خطیب بغدادی اور ابن الأنماطی کی لونڈے بازی

⚠️ علماء اہلسنت کی لونڈے بازی:

⭕️ خطیب بغدادی کی لونڈے بازی:
امام ذهبی نے سیر أعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ خطیب بغدادی کو بچہ بازی کے سبب بغداد سے نکال دیا گیا۔

قال الذَّهَبِيُّ في سير أعلام النبلاء عن مَكِّيِّ بنِ عبدِ السَّلامِ الرُّمَيْلِيِّ:

> مُحَمَّدُ بنُ طَاهِرٍ: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بنُ عبد السَّلاَم الرُّمَيْلِي قَالَ: كَانَ سَبَبُ خُرُوْج الخَطِيْب مِنْ دِمَشْقَ إِلَى صُوْر، أَنَّهُ كَانَ يَخْتلف إِلَيْهِ صَبِيٌّ مليح، فَتكلّم في ذلك.

ترجمہ:
ذهبی نے سیر اعلام النبلاء میں مکی بن عبدالسلام الرمِیلی سے نقل کیا ہے کہ خطیب بغدادی کے دمشق سے صور کی طرف نکلنے کا سبب یہ تھا کہ ایک خوبصورت لڑکا اس کے پاس آتا جاتا تھا، اس پر لوگوں نے باتیں شروع کر دیں۔

الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين، محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: حسين أسد (جـ ١، ٦)، شعيب الأرنؤوط (جـ ٢، ٥، ١٩، ٢٠)، محمد نعيم العرقسوسي (جـ ٣، ٨، ١٠، ١٧، ١٨، ٢٠)، مأمون الصاغرجي (جـ ٤)، علي أبو زيد (جـ ٧، ١٣)، كامل الخراط (جـ ٩)، صالح السمر (جـ ١١، ١٢)، أكرم البوشي (جـ ١٤، ١٦)، إبراهيم الزيبق (جـ ١٥)، بشار معروف (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)، محيي هلال السرحان (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)
بإشراف: شعيب الأرناؤوط [ت ١٤٣٨ هـ]
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م ،ج 18 ص 281

https://shamela.ws/book/10906/11360


📜 خطیب بغدادی کی لونڈے بازی پر تاریخی روایت جمال الدين، أبو الحسن، علي بن يوسف القفطي نقل کرتے ہیں :

🔹 محمد بن ناصر بن محمد بن علی بن عمر السَّلامی (ابوالفضل)

یہ بزرگ بغداد کے مشرقی حصّے میں واقع محلّہ دَربُ الشاکریّة کے رہائشی تھے۔
حافظِ حدیث، نہایت ماہر و دقیق فہم عالم، اور عربی زبان و ادب کے کامل فاضل تھے۔

انہوں نے ادب و بلاغت کی تعلیم ابو زکریا یحییٰ بن علی خطیب تبریزی سے حاصل کی۔
محمد بن ناصر اپنے زمانے میں علمِ رجال (یعنی راویوں کی پہچان، جرح و تعدیل) کے ماہر تھے۔
راویوں کے بارے میں باریک بینی سے گفتگو کرتے، ان کی جرح و تعدیل بیان کرتے،
اور اپنی صحیح و خوش خط تحریر کی وجہ سے مشہور تھے۔

وہ علمی فوائد کی جستجو میں رہتے اور انہیں نہایت اہتمام سے تحریر و محفوظ کرتے۔
محدثین و طلبۂ علم ان سے روایتیں نقل کرتے اور ان کے اقوال کو کثرت سے روایت کیا گیا۔


🔸 ان کی پیدائش کے متعلق

جب ان سے ان کے مولد (پیدائش) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

"میں بروز ہفتہ، پندرہ شعبان، سنہ 467 ہجری کو پیدا ہوا۔”

ان کی والدہ کے نانا ابو حکیم الخبرى الفرضی تھے۔


🔸 خطیب بغدادی کی طرف میلان کا واقعہ

روایت میں آتا ہے کہ:

ان کے والد اپنے زمانے میں بغداد کے حسین ترین نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔
اسی وجہ سے خطیب احمد بن علی بن ثابت البغدادی (مشہور محدث و مؤرخ)
ان کی خوبصورتی کی بنا پر ان کی طرف مائل تھے۔

مزید کہا گیا ہے کہ:

محمد بن ناصر خود بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے،
بلکہ بعض اوقات خود اس کا ذکر فخر سے کرتے
اور اپنے والد کو "حَسَن” (خوبصورت) اور "ذو صَبابة” (محبت و جوانی میں پرجوش) قرار دیتے۔

ایک موقع پر کسی نے ان سے کہا:

“خطیب احمد بن علی بن ثابت، ابن خیرون کے حسن کی وجہ سے ان کی طرف مائل تھے۔”

تو محمد بن ناصر نے مسکرا کر فرمایا:

“نہیں، ان کا میلان تو میرے والد کی طرف زیادہ تھا۔”

الكتاب: إنباه الرواة على أنباه النحاة
المؤلف: جمال الدين، أبو الحسن، علي بن يوسف القفطي [ت ٦٢٤ هـ كذا على غلاف مطبوعه! والصواب ٦٤٦ هـ كما في ١/ ١٦ من مقدمة المحقق؛ وفقا لمصادر ترجمته]
المحقق: محمد أبو الفضل إبراهيم [ت ١٤٠١ هـ]
الناشر: دار الفكر العربي – القاهرة، ومؤسسة الكتب الثقافية – بيروت
الطبعة: الأولى، ١٤٠٦ هـ – ١٩٨٢ م.
ج 3 ص 222
https://shamela.ws/book/10525/1035

⭕️ ابن الأنماطی کی لونڈے بازی:
امام ذهبی نے سیر أعلام النبلاء میں اس کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ماہر حافظ اور محدث تھا، لیکن بچہ باز تھا۔

قال الذَّهَبِيُّ في سير أعلام النبلاء:

> الحافظُ البارِعُ مفيدُ الشام… وقال عمرُ بنُ الحاجِبِ: كانَ إماماً ثِقةً حافظاً مُبرَّزاً فصيحاً، سألتُ عنه الحافظَ الضِّياءَ فقالَ: حافظٌ ثقةٌ مفيدٌ إلا أنَّه كثيرُ الدُّعابةِ مع المُرْدِ.

ترجمہ:
ذهبی نے سیر اعلام النبلاء میں ابن الأنماطی کے بارے میں کہا:
“وہ حافظِ ماہر اور شام کے لوگوں کے لیے مفید تھا… عمر بن حاجب نے کہا: وہ امام، ثقہ، حافظ، ممتاز اور فصیح انسان تھا۔ میں نے حافظ ضیاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا: وہ حافظ، ثقہ اور مفید ہے مگر نوعمر لڑکوں (ریش نہ نکلنے والے نوجوانوں) کے ساتھ بہت مزاح و شوخی کرتا تھا۔”

الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين، محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (ت ٧٤٨ هـ)
تحقيق: حسين أسد (جـ ١، ٦)، شعيب الأرنؤوط (جـ ٢، ٥، ١٩، ٢٠)، محمد نعيم العرقسوسي (جـ ٣، ٨، ١٠، ١٧، ١٨، ٢٠)، مأمون الصاغرجي (جـ ٤)، علي أبو زيد (جـ ٧، ١٣)، كامل الخراط (جـ ٩)، صالح السمر (جـ ١١، ١٢)، أكرم البوشي (جـ ١٤، ١٦)، إبراهيم الزيبق (جـ ١٥)، بشار معروف (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)، محيي هلال السرحان (جـ ٢١، ٢٢، ٢٣)
بإشراف: شعيب الأرناؤوط [ت ١٤٣٨ هـ]
الناشر: مؤسسة الرسالة
الطبعة: الثالثة، ١٤٠٥ هـ – ١٩٨٥ م،ج 22 ص 173-174

https://shamela.ws/book/10906/13606