں مضبوط رسیوں سے تمسک رکھتا ہے، اور کون ان کی بے حرمتی کرتا ہے اور انہیں نظر انداز کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ دینی اصول اور شرعی احکام میں نبی ﷺ نے ہمیں انہی دو عظیم چیزوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔
لہٰذا جو مذہب ان دونوں کے خلاف ہو، وہ عقیدہ اور عمل دونوں میں باطل اور ناقابلِ اعتبار ہے، اور جو ان کا انکار کرے وہ گمراہ اور دین سے خارج ہے۔
‼️ اب بار بار یہ کہنا کہ ہمارے پاس کتابیں ہیں، کوئی فائدہ نہیں دیتا؛ صرف دعوے کرنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم نے سمجھ لیا ہے کہ اپنی کتابوں میں “فضائلِ علی” کا ایک باب رکھ لینا ہی اہلِ بیت کے مذہب کو ماننے کے برابر ہے، حالانکہ یہ غلط خیال ہے۔
یہ اہلِ بیت سے محض سطحی محبت ہے۔ حدیثِ ثقلین صرف محبت کی بات نہیں کرتی۔
تمہارا اہلِ بیت کے ساتھ رویہ اس شخص جیسا ہے جس کے پاس سونے کا ٹکڑا ہو، وہ اسے روز صاف کرتا ہے مگر استعمال نہیں کرتا۔
یا بھوکا ہونے کے باوجود اس سونے کو کھانے کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ صرف اس کی تعریف کرتا رہتا ہے۔
کیونکہ اسے یہ سمجھ ہی نہیں کہ اس سونے کا مقصد کیا ہے، وہ اسے صرف زینت سمجھتا ہے۔
اسی طرح تمہارے ہاں اہلِ بیت کی حیثیت ایک بے استعمال سونے کے ٹکڑے کی طرح ہے۔



Post Comment