لواطت پر فقہ اہلسنت میں نرمی در حقیقت اس فعل بد کی ترویج ہے
‼️اہلِ سنت (عمریہ) علما کی لواط کے حکم میں سستی اور قومِ لوط کے عمل کی ترویج‼️
مردوں کے ساتھ لواط کا حکم:
🔹حكم اللواطة بِالرِّجَالِ
واما اللواط بِالرِّجَالِ فانه لَيْسَ فِي التَّحْرِيم كالجماع وَلَا يحرم شَيْئا
وَحده كَحَد الزِّنَا فِي قَول النَّخعِيّ وابي يُوسُف وَمُحَمّد وابي عبد الله وَفِي قَول ابي حنيفَة لَيْسَ فِيهِ حد وَفِيه التَّعْزِير
مردوں کے ساتھ لواط (ہم جنس پرستی) کی حرمت زنا (جماع) کی حرمت جیسی نہیں ہے، اور یہ کسی کو کسی پر ہمیشہ کے لیے حرام نہیں بناتی۔
نخعی، ابو یوسف، محمد، اور ابو عبداللہ کے نزدیک اس پر زنا جیسا حد جاری کی جائے گی،
لیکن ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر کوئی حد جاری نہیں ہوتی بلکہ صرف تعزیر (اختیاری سزا) دی جائے گی۔
الكتاب: النتف في الفتاوى
المؤلف: أبو الحسن علي بن الحسين بن محمد السُّغْدي، (ت ٤٦١ هـ ببخارى)
المحقق: المحامي الدكتور صلاح الدين الناهي
الناشر: (مؤسسة الرسالة – بيروت)، (دار الفرقان – عمان)
عدد الأجزاء: ٢ (متسلسلة الترقيم)
الطبعة: الثانية، ١٤٠٤ – ١٩٨٤، ج 1 ص 269
https://shamela.ws/book/6178/266


✔️ تعزیر کا مطلب اہلِ سنت (عمریہ) علما کے نزدیک یہ ہے کہ اگر حاکم چاہے تو مجرم کو معاف کر دے،
اور اگر نہ چاہے تو اسے 1 سے 79 کوڑے تک مار سکتا ہے۔
صحیح بخاری (جلد 6، صفحہ 2512، حدیث 6456 تا 6458، باب "کم التعزیز والأدب”) میں روایت ہے کہ کسی کو دس کوڑوں سے زیادہ نہیں مارا جا سکتا، کیونکہ وہ حد کے زمرے میں آتا ہے۔
بدقسمتی سے، لواط کے بارے میں اسی سہل انگاری (نرمی اور چشم پوشی) کی وجہ سے بعض مشہور علما — جیسے خطیب بغدادی، یحییٰ بن اکثم، ابن خلکان، یحییٰ بن معین، اور اکثر معاصر علمائے اہل سنت، نیز ان کے خلفا — اس فعل کو خود انجام دیتے تھے یا اسے جائز سمجھتے تھے۔


