فقہ حنفی کی نماز

❓ سوال:
وہ نماز جس میں نیت نہ ہو، وضو شراب نبیذ سے کیا جائے، تکبیر اور قراءت فارسی میں ہو، لباس کتے کی کھال کا ہو، اور اختتام پاد (ضرط) کے ساتھ ہو — یہ نماز کس فقہ سے تعلق رکھتی ہے؟

✅ جواب:
یہ نماز فقہِ حنفی کے مطابق ہے — وہی فقہ جس کے بارے میں مولوی حضرات کہتے ہیں کہ "ایک ارب لوگ اس کے پیرو ہیں” 


سلطان محمود صاحب الدولہ کا واقعہ:

ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں، اور امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں، اور دیگر اہل سنت مؤرخین نے سلطان محمود صاحب الدولہ (جو خراسان و ہند کے سنی بادشاہوں میں سے تھے) کے حالات میں لکھا ہے کہ:

امام الحرمین ابو المعالی عبد الملک الجوینی (مشہور امامِ شافعی) نے اپنی کتاب "مغیث الخلق فی اختیار الأحق” میں یہ واقعہ بیان کیا کہ:
وذكر إمام الحرمين أبو المعالي عبد الملك الجويني – المقدم ذكره – في كتابه الذي سماه ” مغيث الخلق في اختيار الأحق ” أن السلطان محموداً المذكور كان على مذهب أبي حنيفة، رضي الله عنه، وكان مولعاً بعلم الحديث، وكانوا يسمعون الحيث من الشيوخ بين يديه، وهو يسمع، وكان يستفسر الحاديث، فوجد أكثرها موافقاً لمذهب الشافعي رضي الله عنه، فوقع في خلده (3) حكة، فجمع الفقهاء من الفريقين في مرو، والتمس منهم الكلام في ترجيح أحد المذهبين على الآخر، فوقع الاتفاق على أن يصلوا بين يديه ركعتين على مذهب الإمام الشافعي، رضي الله عنه، وعلى مذهب أبي حنيفة، رضي الله عنه، لينظر فيه السلطان، ويتفكر ويختار ما هو أحسنهما، فصلى القفال المروزي – وقد تقدم ذكره – بطهارة مسبغة وشرائط معتبرة من الطهارة والسترة واستقبال القبلة، وأتى بالأركان والهيئات والسنن والآداب والفرائض على وجه الكمال والتمام، وقال: هذه صلاة لا يجوز الإمام الشافعي دونها رضي الله عنه، ثم صلى ركعتين على ما يجوز أبو حنيفة رضي الله عنه، فلبس جلد كلب مدبوغاً ولطخ ربعه بالنجاسة، وتوضأ بنبيذ التمر، وكان في صميم الصيف في المفازة، واجتمع عليه الذباب والبعوض، وكان وضوءه منكساً منعكساً، ثم استقبل القبلة، وأحرم بالصلاة من غير نية في الوضوء، وكبر بالفارسية دو بركك سبز، ثم نقر نقرتين كنقرات الديك من غير فصل ومن غير ركوع، وتشهد، وضرط في آخره، من غير نية السلام، وقال: أيها السلطان، هذه صلاة أبي حنيفة ، فقال السلطان، لو لم تكن هذه الصلاة صلاة أبي حنيفة لقتلك، لأن مثل هذه الصلاة لا يجوزها ذو دين، فأنكرت الحنفية أن تكون هذه صلة أبي حنيفة، فأمر القفال بإحضار كتب أبي حنيفة، وأمر السلطان نصرانياً كاتباً يقرأ المذهبين جميعاً، فوجدت الصلاة على مذهب أبي حنيفة على ما حكاه القفال، فأعرض السلطان عن مذهب أبي حنيفة، وتمسك بمذهب الشافعي رضي الله عنه؛ انتهى كلام إمام الحرمين.وكانت مناقب السلطان محمود كثيرة، وسيرته من أحسن السير
> سلطان محمود حنفی فقہ پر تھا، اور علمِ حدیث سے بہت محبت رکھتا تھا۔ وہ خود حدیث سننے میں شریک رہتا اور شیوخ سے سوالات کرتا۔
جب اس نے احادیث کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ اکثر احادیث فقہِ شافعی کے موافق ہیں، فقہِ حنفی کے نہیں۔
یہ بات اس کے دل میں چبھ گئی۔
چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ دونوں فقہوں کے علما کو جمع کرے تاکہ وہ اس کے سامنے دلائل پیش کریں۔

آخر کار یہ طے پایا کہ دونوں فقہوں کے مطابق دو رکعت نماز اس کے سامنے ادا کی جائے تاکہ وہ خود دیکھے کہ کون سی نماز زیادہ صحیح ہے۔

فقہِ شافعی کے مطابق نماز:

سب سے پہلے قفال مروزی (جنہیں امام ذہبی نے علامہ، امام کبیر کہا ہے) نے نماز پڑھی۔
انہوں نے مکمل طہارت کے ساتھ، شرائط کے مطابق، قبلہ رخ ہوکر، تمام ارکان، سنن، آداب اور فرائض کو پورا کرتے ہوئے خوبصورت طریقے سے دو رکعت نماز ادا کی۔
پھر کہا:

> "یہ وہ نماز ہے جسے امام شافعیؒ کے نزدیک ادا کرنا درست ہے۔”

 فقہِ حنفی کے مطابق نماز:

پھر اس نے دوسری نماز پڑھی — جو فقہِ حنفی کے مطابق تھی:
اس نے کتے کی دباغت شدہ کھال کا لباس پہنا جس پر نجاست بھی ملی ہوئی تھی،
نبیذِ تمر (کھجور کی شراب) سے وضو کیا،
اور چونکہ موسم سخت گرمی کا تھا، اس کے اردگرد مکھیاں اور مچھر جمع ہوگئے۔
اس نے الٹا وضو کیا (یعنی پاؤں سے شروع کر کے چہرے پر ختم کیا)۔

پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے بغیر نیت کے نماز شروع کی،
تکبیر فارسی میں کہی: “دو برگ سبز”
(یعنی: دو سبز پتے )

پھر مرغ کی چونچ مارنے کی طرح دو جھٹکے لگا کر نماز ختم کردی — نہ رکوع کیا، نہ سجدہ، نہ تشہد، نہ سلام —
بلکہ آخر میں پاد (ضرط) دے کر نماز ختم کی۔
اور بولا:
> "اے سلطان! یہ وہ نماز ہے جو امام ابوحنیفہ کے مطابق صحیح ہے۔”

⚖️ سلطان کا فیصلہ:

سلطان محمود نے غصے سے کہا:

> “اگر یہ نماز امام ابوحنیفہ کی نہ ہوتی، تو میں تجھے قتل کر دیتا، کیونکہ کوئی صاحبِ دین شخص ایسی نماز کو جائز نہیں کہہ سکتا!”

احناف نے فوراً انکار کیا کہ یہ نماز ابوحنیفہ کی نہیں۔
تو قفال نے حکم دیا کہ ابوحنیفہ کی اصل کتابیں لائی جائیں۔

سلطان نے ایک عیسائی عالم و کاتب کو حکم دیا کہ وہ دونوں فقہوں کی کتابیں غیر جانب داری سے پڑھے اور موازنہ کرے۔
جب اس نے موازنہ کیا تو پایا کہ واقعی وہ نماز ابوحنیفہ کی فقہ کے مطابق ہی ہے — جیسی قفال نے بیان کی تھی۔

چنانچہ سلطان محمود نے اسی وقت فقہِ حنفی سے منہ موڑ لیا اور فقہِ شافعی کو اختیار کر لیا۔


 اختتامیہ

امام ذہبی نے لکھا:
"كان صادق النية في إعلاء الدين"
> "سلطان محمود کی نیت دین کی سربلندی میں صادق تھی،
اس کی سیرت نیک اور طرزِ عمل بہترین تھا۔”

 مراجع:

وفیات الاعیان، جلد 5، صفحہ 181

سیر اعلام النبلاء، جلد 17، صفحہ 406، رقم 267

قفال کے بارے میں ذہبی کا بیان:
267 – القفال * الامام العلامة الكبير، شيخ الشافعية..قال الفقيه ناصر العمري: لم يكن في زمان أبي بكر القفال أفقه منه، ولا يكون بعده مثله، وكنا نقول: إنه ملك في صورة الانسان.حدث، وأملى، وكان رأسا في الفقه، قدوة في الزهد

وہ امام، علامہ اور بہت بڑے عالم تھے۔ شافعیہ کے شیخ شمار ہوتے تھے۔

فقیہ ناصر العمری کہتے ہیں:
"ابوبکر قفال کے زمانے میں ان سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں تھا، اور ان کے بعد بھی ان جیسا کوئی نہیں آئے گا۔ ہم ہمیشہ کہا کرتے تھے: وہ ایک فرشتہ ہیں جو انسانی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں!”

انہوں نے حدیث بھی بیان کی، املاء (روایت و تدریس) بھی کی، وہ فقہ میں سردار اور زہد و پارسائی میں نمونہ تھے۔

 (سیر اعلام النبلاء،  267)

یہ ہے وہ مذہب جس پر مولوی فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
"ہم احناف ایک ارب ہیں!”