ابن تیمیہ کا قول رسول (ص) سے مخالفت
🔹 قاتلِ عمار بن یاسرؓ کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان اور ابنِ تیمیہ کا موقف
رسولِ خدا ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کے قاتل کے بارے میں صاف اور واضح الفاظ میں فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔
لیکن ابنِ تیمیہ نے اس کے برخلاف موقف اختیار کرتے ہوئے قاتلِ عمار کو جنتی قرار دیا۔
یہی ہے ناصبیوں کا منہج — جہاں ان کے "ائمۂ فکر” کا دفاع، قولِ رسول ﷺ کی مخالفت اور تکذیب سے بھی زیادہ اہم بن جاتا ہے۔
📜 مسندِ احمد کی روایت:
امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں یہ حدیث نقل کی ہے:
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ، قَالَ:
قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ”.
فَقِيلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ! قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ.
(مسند أحمد، حدیث رقم: 17439)
ترجمہ:
ابو غادیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو یہ خبر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔
انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:
"عمار کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا۔”
لوگوں نے کہا: آپ بھی تو ان سے جنگ کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے قاتل اور سامان لوٹنے والے کے بارے میں فرمایا تھا (جنگ کرنے والے کے بارے میں نہیں)۔
مسند الإمام احمد بن حنبل ،ج 13 ص 491

📖 حمزہ احمد الزین نے اس حدیث کی سند کو "حسن” قرار دیا ہے۔
⚖️ ابنِ تیمیہ کا موقف
ابنِ تیمیہ نے اپنی کتاب میں لکھا:
وَالَّذِي قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ هُوَ أَبُو الْغَادِيَةِ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ، ذَكَرَ ذَلِكَ ابْنُ حَزْمٍ.
فَنَحْنُ نَشْهَدُ لِعَمَّارٍ بِالْجَنَّةِ، وَلِقَاتِلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ بِالْجَنَّةِ.
ترجمہ:
عمار بن یاسر کو ابو الغادیہ نے قتل کیا، اور کہا گیا ہے کہ وہ بیعتِ رضوان میں شامل تھا (جیسا کہ ابنِ حزم نے ذکر کیا ہے)۔
لہٰذا ہم عمارؓ کے لیے جنت کی گواہی دیتے ہیں،
اور اگر اس کا قاتل بیعتِ رضوان والوں میں سے ہے تو اس کے لیے بھی جنت کی گواہی دیتے ہیں۔
الكتاب: منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية
المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد الله بن أبي القاسم بن محمد ابن تيمية الحراني الحنبلي الدمشقي (ت ٧٢٨هـ)
المحقق: محمد رشاد سالم
الناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية
الطبعة: الأولى، ١٤٠٦ هـ – ١٩٨٦ م، ج 6 ص 205
https://shamela.ws/book/927/3035

🔻 خلاصہ
یوں ابنِ تیمیہ نے براہِ راست قولِ رسول ﷺ کے برخلاف قاتلِ عمار بن یاسر کے لیے جنت کی بشارت دی —
حالانکہ خود نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:
"إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ”
"بے شک اس کا قاتل اور سامان لوٹنے والا جہنم میں ہے۔”