قاتل(عمر بن سعد بن ابی وقاص) اور مقتول(امام حسین علیہ السلام) دونوں رضی اللہ – ابن خلكان البرمكي الإربلي

ابن خلکان، اپنی کتاب وفیات الاعیان میں بڑے اہتمام کے ساتھ نامور شخصیات کے حالات اور کردار بیان کرتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات اس کی عبارات تاریخ اور شریعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ ایک نمایاں مثال امام حسین علیہ السلام اور عمر بن سعد بن ابی وقاص کے حوالے سے ہے، جہاں وہ دونوں کو "رضی اللہ عنہ” کہتا ہے۔

یہ موقف اسلامی اصول اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امام حسین علیہ السلام نے دینِ اسلام کی بقاء اور حق کی راہ میں اپنی جان نچھاور کی، جبکہ عمر بن سعد نے یزید کی فوج کے ساتھ مل کر مظلوم امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے میں کردار ادا کیا۔ حق اور باطل کی اس واضح تمیز میں، یہ تصور کرنا کہ دونوں پر اللہ کا رضا نازل ہوا، محال اور غیر معقول ہے۔

ابن خلکان لکھتا ہے:

فَخَرَجَ الحُسَيْنُ إِلَى الكُوفَةِ وَأَمِيرُهَا يَوْمَئِذٍ عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ زِيَادٍ،
فَلَمَّا قَرُبَ مِنْهَا سَيَّرَ إِلَيْهِ جَيْشًا مُقَدَّمَهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،
فَقُتِلَ الحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالطَّفِّ، وَجَرَى مَا جَرَى.

پس امام حسینؓ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے،
اور اس وقت کوفہ کا حاکم عبید اللہ بن زیاد تھا۔

جب وہ کوفہ کے قریب پہنچے،
تو (عبید اللہ بن زیاد) نے ان کے مقابلے کے لیے ایک لشکر روانہ کیا
جس کی قیادت عمر بن سعد بن ابی وقاصؓ کر رہا تھا۔

چنانچہ امام حسینؓ میدانِ طف میں شہید کیے گئے،
اور جو کچھ ہونا تھا وہ ہو گیا۔

الكتاب: وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان
المؤلف: أبو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن إبراهيم بن أبي بكر ابن خلكان البرمكي الإربلي (ت ٦٨١هـ)
المحقق: إحسان عباس
الناشر: دار صادر – بيروت، ج 6 ص 353

https://shamela.ws/book/1000/2773