فقہ ناصبی میں غسل جنابت واجب ہونے کی انوکھی شرائط
ایک ملا (فقیہ) سے پوچھا گیا کہ کس حالت میں جنسی تعلق کے بعد غسل واجب ہوتا ہے؟
تو وہ کہتا ہے:
“اگر کسی مرد کا آلہ تناسل درمیان سے دو حصوں میں پھٹ جائے، اور ایک حصہ ایک عورت (بیوی) میں داخل کرے، اور دوسرا حصہ دوسری بیوی میں — تو اس پر غسل واجب ہے!”
اصل عبارت:
> "ولو شَقَّ ذَكَرَهُ نِصْفَيْنِ فَأَدْخَلَ أَحَدَهُمَا فِي زَوْجَةٍ وَالْآخَرَ فِي زَوْجَةٍ أُخْرَى وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَهُمَا، وَلَوْ أَدْخَلَ أَحَدَهُمَا فِي قُبُلِهَا وَالْأُخْرَى فِي دُبُرِهَا وَجَبَ الْغُسْلُ”
ترجمہ:
اگر کسی مرد کا آلہ تناسل دو حصوں میں پھٹ جائے، اور ایک حصہ ایک بیوی میں داخل کرے اور دوسرا حصہ دوسری بیوی میں، تو غسل صرف اسی مرد پر واجب ہوگا، عورتوں پر نہیں۔
اور اگر ایک حصہ عورت کی شرمگاہ (آگے) میں داخل کرے اور دوسرا حصہ اس کے پچھلے حصے (مقعد) میں داخل کرے، تب بھی غسل واجب ہوگا۔
حوالہ:
الكتاب: تحفة المحتاج في شرح المنهاج
المؤلف: أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي [ت ٩٧٤ هـ]
روجعت وصححت: على عدة نسخ بمعرفة لجنة من العلماء
الناشر: المكتبة التجارية الكبرى بمصر لصاحبها مصطفى محمد
عام النشر: ١٣٥٧ هـ – ١٩٨٣ م
https://shamela.ws/book/9059/261

اب خود دیکھئے — یہ مولوی حضرات کن گندی خیالات
میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ایسی بیہودہ اور شرمناک مثالیں اپنی فقہی کتابوں میں لکھتے ہیں!
کیا ایک پاک و شریف عالم کبھی ایسے موضوعات پر سوچ بھی سکتا ہے؟
یعنی اگر آلہ تناسل دو ٹکڑوں میں ہے اور چاک ہے درمیان سے دو الگ شرمگاہ میں دخول ہو رہا ہے تو صرف مرد پر غسل واجب ہے ۔
لیکن وہی دو حصہ ایک ہی عورت کے قبل اور دبر میں داخل ہو رہا ہے تو دونوں پر غسل واجب ہے ۔


